• Fri, 30 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کانگریس نےبی جے پی کو ناگپورمیں دھول چٹائی

Updated: October 30, 2026, 3:50 PM IST | Ali Imran | Nagpur

فرنویس و گڈکری کا مضبوط قلعہ کہے جانے والے ناگپور میں ایم ایل سی گریجویٹ حلقہ الیکشن میں بی جے پی کا نظام درہم برہم، ابھیجیت ونجاری کی جیت کے بعد فرنویس کو ٹویٹ ڈیلیٹ کرنا پڑا، کانگریس نے مذاق اڑایا۔ہرش وردھن سپکال اور نانا پٹولے کی تنقید۔

Wanjari (wearing a floral garland), winner of the Nagpur MLC election, celebrating with his supporters. Photo: INN
ناگپور ایم ایل سی الیکشن جیتنے والے ونجاری (پھولوں کا ہار پہنے)اوران کے مداح جشن مناتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کے آبائی شہر اور آر ایس ایس کا گڑھ سمجھے جانے والے ناگپور ڈویژن گریجویٹ حلقے میں بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مہا وکاس اگھاڑی اور کانگریس کے امیدوار ابھجیت گووند راؤ ونجاری نے انتہائی سخت مقابلے میں بی جے پی کے امیدوار سدھاکر کوہلے کو ۳۲۷۱؍ووٹوں سے ہرایا۔ونجاری کو مجموعی طور پر ۶۷؍ہزار ۲۳۱؍ووٹ حاصل ہوئے۔ اس غیر متوقع شکست کے بعد بی جے پی میں اندرونی تبدیلیوں اور شکست کی ذمہ داری اتحادی جماعتوں پر ڈالنے کی کوششوں کے درمیان، کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال اور سابق ریاستی صدر نانا پٹولے نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس اور وزیر اعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک بھر میں قانون ساز کونسلوں کے انتخابات کے نتائج کے حوالے سے اپوزیشن پارٹیوں پر طنز کرتے ہوئے ایک ٹویٹ کیا تھا، جسے فرنویس نے بھی ری ٹویٹ کیا تھا۔ تاہم، ناگپور کا نتیجہ بی جے پی کے خلاف آنے کے بعد وزیر اعلیٰ  نے وہ ٹویٹ ڈیلیٹ کردیا۔ یہ بھی دھیان رہے کہ ناگپور کو وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس اور مرکزی وزیر نتن گڈکری کا مضبوط سیاسی گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں یہ نتیجہ بی جے پی کیلئے ایک بڑا جھٹکا مانا جا رہا ہے۔ دونوںلیڈروں نے کوہلے کی کامیابی کے لیے بھرپور انتخابی مہم چلائی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: CJP لیڈر سورَو داس کی شہریت کی تحقیقات کی درخواست پر مدراس ہائی کورٹ کا نوٹس

’’پوسٹ ڈیلیٹ کرکے فرنویس نے ساورکر کی وراثت کو آگے بڑھایا‘‘

ناگپور گریجویٹ حلقے کے انتخابات میں۴۰؍ گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی ووٹوں کی گنتی کے بعد کانگریس کے امیدوار ابھیجیت ونجاری نے کامیابی حاصل کی۔ اس نتیجے کے بعد فرنویس کو سوشل میڈیا پر کی گئی وہ پوسٹ حذف کرنی پڑی، جس میں کانگریس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ قانون ساز کونسل کے انتخابات میں کانگریس اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول سکی۔ اسی معاملے پر کانگریس نے وزیر اعلیٰ پر جوابی حملہ کیا اور مہاراشٹر کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرکے فرنویس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس نے کہا، ’’پوسٹ ڈیلیٹ کرکے فرنویس نے ایک بار پھر ساورکر کی وراثت کو آگے بڑھایا ہے۔ مکمل نتائج آنے سے پہلے ہی فرنویس نے ایسے انداز میں پوسٹ کی تھی، جیسے کوئی بڑا کارنامہ انجام دے دیا ہو۔ لیکن ان کا ہی تیرانکے سینے میں آ لگا! آخرکار انہیں شرمندہ ہوکر پوسٹ ڈیلیٹ کرنی پڑی۔‘‘ کانگریس نے مزید کہا، ’’فرنویس جی، ابھی سے گھبرا گئے؟ یہ تو صرف ٹریلر ہے!۲۰۲۹ء میں مہاراشٹر کی عوام آپ کی ایسی سیاسی درگت بنائے گی کہ آپ کو آج کی یہ پوسٹ بھی یاد آئے گی۔ نیک تمنائیں، فرنویس جی! اگلے جھٹکے کے لیے تیار رہیے۔‘‘

نانا پٹولے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، ’’تمام سرکاری مشینری، اقتدار اور پیسے کی طاقت استعمال کیے جانے کے باوجود ناگپور گریجویٹ حلقے میں کانگریس اور مہا وکاس اگھاڑی کا ترنگا ایک بار پھر شان سے لہرا رہا ہے۔ تعلیم یافتہ گریجویٹ ووٹروں نے ابھجیت وانجاری کی بھرپور حمایت کی ہے۔‘‘  

نانا پٹولے نے مزید کہا، ’’وزیر اعظم مودی نے مہاراشٹر کے انتخابی نتائج کے بارے میں جلد بازی میں ٹویٹ کیا تھا، اور اسے ری ٹویٹ کرنے والے دیویندر فرنویس کو بالآخر وہ ٹویٹ ڈیلیٹ کرنا پڑا۔ فرنویس شکست کے بارے میں کتنی ہی وضاحتیں کیوں نہ دیں، وہ اس شکست کو چھپا نہیں سکتے۔ ‘‘  اطلاع کے مطابق ناگپور گریجویٹ حلقے میں اس غیر متوقع شکست کے بعد بی جے پی کے اندر بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ ایک دھڑے کی جانب سے الزام لگایا جا رہا ہے کہ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا اور دیگر اتحادی جماعتوں نے انتخاب میں ایمانداری سے کام نہیں کیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK