Inquilab Logo Happiest Places to Work

کانگریس کو۲۴؍ اکبر روڈ پر واقع دفتر خالی کرنے کا نوٹس، سیاسی انتقام کا الزام

Updated: March 25, 2026, 3:58 PM IST | New Delhi

حکومت نے کانگریس پارٹی کو اس کے۲۴؍ اکبر روڈ پر واقع دفتر اور پانچ رائسینا روڈ پر واقع یوتھ کانگریس کے دفتر کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ذرائع کے مطابق، ڈائریکٹوریٹ آف اسٹیٹس نے نوٹس بھیج کر کانگریس سے یہ دونوں دفاتر۲۸؍ مارچ تک خالی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

 حکومت نے کانگریس پارٹی کو اس کے۲۴؍ اکبر روڈ پر واقع دفتر اور پانچ رائسینا روڈ پر واقع یوتھ کانگریس کے دفتر کو خالی کرنے کا حکم دیا  ہے۔ذرائع کے مطابق، ڈائریکٹوریٹ آف اسٹیٹس نے نوٹس بھیج کر کانگریس سے یہ دونوں دفاتر۲۸؍ مارچ تک خالی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے گزشتہ سال اپنا ہیڈکوارٹراندرا بھون منتقل کر لیا تھا، لیکن وہ۲۴؍ اکبر روڈ پر اپنا دفتر برقرار رکھے ہوئے ہے۔ نوٹس کے حوالے سے کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر پرمود تیواری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوٹس افسوسناک اور بدقسمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جمہوری نہیں ہے۔ پارٹی اس معاملے پر قانونی اور سیاسی طور پر مشاورت کر کے اگلا قدم اٹھائے گی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق کانگریس اس مسئلے پر عدالت سے رجوع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ تقریباً۴۸؍ سالوں سے۲۴؍ اکبر روڈ کا بنگلہ کانگریس کا ہیڈکوارٹر رہا ہے۔ اسی دفتر سے کانگریس پارٹی کے کئی اہم سیاسی فیصلے کیے گئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’اعظم خان پر فرضی مقدمہ ، عرفان اور رما کانت کو سیاسی رنجش کے تحت جیل بھیجا گیا ‘‘

ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، انڈین یوتھ کانگریس (آئی وائی سی) کو بھی اس کے۵؍ رائسینا روڈ والے دفتر کے لیے ایسا ہی نوٹس دیا گیا ہے، جس کی آخری تاریخ بھی وہی ہے۔ کانگریس لیڈروں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ جبری بے دخلی کو چیلنج کرنے کے لیے عدالت کا رخ کریں گے۔اگرچہ پارٹی پہلے ہی اپنی مرکزی کارروائیاں اپنے نئے ہیڈکوارٹر اندرا بھون، جو آئی ٹی او کے قریب ہے، منتقل کر چکی ہے، لیکن اس نے اپنی علامتی اور سیاسی اہمیت کی وجہ سے اکبر روڈ والے ایڈریس کو برقرار رکھا ہوا ہے۔تاہم سینئر کانگریس لیڈراور رکن پارلیمان ابھیشیک منو سنگھوی نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے غیر قانونی اور سیاسی محرکات سے متاثر قرار دیا اور کہا کہ پارٹی تمام قانونی راستے تلاش کرے گی۔ انہوں نے اس نوٹس کو غیر قانونی قرار دے اس کے خلاف تمام قانونی چارہ جوئی کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: گھر میں نماز پر پابندی کے خلاف فیصلہ سنانے والے الہ آباد ہائی کورٹ کے جج کا روسٹر تبدیل کردیا گیا

دریں اثنا، کانگریس منتقلی سے نمٹنے کے لیے حکومت سے مزید وقت مانگنے پر بھی غور کر رہی ہے۔ زیر بحث ایک متبادل بنگلے کی الاٹمنٹ کی تنظیم نو ہے، ممکنہ طور پر کسی سینئر لیڈرو کو راجیہ سبھا میں لے جا کر اور جائیداد کو ان کے نام پر محفوظ کر کے تاکہ موجودہ قوانین کے تحت اس کا استعمال برقرار رکھا جا سکے۔ تاہم، اس کے لیے۲۸؍ مارچ کی آخری تاریخ سے پہلے تیز رفتار سیاسی اور قانونی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK