Inquilab Logo Happiest Places to Work

کاکروچ جنتا پارٹی کے غصے کو جمہوری جدوجہد میں بدلیں:ششی تھرور کا جین زی کو مشورہ

Updated: June 04, 2026, 9:01 PM IST | New Delhi

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے وائرل ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ (سی جے پی) تحریک کی مقبولیت کو نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی کا عکاس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ اور نوجوانوں کے خدشات حقیقی اور جائز ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سوشل میڈیا پر احتجاج کے بجائے جمہوری اور قانونی ذرائع سے احتساب کا مطالبہ کیا جائے۔ تھرور نے نوجوانوں کو آر ٹی آئی، عوامی نمائندوں سے رابطے، عدالتی کارروائی اور منظم تحریکوں کے ذریعے نظام میں اصلاحات لانے کا مشورہ دیا۔

Shashi Tharoor.Photo:INN
ششی تھرور۔ تصویر:آئی این این

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے جمعرات کو وائرل ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ (سی جے پی) تحریک سے وابستہ نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی ناراضی اور مایوسی کو صرف سوشل میڈیا تک محدود رکھنے کے بجائے جمہوری اور ادارہ جاتی ذرائع کے ذریعے تبدیلی لانے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک کی تیزی سے مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے نوجوان موجودہ سیاسی و انتظامی نظام، بالخصوص امتحانات اور بھرتیوں سے متعلق تنازعات، سے شدید مایوسی کا شکار ہیں۔ انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں تھرور نے تحریک کے بانی ابھیجیت دپکے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ نے سوشل میڈیا پر آغاز کے فوراً بعد غیرمعمولی توجہ حاصل کی۔ انہوں نے لکھا کہ ’’انسٹاگرام آپ کا ٹاؤن اسکوائر ہے، لیکن یہ بیلٹ باکس نہیں ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایک سال بعد نریندر مودی وزیر اعظم نہیں ہوں گے: راہل گاندھی کا دعویٰ

نوجوانوں کے جذبات کو تسلیم کرتے ہوئے تھرور نے کہا کہ ’’آپ میں سے جو لوگ خود کو کھویا ہوا، غصے میں اور مایوس محسوس کرتے ہیں، ان کا درد دیکھا جا رہا ہے اور ان کی آواز سنی جا رہی ہے۔ سی جے پی کی حمایت کرنے کی آپ کی وجوہات درست ہیں۔‘‘ انہوں نے حالیہ برسوں میں مختلف مسابقتی امتحانات میں سامنے آنے والے پیپر لیک، بے ضابطگیوں اور انتظامی ناکامیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات لاکھوں طلبہ کی محنت اور مستقبل کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہیں۔ تاہم تھرور نے خبردار کیا کہ صرف آن لائن غصے اور سوشل میڈیا مہمات پر انحصار مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق، مایوسی کے اظہار کے لیے ڈجیٹل پلیٹ فارمز اہم ضرور ہیں، لیکن حقیقی تبدیلی منظم جمہوری کوششوں سے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں سے براہ راست جواب طلب کریں، حق معلومات کے قانون (آر ٹی آئی) کا استعمال کریں اور امتحانات اور بھرتیوں کے نظام میں مکمل شفافیت کا مطالبہ کریں۔ تھرور نے لکھا، ’’بطور رکن پارلیمنٹ، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ اپنے نمائندوں کو جوابدہ بنا سکتے ہیں۔‘‘ کانگریس لیڈر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ احتجاج کو واضح اور قابلِ عمل پالیسی مطالبات کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق جب اختلافِ رائے ٹھوس تجاویز اور منظم مطالبات کے ساتھ سامنے آتا ہے تو میڈیا اور حکام دونوں مسئلے کے حل پر توجہ دینے پر مجبور ہوتے ہیں، بجائے اس کے کہ معاملہ صرف ایک وقتی تنازع بن کر رہ جائے۔

یہ بھی پڑھئے: مظفر پور میں خوفناک آتشزدگی،آئی سی یو میں آگ لگنےسے۱۰؍مریض جاں بحق

تھرور نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ طلبہ تنظیموں، قانونی اداروں، سول سوسائٹی گروپوں اور پالیسی فورمز کے ساتھ مل کر اپنی جدوجہد کو مؤثر بنائیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’’جمہوری تاریخ کی کامیاب ترین تحریکیں صرف نعرے نہیں لگاتی تھیں؛ وہ منظم ہوتی تھیں، مسودے تیار کرتی تھیں، لابنگ کرتی تھیں اور مسلسل جدوجہد کرتی تھیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضروری ہو تو عدالتوں سے بھی رجوع کیا جانا چاہیے اور محض ٹرینڈنگ ہیش ٹیگز یا سوشل میڈیا مہمات پر انحصار کرنے کے بجائے مضبوط قانونی مقدمات تیار کیے جانے چاہئیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK