Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۹؍ہزار ۷۰۰؍ برتھ سرٹیفکیٹ کی تصحیح منسوخ کردی گئی

Updated: June 11, 2026, 11:03 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

اس کا مطلب یہ ہوگا کہ برتھ سرٹیفکیٹ منسوخ نہیں ہوں گے، صرف تبدیلیاں رد ہوجائیں گے۔

Birth Certificate.Photo;INN
برتھ سرٹیفکیٹ۔ تصویر:آئی این این
 ۲۰۲۴ء سے ۲۰۲۶ء کے درمیان ۱۹؍ ہزار ۷۳۴؍ برتھ سرٹیفکیٹ میں کی گئی تصحیح کو غیرقانی قرار دیتے ہوئے ’مہاراشٹر ہیلتھ سروسیز ڈائریکٹوریٹ‘ نے ان سرٹیفکیٹ میں کی گئی تبدیلیوں کو منسوخ کرکے ان کے اصلی ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا۔ اب یہ سرٹیفکیٹ منسوخ نہیں ہوں گے بلکہ صرف تبدیلیاں رد ہوں گی۔
یاد رہے کہ بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے الزام عائد کیا تھا کہ ہزاروں کی تعداد میں بنگلہ دیشیوں نے جعلی برتھ سرٹیفکیٹ بنوائے ہیں۔ اگرچہ اس معاملے کی تحقیق کیلئے ’اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی)‘ تشکیل دی گئی ہے لیکن ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ معاملہ مکمل طور پر فرضی برتھ سرٹیفکیٹ کا نہیں ہے بلکہ بات یہ ہے کہ بی ایم سی میں برتھ سرٹیفکیٹ کے رجسٹریشن کیلئے ماضی میں ’ایس اے پی۔سی پی ڈبلیو ایم‘ سسٹم استعمال ہوتا تھا جسے ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۵ء سے بند کردیا گیا ہے۔ اس کی جگہ ’سی آر ایس (سول رجسٹریشن سسٹم) ‘ شروع کیا گیا ہے۔ تاہم یہ بات سامنے آئی ہے کہ یکم جنوری ۲۰۲۴ء سے ۳۱؍ مارچ ۲۰۲۶ء تک دونوں سسٹم متوازی طور پر استعمال کئے جارہے تھے۔
پرانا سسٹم منسوخ اور سی آر ایس لازمی قرار دیئے جانے کے باوجود ’میڈیکل ہیلتھ آفیسر(ایم ایچ او)‘ ’ایس اے پی۔سی پی ڈبلیو ایم‘ پر نام وغیرہ کی تصحیح کرکے برتھ سرٹیفکیٹ جاری کررہے تھے جس کے نتیجے میں نئے سسٹم پر سے ۲۰۲۴ء سے ۲۰۲۶ء کے درمیان ۳۳؍ ہزار ۷۷۲؍ جبکہ اس کے مقابلے پرانے سسٹم سے اسی مدت کے دوران اس سے دوگنا سے بھی زیادہ ۸۷؍ ہزار ۳۴۷؍ برتھ سرٹیفکیٹ جاری کئے گئے ہیں۔ 
 
 
پرانے سسٹم کو استعمال کرتے ہوئے برتھ سرٹیفکیٹ میں جو تبدیلیاں کی گئی ہیں کریٹ سومیا انہی کے تعلق سے دعویٰ کررہے ہیں کہ یہ روہنگیا اور بنگلہ دیشیوں نے فرضی اور جعلی دستاویز کی بنیاد پر جعلی برتھ سرٹیفکیٹ حاصل کئے ہیں۔ البتہ اب ’مہاراشٹر ہیلتھ سروسیز ڈائریکٹوریٹ‘ نے ۱۹؍ ہزار ۷۳۴؍ برتھ سرٹیفکیٹ میں کی گئی تبدیلیوں کو منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ برتھ سرٹیفکیٹ منسوخ نہیں ہوں گے بلکہ صرف ان میں کی گئی تصحیح کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق ان سرٹیفکیٹ میں ’رجسٹریشن آف برتھ اینڈ ڈیتھ(آر بی ڈی)‘ ایکٹ کے اصولوں پر عملدرآمد نہیں کیا گیا ہے اس لئے ان تبدیلیوں کو تسلیم نہ کرتے ہوئے پرانے اور اصل ریکارڈ کو ہی قابل قبول مانا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی متعلقہ افسران نے ان تمام ۱۹؍ ہزار سے زائد سرٹیفکیٹ کے ریکارڈ کی جانچ کرکے مناسب کارروائی کرنے اور اس کارروائی کی رپورٹ پونے میں ڈپٹی چیف رجسٹرار کو پیش کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
 
 
پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے ایک افسر کے مطابق ابتدائی جانچ میں پتہ چلا ہے کہ ان ۱۹؍ ہزار میں سے ۱۶؍ ہزار ۵۲۸؍ سرٹیفکیٹ میں تصحیح کیلئے کوئی ’سپورٹنگ‘ دستاویز جمع ہی نہیں کئے گئے تھے جبکہ دیگر ۳؍ ہزار ۲۰۶؍ سرٹیفکیٹ کیلئے ناکافی دستاویز دیئے گئے تھے۔
دیونار کی ایف آئی آر  ایس آئی ٹی کے حوالے
دیونار پولیس اسٹیشن میں ۱۷؍ فروری ۲۰۲۶ء کو ڈاکٹر سنجے فُنڈے اور ڈاکٹر پردیپ کاشالے کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بغیر تصدیق کئے برتھ سرٹیفکیٹ میں تبدیلیوں کی اجازت دے دی تھی۔ اس معاملے کو تفتیش کیلئے ایس آئی ٹی کو سونپ دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK