Updated: July 17, 2026, 3:05 PM IST
| New Delhi
نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) نے NEET UG 2026 کے دوبارہ منعقدہ امتحان کے نتائج جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق ۲۱ء۱۱؍ لاکھ امیدوار ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس، آیوش اور دیگر انڈرگریجویٹ میڈیکل کورسیز میں داخلے کے لیے اہل قرار پائے ہیں۔ امتحان میں تقریباً ۲۰؍ لاکھ امیدوار شریک ہوئے تھے۔ پنجاب کے آرین گپتا اور ہریانہ کے پنشول بنسل نے ۷۲۰؍ میں سے ۷۱۵؍ نمبر حاصل کرکے مشترکہ طور پر پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ خاتون امیدواروں کی کامیابی کی شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ رہی۔
نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) نے جمعرات کو NEET UG 2026 کے دوبارہ منعقد کیے گئے امتحان کے نتائج کا اعلان کر دیا، جس کے مطابق ۱۱؍ لاکھ ۲۱؍ ہزار امیدوار ملک بھر کے ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس، آیوش اور دیگر انڈرگریجویٹ میڈیکل کورسیز میں داخلے کے لیے اہل قرار پائے ہیں۔ خیال رہے کہ دوبارہ ٹیسٹ ۲۱؍ جون کو اس وقت منعقد کیا گیا تھا جب اس سے قبل ہونے والا NEET UG 2026 کا امتحان مبینہ پیپر لیک کے باعث منسوخ کر دیا گیا تھا۔ تازہ امتحان میں تقریباً ۲۰؍ لاکھ امیدواروں نے شرکت کی۔ نتائج کے مطابق پنجاب کے آرین گپتا اور ہریانہ کے پنشول بنسل نے مشترکہ طور پر ۷۲۰؍ میں سے ۷۱۵؍ نمبر حاصل کرکے ملک بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
یہ بھی پڑھئے: تیسری زبان کا آغاز چھٹی جماعت سے ہی کریں: سپریم کورٹ
این ٹی اے کے مطابق ۱۹؍ امیدواروں نے ۷۰۰؍ سے زائد نمبر حاصل کیے، جبکہ ۱۳۸؍ امیدوار ایسے رہے جنہوں نے ۶۹۰؍ سے زیادہ نمبر حاصل کیے۔ ادارے کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ان اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے امیدواروں میں ۹۳؍ فیصد نے اپنی پہلی ہی کوشش میں امتحان کامیاب کیا، جبکہ ۹۹؍ فیصد امیدواروں کی عمریں ۱۷؍ سے ۱۹؍ سال کے درمیان تھیں۔ یہ امتحان ملک بھر میں ۱۳؍ زبانوں میں منعقد کیا گیا، جن میں انگریزی، ہندی، تمل، تیلگو، پنجابی، بنگالی اور دیگر علاقائی زبانیں شامل تھیں، تاکہ مختلف ریاستوں کے طلبہ کو اپنی پسندیدہ زبان میں امتحان دینے کا موقع فراہم کیا جا سکے۔
نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اس سال خاتون امیدواروں نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کامیاب امیدواروں میں ۵۸؍ فیصد سے زائد خواتین شامل ہیں، جبکہ ان کی کامیابی کی شرح بھی مردوں کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ اعداد و شمار کے مطابق خاتون امیدواروں کی کامیابی کی شرح ۸ء۵۶؍ فیصد رہی، جبکہ مرد امیدواروں میں یہ شرح ۱ء۵۵؍ فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ریاستی سطح پر اتر پردیش سب سے آگے رہا، جہاں ۷۰ء۱؍ لاکھ سے زائد امیدوار امتحان میں کامیاب ہوئے۔ دوسری جانب لکش دیپ سے ۴۳؍ امیدوار کامیاب ہوئے۔ این ٹی اے کے مطابق پنجاب، ہریانہ، راجستھان، اتر پردیش، مہاراشٹر، بہار، تمل ناڈو اور تلنگانہ کے امیدواروں نے ۷۰۵؍ سے زائد نمبر حاصل کرتے ہوئے ابتدائی ۱۷؍ قومی رینکوں میں جگہ بنائی۔
یہ بھی پڑھئے: ’بلڈوزر انصاف‘ پر توہین عدالت کی اپیلوں پر سماعت سے انکار
علاقائی ٹاپرز میں لداخ سے جگمیت یانگچن لامو ، انڈمان و نکوبار جزائر سے دھرو ترپاٹھی اور لکش دیپ سے فہمیدہ انیس نمایاں رہیں۔ ٹاپ ۱۰۰؍ امیدواروں میں راجستھان سب سے آگے رہا، جہاں سے ۱۲؍ امیدوار اس فہرست میں شامل ہوئے، جبکہ مہاراشٹر کے ۱۱؍ امیدوار ٹاپ ۱۰۰؍ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔ اسی طرح پنجاب اور دہلی سے آٹھ، آٹھ امیدوار، تمل ناڈو سے سات جبکہ گجرات اور کرناٹک سے چھ، چھ امیدوار ٹاپ ۱۰۰؍ رینک ہولڈرز میں شامل رہے۔ خاتون امیدواروں میں مہاراشٹر کی شروانی کدلے نے آل انڈیا رینک ۵؍ حاصل کیا، جبکہ بہار کی ریا رنجن آل انڈیا رینک ۶؍ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔
زمرہ وار کامیاب امیدواروں میں ۱۲ء۵؍ لاکھ امیدوار دیگر پسماندہ طبقات (OBC-Non Creamy Layer) سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ۹۱ء۲؍ لاکھ امیدوار جنرل زمرے، ۵۹ء۱؍ لاکھ درج فہرست ذات (SC)، ۹۵؍ ہزار ۲۶؍ جنرل-EWS اور ۶۳؍ ہزار ۷۱۶؍ درج فہرست قبائل (ST) کے زمرے سے کامیاب قرار پائے۔ این ٹی اے کے مطابق مجموعی طور پر ۳؍ ہزار ۶۶۶؍ بینچ مارک معذور افراد (PwBD) اور ۳۰۳؍ دیگر معذور امیدوار بھی امتحان میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ادارے نے واضح کیا کہ اس کی ذمہ داری صرف امتحان کا انعقاد اور آل انڈیا رینک جاری کرنے تک محدود ہے، جبکہ میرٹ لسٹ کی تیاری، ڈومیسائل کی جانچ اور سیٹوں کی الاٹمنٹ کا عمل میڈیکل کونسلنگ کمیٹی (MCC) اور متعلقہ ریاستی حکام کی نگرانی میں انجام دیا جائے گا۔