Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسمارٹ پری پیڈ میٹرس کی جانچ کے حوالے سے کنزیومر کونسل نے سوالات اٹھائے

Updated: May 15, 2026, 10:02 PM IST | Lucknow

اتر پردیش میں اسمارٹ پری پیڈ میٹرس کی کوالیٹی کی جانچ کے تعلق سے تنازع گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

Smartmeter.Photo:INN
اسمارٹ میٹر۔ تصویر:آئی این این

اتر پردیش میں اسمارٹ پری پیڈ میٹرس کی کوالیٹی کی جانچ کے تعلق سے تنازع گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ اتر پردیش اسٹیٹ الیکٹرسٹی کنزیومر کونسل کے صدر اور مرکزی حکومت کے توانائی کے شعبے کے اعلیٰ آئینی ادارےسینٹرل ایڈوائزری کمیٹی  کے رکن اودھیش کمار ورما نے نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ فار ٹیسٹنگ اینڈ کیلیبریشن لیبارٹریز (این اے بی ایل) کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو تفصیلی شکایت بھیج کر مدھیانچل ودیوت وترن نگم لمیٹڈ کی ہائی ٹیک لیب پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مدھیانچل ودیوت وترن نگم لمیٹڈ کی ہائی ٹیک لیب کو اسمارٹ پری پیڈ میٹرس کے ہندوستانی معیار آئی ایس۱۶۴۴۴؍کے تحت جانچ کا لائسنس حاصل نہیں ہے، اس کے باوجود ریاست میں اسمارٹ پری پیڈ میٹرس کی جانچ اسی لیب کے ذریعے کرائی جا رہی ہے۔
کنزیومر کونسل کے مطابق مدھیانچل ودیوت وترن نگم کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس نوٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس کی ہائی ٹیک لیب ہندوستانی معیار آئی ایس ۱۳۷۷۹، آئی ایس ۱۴۶۷۹؍ اور آئی ایس  ۱۶۴۴۴؍ کے مطابق اسمارٹ میٹرس کے ایکسپٹنس ٹیسٹ  کے لیے مجاز ہے۔ تاہم کونسل کی جانب سے این اے بی ایل کے لائسنس اور اسکوپ آف ایکریڈیٹیشن کی جانچ کرنے پر یہ واضح ہوا کہ لیب کو آئی ایس ۱۶۴۴۴؍ کے تحت اسمارٹ پری پیڈ میٹروں کی جانچ کی منظوری حاصل نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ممبئی انڈینز کی سنسنی خیز جیت، پنجاب کنگز کو مسلسل پانچویں ہار کا سامنا


اودھیش کمار ورما نے بتایا کہ اس سلسلے میں تمام شواہد کے ساتھ شکایت کی تجویز این اے بی ایل کو بھیجی گئی تھی، جس پر این اے بی ایل نے شکایت قبول کرتے ہوئے نظرثانی کا عمل شروع کرنے کی اطلاع دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو لے کر اتر پردیش الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن میں بھی عوامی اہمیت کی تجویز داخل کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسمارٹ میٹروں کی عام جانچ دیگر معیارات کے تحت ہو سکتی ہے، لیکن اسمارٹ پری پیڈ میٹر کی سب سے اہم اور حساس تکنیکی جانچ صرف وہی لیباریٹری کر سکتی ہے جسے آئی ایس ۱۶۴۴۴؍ کے تحت باقاعدہ منظوری حاصل ہو۔

یہ بھی پڑھئے:تبو نے عمر، صنفی تعصب اور فلمی صنعت کے دباؤ پر کھل کر بات کی


انہوں نے بتایا کہ وزارت تجارت و صنعت نے۱۴؍ جولائی ۲۰۲۳ءکو اسمارٹ میٹرس کے لیے کوالیٹی کنٹرول آرڈر جاری کیا تھا۔ اس کے بعد اگست ۲۰۲۳ء میں وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے پر خصوصی زور دیا تھا۔ کنزیومر کونسل کے صدر کے مطابق اسمارٹ میٹروں کی اہم جانچ میں الیکٹریکل ریکوائرمنٹ، توانائی کی کھپت، ریڈیو ٹیکنالوجی، کمیونیکیشن کی صلاحیت، ڈیٹا ٹرانسمیشن، سائبرسیکوریٹی اور ایڈوانسڈ ٹیکنیکل انفراسٹرکچر سے جڑے ٹیسٹ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام ٹیسٹوں کو صرف مجاز لیباریٹریز کے ذریعے ہی کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کر کے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK