• Fri, 30 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

CJP لیڈر سورَو داس کی شہریت کی تحقیقات کی درخواست پر مدراس ہائی کورٹ کا نوٹس

Updated: October 30, 2026, 3:10 PM IST | Chennai

سی جے پی کے ترجمان اور صحافی سورَو داس کی شناخت اور عدلیہ کے خلاف ان سے منسوب بیانات کا معاملہ مدراس ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے، جہاں عدالت نے درخواست پر مختلف فریقوں سے جواب طلب کیا ہے۔

CJP Leader Saurav Das. Photo: INN
سی جے پی لیڈر سورَو داس۔ تصویر: آئی این این

مدراس ہائی کورٹ نے جمعہ کو ایک ایسی درخواست پر نوٹس جاری کیا ہے جس میں صحافی اور ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP) کے ترجمان سورَو داس کی شہریت اور پس منظر کی تحقیقات کرنے کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے خلاف مبینہ بیانات پر ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ یہ معاملہ گنیش کمار بنام ریجنل پاسپورٹ آفیسر کے عنوان سے دائر مقدمے سے متعلق ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر سورَو داس غیر ملکی شہری ثابت ہوں تو ان کا پاسپورٹ اور آدھار کارڈ منسوخ کرنے کی ہدایت دی جائے۔ درخواست میں سپریم کورٹ کے ججوں اور عدلیہ کے خلاف مبینہ توہین آمیز بیانات دینے پر داس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) اور انسٹاگرام اکاؤنٹس بند کرنے کی ہدایت بھی طلب کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ ہماری سیٹوں کے بجائے مودی وارانسی کی خبر لیں‘‘

چیف جسٹس ایس اے دھرمادھیکاری اور جسٹس جی ارول مروگن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سورَو داس، مرکزی حکومت اور بعض نجی فریقوں سمیت مختلف جواب دہندگان سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت چھ ہفتوں بعد مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ درخواست گزار گنیش کمار نے الزام لگایا ہے کہ درخواست میں ’یوگیش شرما عرف سورَو داس‘ کے نام سے شناخت کیے گئے صحافی نے عدلیہ، بشمول سپریم کورٹ کے ججوں، کے بارے میں توہین آمیز بیانات دیے ہیں۔ درخواست میں مرکزی وزارتِ داخلہ اور دیگر سرکاری حکام کو ہدایت دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے کہ وہ داس اور ان کے والدین سمیت مختلف افراد کے پس منظر اور ذاتی تفصیلات کی تحقیقات کریں۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کی توجہ درخواست کے ساتھ منسلک بعض دستاویزات کی جانب مبذول کرائی، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کا تعلق داس کی شناخت اور پتے سے ہے۔ بنچ نے ان دستاویزات کا جائزہ لیا اور ان میں درج بعض تفصیلات کے بارے میں وضاحت طلب کی۔ وکیل نے عدالت کو داس کی جانب سے عدلیہ کے خلاف مبینہ طور پر دیے گئے بیانات سے بھی آگاہ کیا۔ بنچ نے ان بیانات کے اظہار کے طریقے پر سوال اٹھایا اور درخواست گزار سے دریافت کیا کہ کیا اس نے متعلقہ حکام سے اس معاملے میں کوئی شکایت کی ہے؟

یہ بھی پڑھئے: کرناٹک حکومت نے یکم نومبر سے نندنی دودھ کی قیمت میں۸؍ روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری دی

درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ اس سلسلے میں پہلے ہی ایک تحریری عرضداشت پیش کی جاچکی ہے، لیکن مرکزی حکومت نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ درخواست میں ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کی ایک عرضداشت کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ متعلقہ حکام کو اس پر عدالت کی جانب سے مقرر کردہ مناسب مدت کے اندر کارروائی کرنے کی ہدایت دی جائے۔

تحقیقات کے مطالبے کے علاوہ درخواست گزار نے وزارتِ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سکریٹری کو بھی ہدایت دینے کی درخواست کی ہے کہ وہ ’سورَو داس‘ کے نام سے چلنے والے ایکس اور انسٹاگرام اکاؤنٹس بند کرائیں۔ درخواست میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ داس کو عدلیہ اور سپریم کورٹ کے ججوں کے بارے میں مزید مبینہ توہین آمیز بیانات دینے سے روکا جائے۔ ابتدائی دلائل سننے کے بعد عدالت نے جمعہ کو اس معاملے میں نوٹس جاری کردیا۔ درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ بی جگن ناتھ عدالت میں پیش ہوئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK