پارٹی کی ورکنگ کمیٹی میں بی جےپی کو آڑے ہاتھوں لینے کی حکمت عملی تیار، وندے ماترم پر بھی دودوہاتھ کی تیاری، پارٹی ۱۹۳۷ء کے فیصلے پراٹل۔
EPAPER
Updated: August 20, 2026, 10:02 AM IST | Agency | New Delhi
پارٹی کی ورکنگ کمیٹی میں بی جےپی کو آڑے ہاتھوں لینے کی حکمت عملی تیار، وندے ماترم پر بھی دودوہاتھ کی تیاری، پارٹی ۱۹۳۷ء کے فیصلے پراٹل۔
بدھ کو کانگریس ورکنگ کمیٹی نے طلبہ، نوجوانوں اور مختلف سیاسی اور قومی مسائل پر ملک گیر مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی نے ’طلبہ کی گونج‘ مہم کو وسعت دیتے ہوئے اسے ملک کے۸۰۰؍شہروں تک لے جانے کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس کے مطابق اس مہم کے ذریعے پیپر لیک، امتحانات میں بے ضابطگیوں، تعلیم کے مسائل، بے روزگاری اور نوجوانوں سے متعلق دیگر معاملات کو اجاگر کیا جائے گا۔ پارٹی پہلے ہی ’طلبہ کی گونج‘ کے تحت طلبہ سے رابطہ کر رہی ہے اور راہل گاندھی نے بھی اس مہم کے ذریعے نوجوانوں کے مسائل اٹھائے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا نے ہندوستانی باسمتی چاول کی کھیپ مسترد کی، ذمہ دار کون؟
ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں رام مندر چڑھاوا چوری کے معاملے کو بھی ملک گیر سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ کانگریس اس معاملہ کو گاؤں اور پنچایت کی سطح تک لے جانے اور ملک بھر میں احتجاج کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ میٹنگ میں پارٹی نے اتراکھنڈ میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے پروگرام کے بعد ’شدھی کرن‘ کے واقعے پر بھی وزیراعظم نریندر مودی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ وندے ماترم سے متعلق۱۹۳۷ء کے کانگریس کے فیصلے پر قائم رہنے کا اعلان کیا گیا جس میں پورا وندے ماترم نہیں بلکہ ابتدا۲؍ بند پڑھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔کانگریس نے چین سے متعلق سرحدی معاملات اور لوک سبھا حلقوں کی نئی حد بندی کے معاملے پر بھی مرکزی حکومت کو گھیرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تمل ناڈو حکومت کی جانب سے حد بندی کے معاملے پر پیش کردہ موقف کی حمایت بھی کی گئی۔
میٹنگ میں تنظیم کو مزید مضبوط کرنےپر زور دیا گیا۔ کانگریس کے مطابق ملک بھر میں اس کے ۶ء۴۴؍ لاکھ سے زیادہ بوتھ ایجنٹ موجود ہیں۔ میٹنگ میں ۸۸؍لیڈروں نے شرکت کی جن میں سے۳۳؍ نے اپنی رائے پیش کی۔