پارٹی نےاس مہم کو ’مشن۲۰۲۸ء‘ کا حصہ قرار دیا، جس کے تحت اسمبلی انتخابات ۲۰۲۸ء میں اپنی بنیادوں کو مضبوط کرنا ہے، ۸۴؍ دنوں میں ۸۴؍ حلقوں تک پہنچنے کا منصوبہ۔
EPAPER
Updated: October 01, 2026, 12:03 PM IST | Agency | Shivamogga,
پارٹی نےاس مہم کو ’مشن۲۰۲۸ء‘ کا حصہ قرار دیا، جس کے تحت اسمبلی انتخابات ۲۰۲۸ء میں اپنی بنیادوں کو مضبوط کرنا ہے، ۸۴؍ دنوں میں ۸۴؍ حلقوں تک پہنچنے کا منصوبہ۔
کرناٹک کانگریس نے بدھ کو راہل گاندھی کی ’بھارت جوڑو یاترا‘کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر ریاست میں ’بھارت جوڑو یاترا ‘کا آغاز کیا۔ اس مہم کی شروعات بی جے پی کے ریاستی صدر اور شکاری پور کے رکن اسمبلی بی وائی وجیندر کے سیاسی گڑھ سے کی گئی۔کانگریس نے شیوموگا ضلع کے شکاری پور اسمبلی حلقے سے پدیاترا شروع کی۔ بی وائی وجیندر سے قبل ان کے والد اور کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا بھی اسی اسمبلی حلقے کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
کانگریس کے ریاستی صدر بی کے ہری پرساد نے میڈیا کو بتایا کہ’’ راہل گاندھی۳۰؍ ستمبر۲۰۲۲ء کو ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے دوران کرناٹک میں داخل ہوئے تھے۔ اسی موقع کی یاد میں کانگریس نے ریاست بھر میں نئی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کانگریس نے ’بھارت جوڑو 2.0‘ کے تحت ان۸۴؍ اسمبلی حلقوں میں پدیاترا نکالنے کا منصوبہ بنایا ہے، جہاں پارٹی کو ۲۰۲۳ء کے اسمبلی انتخابات میں شکست ہوئی تھی۔ پارٹی اس مہم کو اپنے ’مشن۲۰۲۸ء‘ کا حصہ قرار دے رہی ہے، جس کا مقصد ۲۰۲۸ء کے اسمبلی انتخابات میں ان تمام حلقوں میں دوبارہ سیاسی بنیاد مضبوط کرنا ہے۔کانگریس کے منصوبے کے مطابق ہر اسمبلی حلقے میں تقریباً ۱۰؍ کلومیٹر کی پدیاترا کی جائے گی۔ مہم کے دوران پارٹی کارکن اور لیڈران مقامی لوگوں سے ملاقات کریں گے اور علاقے کے مسائل پر گفتگو کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی پولیس سپریم کورٹ میں پھر رُسوا ہوئی، تحلیل کردینے کا انتباہ
بی کے ہری پرساد نے کہا کہ پارٹی بی جے پی اور آر ایس ایس کی آئین کے خلاف سازش کے بارے میں بھی عوام میں بیداری پیدا کرے گی۔انہوں نے کہ اس کا بنیادی مقصد کرناٹک میں ہمارے ساتھ کھڑے لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹانے کی بی جے پی کی کوشش کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ یہ جمہوریت کی بنیاد پر حملہ ہے۔شکاری پور میں شروع ہونے والی پدیاترا تقریباً۹؍ سے ۱۰؍ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گی۔ اس کے بعد اے پی ایم سی میدان میں ایک جلسہ بھی منعقد کیا جائے گا۔ اس مہم کے دوران کانگریس نے ’جنتا جوڑو‘ اور ’جنتا جاگروتی‘ جیسے پروگراموں کے ذریعے عوام سے رابطہ بڑھانے کی بات بھی کہی ہے۔
بی کے ہری پرساد نے پدیاترا سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی۲۰۲۲ء میں ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے دوران گڈلوپیٹ کے راستے کرناٹک میں داخل ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسی واقعے کی یاد میں ریاست بھر میں عوامی رابطے کی یہ مہم شروع کی جا رہی ہے۔ انہوں نے شیوموگا کے ایسورو گاؤں کا ذکر کرتے ہوئے اس کی تاریخی اہمیت بھی بیان کی۔ ان کے مطابق۱۹۴۲ء میں مہاتما گاندھی کی ’بھارت چھوڑو‘ تحریک کی اپیل کے بعد اس گاؤں کے لوگوں نے برطانوی حکومت کے خلاف آزادی کا اعلان کیا تھا اور کسی بھی صورت ٹیکس ادا نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اس تحریک میں پیش پیش رہنے والے تقریباً۵؍ آزادی کے متوالوں کو۱۹۴۳ء میں برطانوی حکومت نے پھانسی دے دی تھی۔ دوسری جانب پدیاترا کے دوران ہری پرساد نے بی وائی وجیندر پر کانگریس کے جھنڈے اور پوسٹر ہٹوانے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کو احتجاج اور اپنی سرگرمیاں انجام دینے کا حق حاصل ہے۔ہری پرساد نے بی وائی وجیندر پر بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے اور دعویٰ کیا کہ انہیں اپنے والد کے نام پر آر ٹی جی ایس لین دین کے ذریعے۱۷؍ کروڑ روپے کی رشوت ملی تھی۔ یہ الزامات کانگریس لیڈر کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں۔