• Tue, 24 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

این سی ای آر ٹی کی درسی کتاب میں عدالتی بدعنوانی اور زیر التوا مقدمات کا ذکر

Updated: February 24, 2026, 9:12 PM IST | New Delhi

این سی ای آر ٹی نے جماعت ہشتم کی سماجی علوم کی کتابوں میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے عدلیہ میں بدعنوانی، مقدمات کے بوجھ اور تاریخِ آزادی کے بعض پہلوؤں پر نئے مباحث شامل کر دیئے ہیں۔ نئے نصاب میں ۱۹۴۷ء کی تقسیمِ ہند، جلیانوالہ باغ سانحہ اور قوم پرستی کے تاریخی عوامل کو بھی زیادہ وضاحت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

Cover of NCERT Class 8 Social Sciences book. Photo: INN
این سی ای آر ٹی کی ہشتم جماعت کی سوشل سائنسز کتاب کا سر ورق۔ تصویر: آئی این این

این سی ای آر ٹی (NCERT )نے جماعت ہشتم کی سماجی علوم کی درسی کتابوں میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں اور پہلی مرتبہ عدلیہ میں بدعنوانی سے متعلق ایک حصہ شامل کیا ہے۔ نئی اشاعت پہلے کی کتابوں سے مختلف ہے، جن میں زیادہ تر عدالتوں کے کام کرنے کے طریقے پر توجہ دی جاتی تھی۔ یہ تبدیلیاں نیشنل ایجوکیشنل پالیس( این ای پی) اور نیشنل کریکولم فریم ورک فار اسکول ایجوکیشن(NCFSE) ۲۰۲۳ء کے تحت کی گئی ہیں۔ 
عدلیہ میں بدعنوانی
نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ نے اپنی جماعت ہشتم کی سماجی علوم کی کتاب میں عدلیہ کے اندر بدعنوانی پر ایک نیا حصہ شامل کیا ہے۔ نظرثانی شدہ باب ’’ہمارے معاشرے میں عدلیہ کا کردار‘‘(The Role of the Judiciary in Our Society)اب بھی عدالتوں کے نظامِ درجہ بندی اور انصاف تک رسائی کے تصور کو بیان کرتا ہے، لیکن اب اس میں نظام کی کمزوریوں، مثلاً بدعنوانی اور مقدمات کے بڑے بیک لاگ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کتاب میں مسئلے کی سنگینی کو اعداد و شمار کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق ملک بھر کی عدالتوں میں تقریباً۵؍ کروڑ ۳۳؍ لاکھ ۲۱؍ ہزار مقدمات زیرِ التوا ہیں۔ جن میں سپریم کورٹ میں تقریباً ۸۱؍ ہزار مقدمات، ہائی کورٹس میں تقریباً۶۲ء۴؍ لاکھ مقدمات اورضلع اور ماتحت عدالتوں میں تقریباً ۴؍ کروڑ ۷۰؍ لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کے سب سے بڑے بیف ایکسپورٹر کا بی جے پی کو بڑا عطیہ، بحث تیز

ججوں کے بارے میں این سی ای آر ٹی کیا کہتا ہے؟
بدعنوانی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کتاب بتاتی ہے کہ جج صاحبان ایک ضابطۂ اخلاق کے پابند ہوتے ہیں جو عدالت کے اندر اور باہر ان کے رویّے کو منظم کرتا ہے۔ کتاب کے مطابق عدلیہ کے ارکان کے خلاف شکایات Centralised Public Grievance Redress and Monitoring System کے ذریعے درج کرائی جا سکتی ہیں۔ ۲۰۱۷ء سے۲۰۲۱ء کے درمیان اس نظام کے ذریعے ۱۶۰۰؍سے زائد شکایات موصول ہوئیں۔ کتاب میں جج کو عہدے سے ہٹانے کے آئینی طریقۂ کار کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔ اگر الزامات سنگین ہوں تو پارلیمنٹ مواخذے کی قرارداد منظور کرکے جج کو ہٹا سکتی ہے۔ اس سے پہلے باقاعدہ تحقیقات ہوتی ہیں اور جج کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا جاتا ہے۔ 
عوامی اعتماد کا مسئلہ
باب میں عوامی تاثر اور خدشات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کتاب کے مطابق لوگوں کو عدلیہ کی مختلف سطحوں پر بدعنوانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ غریب اور محروم طبقات کیلئے یہ مسئلہ انصاف تک رسائی کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔ متن میں کہا گیا ہے کہ ریاستی اور مرکزی حکومتیں شفافیت بڑھانے کیلئے کام کر رہی ہیں، جن میں ٹیکنالوجی کا استعمال اور بدعنوانی ثابت ہونے پر فوری کارروائی شامل ہے۔ کتاب میں سابق چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی کا حوالہ بھی دیا گیا ہے کہ بدعنوانی اور بدانتظامی عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہیں، اور اعتماد کی بحالی تیز، فیصلہ کن اور شفاف اقدامات سے ہی ممکن ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: پریاگ راج کی انجم آرا چھتیس گڑھ جوڈیشل سروس میں ٹاپ، جج مقرر

۱۹۴۷ءکی تقسیمِ ہند سے متعلق نئی تبدیلیاں 
اسی طرح این سی ای آر ٹی نے جماعت ہشتم کی تاریخ کی کتاب میں ہندوستان اور پاکستان کی ۱۹۴۷ءکی تقسیم سے متعلق نئی معلومات بھی شامل کی ہیں۔ نئی کتاب میں لکھا گیا ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس کے زیادہ تر لیڈر اور مہاتما گاندھی تقسیم کے مخالف تھے، لیکن آخرکار انہوں نے اسے حالات کا واحد حل مان کر قبول کر لیا۔ یہ نظرثانی نیشنل ایجوکیشن پالیسی ۲۰۲۰ءکے مطابق کی گئی ہے اور اس میں ۱۹۱۹ء کے قتلِ عام، ۱۹۴۶ء کے ڈائریکٹ ایکشن ڈے اور دیگر تاریخی واقعات کے بارے میں بھی نئے ابواب شامل کئے گئے ہیں۔ 
پرانی کتاب میں کیا لکھا تھا؟
پرانے نصاب میں بھی تقسیم کا ذکر تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ برطانوی حکومت کے تین رکنی مشن کی تجاویز پر کانگریس اور مسلم لیگ اتفاق نہ کر سکیں، جس کے بعد تقسیم تقریباً ناگزیر ہو گئی۔ آزادی کی خوشی تقسیم کے درد اور تشدد کے ساتھ ملی ہوئی تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایچ ایس سی پرچہ لیٖک معاملے میں ناگپورمیں۲؍افراد گرفتار

نئی کتاب کیا کہتی ہے؟
نئی کتاب’’ India and Beyond Part 2 Exploring Societ y‘‘ میں ۱۸۵۷ء کی بغاوت سے لے کر ۱۹۴۷ءتک کی جدوجہدِ آزادی کو بیان کیا گیا ہے اور بنگال کی تقسیم کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کتاب کے مطابق تاریخ دان اس بات پر بحث کرتے رہے ہیں کہ برطانیہ نے ہندوستان کیوں چھوڑا۔ پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ یہ زیادہ تر گاندھی کی عدم تشدد کی تحریک اور کانگریس کی پالیسیوں کا نتیجہ تھا، لیکن اب یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عوامی بغاوتیں، انقلابیوں کی کوششیں اور رائل انڈین ایئر فورس اور نیوی کی بغاوتیں بھی اہم عوامل تھیں۔ اس کے علاوہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ کی کمزور ہوتی طاقت اور دنیا بھر میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کا رجحان بھی اہم سبب تھا۔ 
’وندے ماترم ‘اور قوم پرستی
کتاب میں قوم پرستانہ جذبات کے فروغ میں ثقافتی اثرات پر ایک نیا حصہ شامل کیا گیا ہے۔ اس میں بنکم چندر چٹوپادھیائے کے لکھے ہوئے وندے ماترم کا ذکر کیا گیا ہے اور طلبہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اس کے پہلے دو بندوں کے معنی سمجھنے کی کوشش کریں۔ 

یہ بھی پڑھئے: جھارکھنڈ کے ضلع چترا میں ایئر ایمبولینس حادثے کا شکار، سات افراد ہلاک

جلیانوالہ باغ قتلِ عام پر برطانیہ کی معافی کا سوال
نئی کتاب میں ۱۹۱۹ءکے جلیان والا باغ کے قتلِ عام کو برطانوی تاریخ کا ’’انتہائی شرمناک واقعہ‘‘ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ متعدد مطالبات کے باوجود یو کے نے اب تک باقاعدہ معافی نہیں مانگی۔ 
جلیانوالہ باغ کا سانحہ
۱۳؍اپریل۱۹۱۹ء کو جنرل ڈائر نے اپنے فوجیوں کو حکم دیا کہ وہ ان ہزاروں افراد پر فائرنگ کریں جو رولٹ ایکٹ کے خلاف احتجاج کیلئے جمع ہوئے تھے۔ تقریباً دس منٹ تک مسلسل فائرنگ کی گئی اور خاص طور پر باہر نکلنے کے راستوں کو نشانہ بنایا گیا۔ برطانوی تحقیقات کے مطابق۳۷۹؍افراد ہلاک اور تقریباً۱۲۰۰؍زخمی ہوئے، لیکن یہ تعداد کم سمجھی جاتی ہے۔ ایک کمیٹی جس کی سربراہی مدن موہن مالویہ نے کی تھی، اس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے ڈیڑھ ہزار تک ہو سکتی ہے۔ ۲۰۱۹ءمیں برطانیہ نے اس واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا، لیکن اب تک باضابطہ معافی نہیں دی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK