Updated: July 17, 2026, 5:12 PM IST
| New Delhi
معروف سماجی کارکن سونم وانگ چُک نے دہلی میں جاری اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ۲۰؍جولائی تک ہر حال میں زندہ رہوں گا۔ دوسری جانب کانگریس نے وانگ چُک کی حمایت کرتے ہوئے امتحانی نظام میں شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ دہرایا، جبکہ دہلی ہائی کورٹ نے ان کی روزانہ طبی نگرانی کی ہدایت دی۔
پون کھیڑا، سونم وانگ چُک کی خیریت دریافت کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
معروف سماجی کارکن سونم وانگ چُک نے دہلی میں جاری اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ۲۰؍جولائی تک ہر حال میں زندہ رہوں گا۔ ذرائع کے مطابق سونم وانگ چک نیٹ (NEET) پرچہ لیک ہونے پر وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ۵۹؍ سالہ سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال کو۲۰؍ دن ہو چکے ہیں، ڈاکٹروں کے مطابق ان کی صحت تشویشناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور ان کا وزن ۹؍کلو گرام کم ہو گیا ہے، معالجین نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل صرف پانی پر انحصار جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب میں سونم وانگ چک نے۲۰؍ جولائی کو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے زیرِ انتظام پارلیمان کی جانب مجوزہ پُرامن مارچ میں بڑی تعداد میں شرکت کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ عوام اپنی آواز جمہوریت کے ایوان تک پہنچائیں۔ دوسری جانب دہلی ہائی کورٹ نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ سونم وانگ چُک کی صحت کی روزانہ نگرانی کی جائے اور ضرورت پڑنے پر فوری طبی امداد فراہم کی جائے۔
یہ بھی پڑھئے: نیٹ یوجی ۲۰۲۶ء: نتائج جاری، ۲۱ء۱۱؍ لاکھ امیدوار میڈیکل داخلوں کیلئے اہل قرار
سونم وانگ چک کو کانگریس کی حمایت، پون کھیڑا ملنے پہنچے
سماجی کارکن سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال کو اپوزیشن جماعتوں کی حمایت کے درمیان کانگریس کی جانب سے شعبۂ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے جمعہ کو یہاں ان سے ملاقات کر کے ان کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور ان کے مطالبات کی حمایت کا اظہار کیا۔ کھیڑا نے آج صبح جنتر منتر پہنچ کر سونم وانگ چک سے ان کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور ان سے تبادلۂ خیال کیا۔ ملاقات کے بعد کھیڑا نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ کانگریس سونم وانگ چک کی صحت کے تعلق سے فکر مند ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم سبھی سونم وانگ چک کی صحت کے بارے میں فکر مند ہیں۔ ہم ایک ایسی انتہائی بے حس سرکار کا سامنا کر رہے ہیں، جو جمہوری احتجاج کی زبان نہیں سمجھتی۔ ایسی سرکار کے سامنے احتجاج کے طریقوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ اس سرکار کے خلاف اپنی جان خطرے میں ڈالنے سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ ‘‘ کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے بھی جمعرات کو وانگ چک کی صحت کے تعلق سے تشویش کا اظہار کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ای ۲۰؍ پیٹرول: کنزیومر کورٹ نے ماروتی سوزوکی کو گاہک کو نئی گاڑی دینے کا حکم دیا
کھیڑا نے کہا کہ کانگریس مسلسل طلبہ کے مسائل اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم کافی وقت سے ’’چھاتروں کی گونج‘‘ مہم چلا رہے ہیں۔ ہمارے کارکن گلی گلی، محلوں اور یونیورسٹی کیمپس میں ان مسائل کو اٹھا رہے ہیں۔ ہمارا مطالبہ صرف مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ تک محدود نہیں ہے، بلکہ امتحانات میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا بھی ہے۔ ‘‘کانگریس نے دہرایا ہے کہ وہ طلبہ کے مفادات، امتحانی نظام میں اصلاحات اور جوابدہی کے مطالبے کے حق میں اپنی مہم جاری رکھے گی۔