Inquilab Logo Happiest Places to Work

شدید گرمی میں بجلی گل ہونے سے صارفین پریشان

Updated: June 03, 2026, 2:58 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

شہرومضافات کے متعددعلاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی سے شہری گھروں کےباہر وقت گزارنے پر مجبور، گرگائوں میں بیسٹ کےمقامی دفترپر حملہ۔

Batti Gul.Photo:INN
بتی گل۔ تصویر:آئی این این
شدید گرمی میں اے سی ،کولر اور پنکھوں کے بڑھتے استعمال سے بجلی کی طلب زیادہ ہونے کی وجہ سے بجلی کے نظام پر زیادہ دباؤ پڑ رہا ہےجس کی وجہ سے گزشتہ ۲؍ مہینوں سے شہر ومضافات کے متعدد علاقوں مثلاً گرگائوں، محمدعلی روڈ ، ناگپاڑہ، بائیکلہ ،دادر ، ماہم ، سائن ، پرتیکشا نگر اور اندھیری وغیرہ میں بجلی سپلائی کے اکثر منقطع ہونے سے شہریوں کو بڑی پریشانی ہو رہی ہے ۔ اتوار اور پیر کو بھی ورسوا اور گرگائوں کے علاوہ دیگر علاقوں میں گھنٹوں بجلی نہ ہونے سے لوگوں نے گھروں کے باہر وقت گزارا ۔ اس کے علاوہ اس تعلق سے بیسٹ اور دیگر بجلی کی کمپنیوں میں شکایت کے باوجود جواب نہ ملنے سے عوام میں ناراضگی پائی جا رہی ہے ۔ متواتر بجلی گل ہونے سے گرگائوں میں بیسٹ کے پاٹھک واڑی دفتر پر صارفین نے حملہ کیا اور مسئلہ حل نہ ہونے پر احتجاج کی دھمکی دی ہے ۔  مرین لائنس ریلوے اسٹیشن اور گرگائوں ریسیونگ ٹرانسفارمر میں اتوار کی دوپہر تقریباً ساڑھے ۱۲؍بجے کیبل میں خرابی پیدا ہونے سے گرگائوں اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بجلی سپلائی بند رہی۔ بجلی کی فراہمی پیر کی صبح ۷؍بجے تک معطل رہی جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح ورسوا ، ماہم اور شیتلا دیوی علاقے کے مکینوں کو اتوار کی آدھی رات کو بجلی گل ہونے سے رات بھر اندھیرے میں گزارنا پڑا ۔اتوار کی رات شیتلا دیوی علاقے میں کیبل میں خرابی کی وجہ سے بجلی کی سپلائی میں خلل پڑا تھا، جس کی وجہ سے مکین اپنا گھر  چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے ۔ 
ورسوار ،پنچ مارگ پر واقع پارک پلازہ کی مکین علیشا آفتاب احمد خان کے مطابق ’’ اتوار کی رات ۱۱؍بجے ہمارے علاقے کے علاوہ منیش نگر، چار اور سات بنگلہ اور یاری روڈ کے متعدد علاقوں کی بجلی منقطع ہونے سے شدید گرمی میں بڑی پریشانی ہوئی۔ میرے بزرگ ماموں مریض ہیں ، گھر میں اندھیرا اور گرمی ہونے سے انہیں گھبراہٹ ہورہی تھی۔ میں نے ٹاٹا پاور میں بجلی نہ ہونے کی شکایت کرنے کیلئے ہیلپ لائن نمبرپر رابطہ کرنے کی کوشش کی، متواتر ۴۰؍ منٹ فون لائن پر انتظار کرنے کے بعد متعلقہ نمائندہ سے بات ہوئی ، اس کے باوجود کوئی حل نہیں نکل سکا۔ دوسرے دن صبح ۹؍ بجے بجلی بحال ہوئی ۔ اس طرح گھر والوں نے تقریباً ۱۰؍گھنٹے بجلی کےبغیر گزارا ۔ ‘‘  
 
 
 
واضح رہے کہ گرگائوں علاقے میں گزشتہ ۲؍مہینوں سے مسلسل بجلی جا رہی ہے ،جس کے باعث شہریوں کو بڑھتی ہوئی گرمی میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اے سی، کولراور پنکھوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے بجلی کی طلب ساڑھے ۳؍ہزار سے ساڑھے ۴؍ ہزارمیگاواٹ کے درمیان پہنچ رہی ہے جس سے بجلی کے نظام پر دباؤ پڑ رہا ہے ۔ دوپہر ۲؍ سے ۳؍ بجے کے درمیان بجلی کی مانگ سب سے زیادہ ہوتی ہے، اور اے سی، کولر اور پنکھے آدھی رات کو بھی تیز رفتاری سے چل رہے ہیں ۔
 
 
محمد علی روڈ ، ناگپاڑہ، بائیکلہ ،سیوڑی ،سائن ، پرتیکشانگر، دادر اور ماہم کے علاقوں سے بھی ایسی شکایات ہیں کہ اسی طرح کے مسائل پیش آ رہے ہیں ۔ اس ضمن میں کنٹرول روم سے رابطہ کرنا بھی صارفین کیلئے درد سر بنتا جا رہا ہے۔ صارفین کو شکایت ہے کہ انہیں بار بار کال کرنے کے باوجود جواب نہیں مل رہا ہے ۔جس کی وجہ سے گرگاؤں والوں نے بی ای ایس ٹی کے پاٹھک واڑی دفتر پر حملہ بھی کیا ہے۔ اس مسئلہ کےپس منظر میں گرگائوں کے سابق کارپوریٹر دلیپ نائیک نے بیسٹ کمیٹی کی صدر ترشنا وشواس راؤ سے وفدکی صورت میں ملاقات کر کے گرگاؤں کے شہریوں کو درپیش مسائل کے بارے میں جانکاری دی اور بتایا کہ گرگائوں کے شہریوں نے ایک ہفتہ میں ۲؍ بار بیسٹ کے پاٹھک واڑی دفتر پر حملہ بھی کیا ہے۔جلد یہ مسئلہ حل نہیں ہوا تو احتجاج بھی کیا جا ئے گا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK