Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’مودی حکومت کو بے نقاب کرنے کیلئے کانگریس ملک بھر میں احتجاج کرے گی ‘‘

Updated: April 23, 2026, 7:02 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

تھانے میں منعقدہ پریس کانفرنس میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ایگزیکٹیو ممبر عارف نسیم خان کا اعلان، بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

Arif Naseem Khan During A Press Conference At Thane.Photo:INN
عارف نسیم خان تھانے میں پریس کانفرنس کےد وران -تصویر:آئی این این
آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ایگزیکٹیو ممبر اور سابق ریاستی وزیر عارف نسیم  خان نے گزشتہ روز تھانے میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’’مودی حکومت نے لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل نہیں بلکہ آئینی ترمیمی بل منظوری کیلئے پیش کیا تھا۔ پارلیمنٹ میں بی جے پی کے پاس اکثریت نہ ہونے کے باوجود پارلیمانی حلقہ کی نئی حد بندی کر کے دستورمیں ترمیم کا بل لایا گیااور اس کے نامنظور ہونے پر کانگریس کو بدنام کیاگیا ہے۔ دراصل بی جے پی خواتین کو ریزرویشن نہیں دینا چاہتی تھی لیکن خواتین کی آڑ میں آئین میں ترمیم کرنا چاہتی تھی جسے اپوزیشن نے ناکام بنا دیا۔ لہٰذا کانگریس ملک بھر میں احتجاج کرے گی اور مودی حکومت کے بار بار جھوٹے موقف کو بے نقاب کرے گی۔
اس پریس کانفرنس میں کانگریس کے تھانے شہر صدر ایڈوکیٹ وکرانت چوہان، تھانے دیہی صدر چیتن سنگھ پوار اور دیگر لیڈران موجود تھے۔ اس موقع پر عارف نسیم خان نے مزید کہا کہ ’’ خواتین ریزرویشن بل۲۰۲۳ءمیں کانگریس کی حمایت سے لوک سبھا میں منظور ہو چکا ہے۔مودی حکومت نے کانگریس کو خواتین مخالف کے طور پر پیش کرنے کیلئے جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ خواتین بل کے موقع پر مودی حکومت کا جھوٹ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا۔ بی جے پی حکومت ایک جملہ باز ہے جو مسلسل جھوٹ بولتی ہے اور اس نے پچھلے دروازے سے آئین کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس خطرے کو بھانپتے ہوئے کانگریس اور دیگر پارٹیوں نے آئین ترمیمی بل کو مسترد کرکے جمہوریت کو بچایا ہے۔‘‘ انہوںنے مزید کہا کہ’’ اب جبکہ مودی سرکار کا فیصلہ ان پر پلٹ گیا ہے تو انہوں نے ایک جھوٹی مہم شروع کر دی ہے کہ خواتین کے ریزرویشن کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ 
 
 
آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ایگزیکٹیو ممبرنے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ خواتین ریزرویشن بل ۲۰۲۳ء میں ہی منظور ہو چکا ہے اس لئے اس ریزرویشن کو فوری طور پرنافذ کیا جانا چاہئے اور آئندہ ۲۰۲۹ء کے انتخابات میں خواتین کو مساوی مواقع فراہم کئے جانے چاہئیں۔ حد بندی کے عمل کونئی ذات کی بنیاد پر مردم شماری مکمل ہونے کے بعد نافذ کیا جائے۔ اسے مکمل کرنے کے بجائے مودی سرکار آئینی ترمیم کے ذریعے تمام حقوق چاہتی تھی تاکہ اس کی خواہش کے مطابق حلقہ انتخاب بنایا جاسکے۔عارف نسیم خان نے کہا کہ کانگریس نے اس کی مخالفت کی کیونکہ اگر یہ بل منظور ہو جاتا تو جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی۔
 
 
انہوںنے سوالات کئے کہ کیا خواتین پر مظالم روکنے میں ناکام بی جے پی نے مرکز اور ریاست میں خواتین کو وزیر بنایا ہے؟ خواتین کو ریزرویشن دینے کی بات کرنے والی بی جے پی خواتین کا استحصال کرنے والوں کو کیوںوزیر بنا دیتی ہے؟بی جے پی کے رہنما خواتین پر مظالم کو کیوں نہیں روک رہے ہیں؟ عارف نسیم خان نے بی جے پی کے دوغلے موقف پر شدیدتنقید کی۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK