Updated: July 02, 2026, 10:36 AM IST
| Chennai
متعدد اراکین اسمبلی سے اجتماعی استعفیٰ دلا کر حکومت کو اقلیت میں لانے کی سازش رچی گئی ، ریاست کی خفیہ ایجنسی نے ناکام بنا دی، حکومت اور اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی حمایت کیلئےپارٹی کے رُکن اسمبلی کو۳۵؍ کروڑ روپے کی پیشکش کا بھی انکشاف، ۳؍ گرفتار۔
تمل ناڈو میں تملگا ویتری کزگم (ٹی وی کے) کی حکومت قائم ہوئے ابھی دو ماہ بھی مکمل نہیں ہوئے کہ اسے گرانے کی سازش کا کا انکشاف ہوا ہے۔ اس معاملہ نے ریاست کی سیاست میں زبردست ہلچل مچا دی ہے۔ ریاست کی خفیہ ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک مبینہ سیاسی سازش کو ناکام بنا دیا، جس کا مقصد متعدد اراکین اسمبلی سے اجتماعی استعفیٰ دلا کر حکومت کو اقلیت میں لانا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹی وی کے کے ایک رکن اسمبلی نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے کہ آئی پی ڈی ایس نامی ایک کنسلٹنسی فرم کے نمائندوں نے ان سے ملاقات کر کے۳۵؍ کروڑ روپے کی پیشکش کی۔ الزام ہے کہ فرم کے نمائندہ نے ان سے رابطہ کیا اور اسمبلی اسپیکر جے سی ڈی پربھاکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت کے بدلے خطیر رقم کی پیشکش کی۔ رکن اسمبلی نے مزید الزام لگایا کہ پیشکش مسترد کرنے کے بعد انہیں دھمکیاں بھی دی گئیں کہ اس معاملے کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں۔ شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس اور انٹیلی جنس حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ فرم سے وابستہ ۳؍ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تفتیش کے دوران گرفتار افراد میں سے ایک کے روابط ڈی ایم کے لیڈر سینتھل بالاجی اور ان کے بھائی اشوک سے ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔ پولیس سازش کے وسیع نیٹ ورک کی جانچ کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ: موجودہ حالات کے تناظر میں مسلم نمائندہ کونسل کے زیر اہتمام اہم اجلاس
ذرائع کے مطابق سازش کے تحت ٹی وی کے کے۱۵؍ اراکین اسمبلی سے ایک ساتھ استعفیٰ دلوا کر حکومت کو گرانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ا دھر تمل ناڈو کے وزیر سی ٹی نرمل کمار نے اس معاملے میں براہ راست ڈی ایم کے کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ’’سینتھل بالاجی سے وابستہ افراد اورکرور گینگ اس سازش میں شامل ہیں اور پولیس کو تمام ذمہ داروں کو گرفتار کرنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ڈی ایم کے، اے آئی اے ڈی ایم کے کے لیڈر کے پلانی سوامی کے ساتھ مل کر حکومت گرانے کی کوشش کر رہی ہے۔
دوسری جانب ڈی ایم کے نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان اے سرونن نے کہا کہ ٹی وی کے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے محض سیاسی پروپیگنڈا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس سینتھل بالاجی کے خلاف کوئی ثبوت ہےتو انہیں گرفتار کر کے دکھایا جائے۔
ٹی وی کے سربراہ وجے اور سینتھل بالاجی کے درمیان پہلے بھی سیاسی کشیدگی رہی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران کرور میں وجے کی ایک ریلی میں بھگدڑ مچنے کے بعد وجے نے اس واقعے کا الزام سینتھل بالاجی پر عائد کیا تھا، تاہم بالاجی نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔فی الحال پولیس تینوں گرفتار افراد سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔