Inquilab Logo Happiest Places to Work

نئے برطانوی وزیراعظم برنہم نے اپنی کابینہ کی ٹاپ ٹیم تشکیل دینا شروع کر دی

Updated: July 22, 2026, 10:51 AM IST | London

شبانہ محمود پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہوم سیکریٹری کے عہدے پر برقرار رکھا ،جان ہیلی کو وزیر خزانہ بنایا گیا، ایڈ ملی بینڈ کو وزارت خارجہ۔

Home Secretary Shabana Mahmood, Foreign Secretary Ed Miliband and John Healy. Photo: INN
ہوم سیکریٹری شبانہ محمود، خارجہ سیکریٹری ایڈ ملی بینڈ اور جان ہیلی۔ تصویر: آئی این این

برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنم نے اپنی کابینہ کی ٹاپ ٹیم تشکیل دینا شروع کر دی ہے۔پاکستان نژاد شبانہ محمود پراعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہوم سیکریٹری(وزیر داخلہ) کے عہدے پر برقرار رکھا گیا ہے۔ وہ اس سے قبل کیئر اسٹارمر کی کابینہ میں بھی ہوم سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔برطانیہ کی سیاست میں ہوم سیکریٹری کا عہدہ وزیراعظم اور چانسلر آف دی ایکس چیکر (وزیر خزانہ)کے بعد سب سے اہم عہدوں میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ اس وزارت کے تحت امیگریشن، قومی سلامتی، پولیس اور داخلی امور جیسے حساس شعبے آتے ہیں۔شبانہ محمود اور ایڈ ملی بینڈ کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ انہیں وزیر خزانہ مقرر کیا جا سکتا ہے تاہم وزیراعظم برنہم نے یہ اہم ذمہ داری سابق ڈیفنس سیکریٹری جان ہیلی کو سونپ دی ہے۔جان ہیلی نے گزشتہ ماہ دفاعی اخراجات میں کمی کے معاملے پر اختلاف کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر کی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

نئی کابینہ میں ایڈ ملی بینڈ کو وزیر خارجہ مقرر کیا گیا ہےجبکہ مزید پاکستان نژاد اراکین کو بھی اہم حکومتی ذمہ داریاں ملنے کی توقع کی جارہی ہے۔برطانیہ کی کابینہ میں عموماً ۲۳؍ سینئر وزراء شامل ہوتے ہیں، جن میں زیادہ تر سیکریٹریز آف اسٹیٹ ہوتے ہیں۔ یہی وزراء حکومت کے اہم ترین پالیسی اور انتظامی فیصلے کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل غزہ کو مستقل طور پر تقسیم کرنے والی رکاوٹ تعمیر کررہا ہے: سیٹیلائٹ تصاویر میں انکشاف

مجموعی طور پر برطانوی حکومت کی وزارتی ٹیم میں تقریباً ۱۲۴؍ وزراء شامل ہوتے ہیں جن میں وزیراعظم، کابینہ کے وزراء، وزرائے مملکت اور پارلیمانی انڈر سیکریٹریز شامل ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق کیئر اسٹارمر کی حکومت کی کارکردگی سے مایوس عوام نے اینڈی برنہم کی حکومت سے بڑی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔اب نئی حکومت کے  لئے اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ عوامی مسائل کے حل، معیشت کی بہتری اور بنیادی خدمات میں بہتری کے فوری اقدامات کس حد تک کر پاتی ہے۔اگر عوامی توقعات پوری نہ ہوئیں تو حکومت کی ساکھ اور مقبولیت بھی تیزی سے متاثر ہوسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK