• Tue, 24 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کروشین صدر نے ’’ناقابل قبول طرز عمل‘‘ پر اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون معطل کردیا

Updated: February 24, 2026, 9:13 PM IST | Zagreb

کروشین صدر نے ’’ناقابل قبول طرز عمل‘‘ پر اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون معطل کردیا ، صدر میلانوویچ نے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیا، جبکہ وزیر دفاع نے صنعتی تعلقات جاری رکھنے کا اشارہ دیا۔

Croatia`s president Zoran Milanovic. Photo: X
کروشیا کے صدر زوران میلانوویچ۔ تصویر: ایکس
کروشیا کے صدر زوران میلانوویچ نے کہا ہے کہ انہوں نے کروشین مسلح افواج اور اسرائیلی فوج کے درمیان تمام تعاون کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے، جس کی وجہ ان کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیاں ہیں۔پیر کو سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان میں، میلانوویچ نے کہا کہ ’’اسرائیلی فوج کے ناقابل قبول طرز عمل اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تمام اصولوں کی خلاف ورزی کی وجہ سے، انہوں نے گزشتہ سال مئی میں ہی کروشین مسلح افواج اور اسرائیلی فوج کے درمیان تمام تعاون ختم کرنے کا حکم دے دیا تھا، جو کروشین فوج کے تمام ارکان پر محیط ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی وقت، انہوں نے کروشین حکومت سے اسرائیل کے ساتھ ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی کسی بھی قسم کی  تجارت کو روکنےکا مطالبہ کیا تھا۔تاہم میلانوویچ نے کہا کہ حالیہ ٹیلیفونک بات چیت میں، انہوں نے وزیراعظم آندری پلینکوویچ کو براہ راست خبردار کیا کہ ’’اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون کی کوئی بھی شکل ناقابل قبول ہوگی۔‘‘ پیر کو وزیر دفاع ایوان انوشیچ کے اسرائیل کے سرکاری دورے کا حوالہ دیتے ہوئے، جہاں انہوں نے اسرائیلی دفاعی صنعت کی کمپنیوں کے نمائندوں اور اسرائیلی وزارت دفاع میں بین الاقوامی دفاعی تعاون کے ڈائریکٹوریٹ کے عہدیداروں سے ملاقات کی، میلانوویچ نے زور دے کر کہا کہ’’ بطور کروشین مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف، وہ دہراتے ہیں کہ کروشین مسلح افواج اب اور مستقبل میں کسی بھی طرح سے اسرائیلی فوج کے ساتھ تعاون نہیں کرے گی۔‘‘انہوں نے مزید واضح کیا کہ "جمہوریہ کروشیا کو کسی بھی نقصان سے بچنے کے لیے، کروشین مسلح افواج کے ارکان اسرائیلی فوج یا اسرائیلی دفاعی صنعت کے ساتھ کسی بھی معاہدے، ٹھیکے یا انتظام کے نفاذ میں کسی بھی طرح حصہ نہیں لیں گے۔‘‘
 
 
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاہدے اس لیے ناقابل عمل اور کروشیا کے لیے نقصان دہ ہوں گے۔‘‘ میلانوویچ نے حکومت سے، جو فوجی سازوسامان اور ہتھیاروں کی خریداری کی ذمہ دار ہے، مطالبہ کیا کہ’’ وہ تمام منصوبہ بند معاہدوں، ٹھیکوں یا انتظامات کو روک دے جن میں اسرائیل سے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی خریداری شامل ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ کروشیا کے قومی مفادات کے مطابق کام کریں، جس میں ان کے مطابق نیٹو اتحادیوں کے ساتھ تعاون اور فوجی سازوسامان کی تیاری میں براہ راست یا بالواسطہ حصہ لینے کے لیے کروشین صنعت کی صلاحیت کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
 
 
جبکہ انوشیچ نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ تل ابیب کے دورے کے دوران، انہوں نے اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز سے ملاقات کی اور دفاعی وزرا کی سطح پر دوطرفہ تعاون مضبوط بنانےکے ساتھ کروشین اور اسرائیلی دفاعی صنعتوں کے مابین قریبی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔ان کا کہنا تھا کہ بات چیت میں تجربات اور علم کے تبادلے پر توجہ مرکوز کی گئی، خاص طور پر جدید اسرائیلی ٹیکنالوجی میں، بشمول ٹرافی ایکٹیو پروٹیکشن سسٹم، جو کروشیا کے ذریعے  خریدی جا رہی جرمن لیپرڈ ۲؍ اے ۸؍ٹینکوں میں نصب کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کاٹز کا ٹرافی سسٹم کے لیے برآمدی لائسنس دینے پر شکریہ ادا کیا، اور کہا کہ یہ لیپرڈ ۲؍ اے ۸؍ کو "دنیا کے بہترین ٹینکوں میں سے ایک بناتا ہے۔انوشیچ نے کہا، اسرائیلی صنعت کے ساتھ تعاون کی بڑی صلاحیت ہے، اور وزارت دفاع اپنی مسلح افواج اور کروشیا کی سلامتی کے فائدے کے لیے اسے فروغ دینا جاری رکھے گی۔‘‘

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK