Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیٹے کو کانگریس کی حمایت، باپ مہایوتی میں شامل، پارٹی میں ناراضگی

Updated: June 18, 2026, 12:41 PM IST | Z. A. Khan | Nanded

پارٹی نے ودھان پریشد الیکشن کیلئے شیوسینا(ادھو) کے امیدوار کو حمایت دی تھی لیکن ان کے والد پارٹی چھوڑ گئے۔

Did Congress make a mistake? Photo: INN
کیا کانگریس غلطی کر گئی؟ تصویر: آئی این این

۱۸؍ جون کو ہونے جا رہے قانون ساز کونسل (ودھان پریشد) کے انتخابات کے تعلق سےسیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ اسی دوران شیو سینا (ادھو) کے ہنگولی سے رکن پارلیمان ناگیش پاٹل آشتی کر کے حیدرآباد کے راستے دہلی پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب ناندیڑ قانون ساز کونسل انتخاب میں ان کے صاحبزادے کرشنا پاٹل آشتی کر کانگریس کی حمایت سے میدان میں ہیں۔ ایسی صورت میں یہ سوال شدت سے اٹھنے لگا ہے کہ کانگریس کا حمایت یافتہ امیدوار اب ادھو گروپ کے بجائے شندے گروپ کے کھاتے میں جائے گا۔اس پس منظر میں جمعرات کو ہونے والی ووٹنگ میں کانگریس کی پوزیشن کیا ہوگی؟ اس پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسمارٹ سٹی منصوبے کی سست رفتاری سے عوام پریشان

اس دوران ’ آپریشن ٹائیگر‘ کو محض افواہ قرار دینے والے رکن پارلیمان ناگیش پاٹل آشتی کر خود انتخابی ماحول سے دور دہلی پہنچ گئے ہیں، جس نے کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق منگل کی رات وہ حیدرآباد کے راستے دہلی روانہ ہوئے۔ ناندیڑ قانون ساز کونسل انتخابات میں کانگریس نے آخری وقت میں اپنے امیدوار رام داس پاٹل سمتھانکر کی نامزدگی واپس لے کر ناگیش پاٹل آشتی کر کے فرزند کرشنا پاٹل آشتی کر کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اس فیصلے میں ناندیڑ کے کانگریس رکن پارلیمان پروفیسر رویندر چوہان کا کردار اہم مانا جا رہا ہے۔رام داس پاٹل سمتھانکر نے بھی کانگریس کی جانب سے امیدوار واپس لینے کے فیصلے پر سوال اٹھائے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: شہر و مضافات میں مختلف مقامات پر محرم کا وعظ اور مجالس کا انعقاد

سیاسی حلقوں میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ جب ناگیش پاٹل آشتی کر ابتدا ہی سے شکوک و شبہات کے دائرے میں تھے تو کانگریس نے ان کی حمایت کا فیصلہ کیوں کیا؟ اب یہ بحث خود کانگریس کے اندر بھی ہونے لگی ہے کہ آیا یہ پوری سیاسی حکمت عملی پہلے سے طے شدہ تھی؟قانون ساز کونسل کے اس انتخاب میں ونچت بہوجن اگھاڑی کے امیدوار پرشانت انگولے بھی میدان میں موجود ہیں۔ ناندیڑ میں کانگریس اور ونچت بہوجن اگھاڑی کے درمیان سیاسی اتحاد قائم ہے۔اگرچہ کانگریس نے اپنا امیدوار واپس لے لیا، لیکن ونچت کے امیدوار پرشانت انگولے نے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا تھا۔اب یہ سوال اہم بن گیا ہے کہ کیا کانگریس کے ووٹر جمعرات کو ہونے والی رائے دہی میں ونچت بہوجن اگھاڑی کے امیدوار پرشانت انگولے کی حمایت کریں گے؟ اس تمام سیاسی صورتحال کے درمیان بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار امرناتھ راجورکر کی پوزیشن مزید مضبوط ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ یاد رہے کہ شیوسینا ( ادھو) کے ۶؍ اراکین پارلیمان کے پارٹی چھوڑنے سے مہاوکاس اگھاڑی میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK