صنعتکاروں نےآن لائن رجسٹریشن سے کا انکار کردیا۔
EPAPER
Updated: July 27, 2026, 11:32 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
صنعتکاروں نےآن لائن رجسٹریشن سے کا انکار کردیا۔
بھیونڈی،( خالد عبدالقیوم انصاری): پاورلوم سبسڈی اسکیم کے آن لائن رجسٹریشن فارم کے ۱۵؍ویں کالم پر پیدا ہونے والا تنازع ختم ہونے کے بجائے مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ بھیونڈی کے پاورلوم صنعتکاروں نے ایک بار پھر دوٹوک اعلان کیا ہے کہ جب تک اس متنازع کالم میں ترمیم نہیں کی جاتی، وہ سبسڈی اسکیم کے لئے آن لائن رجسٹریشن نہیں کرائیں گے۔ ساسلکو ہاؤس میں منعقد بیداری و رہنمائی اجلاس میں محکمۂ ٹیکسٹائل کے افسران بنکروں کو رجسٹریشن کے طریقۂ کار کو بہتر انداز میں سمجھایا اور انہیں جلد از جلد رجسٹریشن کرانے پر زور دیا۔ مگر صنعتکاروں نے واضح کر دیا کہ ان کا اصل اعتراض ۱۵؍ویں کالم پر ہے، جسے وہ ناقابلِ قبول قرار دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ریٹائرڈ سرکاری افسر آن لائن فراڈ کا شکار
صنعتی نمائندوں نے بتایا کہ ۱۳؍ مئی ۲۰۲۶ء کو منترالیہ میں منعقد ریاستی اجلاس میں بھی اس کالم کی متفقہ مخالفت کی گئی تھی۔ بعد ازاں وزیر ٹیکسٹائل سنجے ساوکھرے اور اعلیٰ حکام کے ساتھ ہونے والی نشست میں بھی اس مسئلے پر غور کیا گیا، تاہم اب تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ حکام کے مطابق چونکہ یہ معاملہ مزدوروں سے متعلق پالیسی سے وابستہ ہے، اس لئے اس کا فیصلہ وزیر اعلیٰ کی سطح پر ہی ممکن ہے۔نمائندوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ٹیکسٹائل کمشنر کو بھی تحریری اعتراض پیش کیا جا چکا ہے، لیکن انہیں جواب ملا کہ یہ معاملہ ان کے دائرۂ اختیار سے باہر ہے۔ بیداری اجلاس میں بھی ۱۵؍ویں کالم کے بارے میں کوئی وضاحت نہ ملنے پر صنعتکاروں نے متعلقہ افسران کو یادداشت پیش کرتے ہوئے اپنا سابقہ مؤقف دہرایا۔پاورلوم تنظیموں نے واضح کیا کہ ۱۵؍ویں کالم میں ترمیم تک آن لائن رجسٹریشن کا بائیکاٹ جاری رہے گا۔ نمائندوں کے مطابق اس تعطل کے خاتمے کے لئے مقامی رکنِ اسمبلی کے ذریعے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی کوششیں جاری ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک حکومت کی مداخلت ہی اس تنازع کا واحد مؤثر حل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یہ’ اندھ بھکتوں‘کے خلاف ’دیش بھکتوں‘ کی فتح ہے:ادھوٹھاکرے
۱۵؍واں کالم کیا ہے؟
پاورلوم سبسڈی اسکیم کی آن لائن رجسٹریشن میں کالم نمبر ۱۵؍کے تحت پاورلوم پر کام کرنے والے کاریکروں، مزدوروں اور دیگر عملے کی تفصیلات درج کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔پاورلوم تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ شرط ۱۹۷۴ء کے پرانے ضابطوں پر مبنی ہے، جب فی پرمٹ صرف ۴؍ پاورلوم کی اجازت تھی۔ موجودہ دور میں ایک کارخانے میں ۱۰؍ سے ۲۴؍یا اس سے زیادہ پاورلوم اور کئی مزدور کام کرتے ہیں، اس لئے یہ شرط عملی نہیں رہی اور اس کے باعث فیکٹری ایکٹ، لیبر چیکنگ اور قانونی کارروائیوں کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔