راجیہ سبھا کے چیئر مین سی پی رادھا کرشنن کی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو کو واضح ہدایت۔
EPAPER
Updated: August 07, 2026, 10:57 AM IST | New Delhi
راجیہ سبھا کے چیئر مین سی پی رادھا کرشنن کی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو کو واضح ہدایت۔
وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر اعظم مودی کی پارلیمنٹ سے غیر حاضری پر راجیہ سبھا میں جمعرات کو بھی ہنگامہ آرائی اور احتجاج رہا ۔ اسی درمیان قائد حزبِ اختلاف ملکارجن کھرگے کی جانب سے مرکزی وزیر داخلہ کی ایوان میں موجودگی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس پر چیئرمین راجیہ سبھا سی پی رادھا کرشنن نے پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو کو ہدایت دی کہ و ہ اپوزیشن کے اس موقف اور مطالبہ کو حکومت تک پہنچائیں۔ایوان میں جاری شور شرابے کے دوران چیئرمین نے واضح کیا کہ قائد حزبِ اختلاف کسی وزیر کو ہدایت نہیں دے رہے ہیں بلکہ صرف ایک مطالبہ پیش کر رہے ہیں جس پر حکومت کو غور کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی امور کے وزیر کی حیثیت سے کرن رجیجو اپوزیشن کی اس خواہش اور مطالبے کو حکومت کے سامنے پیش کرسکتے ہیں۔ اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ چیئرمین نے کہاکہ قائد حزبِ اختلاف صرف اپنی بات رکھ رہے ہیں، وہ کسی کو حکم نہیں دے رہے۔ آپ پارلیمانی امور کے وزیر کے طور پر ان کی بات حکومت تک پہنچا سکتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: جنترمنتر سے مشہور ہوئے جنید ’بھائی‘ رانچی بھی پہنچ گئے
اس کے جواب میں کرن رجیجو جو کافی حیران اور برہم نظر آئے، نے کہا کہ یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ کس دن کون سا وزیر ایوان میں حاضر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اس حوالے سے حکومت کو ہدایات نہیں دے سکتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت ایوان میں وقفۂ سوالات جاری ہے، لیکن مسلسل ہنگامے کی وجہ سے ایوان کی کارروائی متاثر ہو رہی ہے۔رجیجو نے کہا کہ ایوان کو منظم طریقے سے چلانا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ان کے مطابق انہوں نے کسی رکن کے خلاف ذاتی تبصرہ نہیں کیا بلکہ صرف راجیہ سبھا کے قواعد و ضوابط کا حوالہ دیا ہے، جن کے مطابق کارروائی چلنی چا ہئے۔
اس سے قبل اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے نے رجیجو کے بیان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پارلیمانی قواعد سکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اب انہیں قواعد بھی کرن رجیجو سے سیکھنے پڑیں گے۔ اس پر جواب دیتے ہوئے رجیجو نے کہا کہ ان کا مقصد کسی رکن کی توہین کرنا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ کھرگے جی ایک سینئر رکن ہیں اور ان کا مکمل احترام کیا جاتا ہے، تاہم انہوں نے اپنی دلیل کے حق میں کسی مخصوص پارلیمانی قاعدے کا حوالہ نہیں دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: دیپک پرکاش کو گورنر نے بہار قانون ساز کونسل کا رکن نامزد کر دیا، وزارت بچ گئی
اس درمیان چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے ایک مرتبہ پھر تمام اراکین سے اپیل کی کہ وہ ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھیں اور وقفہ سوالات کو چلنے دیں تاکہ عوامی اہمیت کے معاملات پر بحث اور سوالات مکمل ہو سکیں۔ تاہم ان کی اپیل کے باوجود ایوان میں ہنگامہ اور جاری رہا اور کارروائی متاثر ہوتی رہی۔مسلسل شور شرابے اور تعطل کے سبب چیئرمین نے آخرکار راجیہ سبھا کی کارروائی ملتوی کر دی۔