گاڑیوں کی۷؍کلومیٹر تک قطاریں، ۱۵؍ کلومیٹر کا سفر۳؍گھنٹے میں طے ہوا، شہریوں اور مسافروں کی مشکلات میں اضافہ۔
EPAPER
Updated: July 02, 2026, 11:39 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
گاڑیوں کی۷؍کلومیٹر تک قطاریں، ۱۵؍ کلومیٹر کا سفر۳؍گھنٹے میں طے ہوا، شہریوں اور مسافروں کی مشکلات میں اضافہ۔
ممبئی-ناسک قومی شاہراہ پر واقع بھیونڈی تھانے بائی پاس پر بدھ کو مسلسل دوسرے روز بھی شدید ٹریفک جام کی صورتحال برقرار رہی جس کے باعث ہزاروں مسافروں اور گاڑی چلانے والوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ راجنولی ناکہ، پمپلَس اور مانکولی ناکہ سے لے کر کھاریگاؤں ٹول ناکہ تک تقریباً۷؍ کلومیٹر طویل گاڑیوں کی قطاریں دیکھی گئیں جبکہ محض ۱۵؍کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں ۲؍ سے۳؍ گھنٹے تک کا وقت لگ گیا۔
اطلاعات کے مطابق منگل سے جاری ہلکی بارش کے دوران تھانے-بھیونڈی بائی پاس پر ۸؍ لین سڑک اور مختلف فلائی اووروں کی تعمیر کا کام جاری ہونے کے سبب کئی مقامات پر سڑک تنگ ہو چکی ہے۔ بارش کے باعث گاڑیوں کی رفتار سست ہونے سے ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا اور پوری شاہراہ پر آمد و رفت کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: جولائی کے پہلے ہی دن ممبئی میں موسلا دھار بارش، معمولات زندگی متاثر
شدید ٹریفک جام کے باعث روزانہ ممبئی، تھانے اور بھیونڈی کے درمیان سفر کرنے والے ملازمین، کاروباری افراد اور عام شہریوں کو گھنٹوں سڑکوں پر پھنسے رہنا پڑا۔ متعدد مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاروں کے سبب ایمبولینس اور ضروری خدمات کی گاڑیوں کو بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ٹریفک جام کی اطلاع ملنے کے بعد ٹریفک پولیس کے اہلکار مختلف مقامات پر پہنچے اور ٹریفک کو معمول پر لانے کی کوششیں کیںلیکن گاڑیوں کی غیر معمولی تعداد اور جاری تعمیراتی کام کے باعث صورتحال پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔ واضح رہے کہ منگل کو بھی اسی شاہراہ پر کئی گھنٹوں تک شدید ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوئی تھی۔
مقامی شہریوں اور گاڑی چلانے والوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تھانے-بھیونڈی بائی پاس پر جاری تعمیراتی کام کو ترجیحی بنیادوں پر جلد مکمل کیا جائے، تاکہ برسات کے موسم میں اس اہم شاہراہ پر بار بار پیدا ہونے والی ٹریفک کی سنگین صورتحال سے عوام کو راحت مل سکے۔