ٹاٹا کمیو نی کیشن کا اہم فیصلہ، ممبئی اورچنئی سمیت کئی بڑے شہروں کو جوڑنے کیلئے ۱۰؍ ہزار کلومیٹر طویل نیٹ ورک بنایا جائے گا’اے آئی سپر ہائی وے‘ کا نام دیا۔
EPAPER
Updated: October 27, 2026, 1:04 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
ٹاٹا کمیو نی کیشن کا اہم فیصلہ، ممبئی اورچنئی سمیت کئی بڑے شہروں کو جوڑنے کیلئے ۱۰؍ ہزار کلومیٹر طویل نیٹ ورک بنایا جائے گا’اے آئی سپر ہائی وے‘ کا نام دیا۔
ٹاٹا گروپ کی کمپنی ٹاٹا کمیونی کیشن نے ہندوستان میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال کو دیکھتے ہوئے ایک نیا فائبر نیٹ ورک بنانے پر۴۰۰؍ سے۴۵۰؍ملین ڈالریعنی تقریباً ۳۵۰۰؍ سے ۴؍ ہزار کروڑ روپے، خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔اس کا اعلان پیر کو کیاگیا۔ مجوزہ نیٹ ورک اگلے ۳؍سے ۵؍برسوں میں تیار کر لیا جائے گا۔ اس کے ذریعے ملک کے اہم ڈیٹا سینٹرس اور اے آئی مراکز کو آپس میں جوڑا جاسکے گا۔کمپنی نے اسے ’’اے آئی سپر ہائی وے‘‘ کا نام دیا ہے۔یہ نیٹ ورک تقریباً۱۰؍ہزار کلومیٹر طویل اوربیک وقت بڑی مقدار میں ڈیٹا کی ترسیل کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔ اس سے اے آئی اور کلاؤڈ سروسیز فراہم کرنے والی کمپنیوں کو تیز رفتار اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ رابطہ حاصل ہوگا۔ کمپنی کو امید ہے کہ مالی سال ۲۹-۲۰۲۸ء سے اس منصوبہ سے خاطر خواہ آمدنی حاصل ہونے لگے گی۔
تمام شہروں کو جوڑا جائےگا
یہ نیٹ ورک تین مرحلوں میں بنایا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں ممبئی، پونے، حیدرآباد اور چنئی کو جوڑا جائے گا۔ دوسرے مرحلے میں حیدرآباد، وشاکھاپٹنم اور چنئی کے درمیان رابطہ قائم کیا جائے گا۔ تیسرے مرحلے میں بھونیشور، وشاکھاپٹنم، بنگلور، چنئی، ممبئی، احمد آباد اور جام نگر کو نیٹ ورک سے جوڑا جائے گا۔ اس میں گجرات کا گفٹ سٹی بھی شامل ہوگا، جہاں مالیاتی اور ٹیکنالوجی سے متعلق کاروبار تیزی سے فروغ پارہے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے جدید نظام کو بڑی مقدار میں ڈیٹا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ڈیٹا کو تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کیلئےعام نیٹ ورک کے مقابلے میں زیادہ صلاحیت والے نظام کی ضرورت ہے۔ نیا فائبر نیٹ ورک ڈیٹا کی ترسیل میں تاخیر کم کرنے اور بڑے ڈیٹا سینٹرس کے درمیان رابطہ بہتر بنانے میں مدد دے گا۔
یہ بھی پڑھئے: مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں، سیکڑوں فلسطینی بے گھر
منصوبہ کیلئے رقم کہاں سے آئے گی؟
ٹاٹا کمیونی کیشنز کے مطابق اس منصوبے کیلئے رقم کمپنی اپنے کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سے خرچ کرے گی۔ کمپنی کے نیٹ ورک کو استعمال کرنے کیلئے ٹیکنالوجی کمپنیوں، کلاؤڈ سروس فراہم کرنے والوں، اے آئی پلیٹ فارمز اور دیگر کاروباری اداروں سے بات چیت جاری ہے۔ نیٹ ورک کی گنجائش دیگر کمپنیوں کو بھی طویل مدتی معاہدوں کے تحت استعمال کرنے کیلئے دی جائے گی۔
ٹاٹا کا زیر سمندر فائبر نیٹ ورک
ٹاٹا کمیونی کیشنز پہلے ہی دنیا بھر میں زیر سمندر اور زمینی فائبر نیٹ ورک چلا رہی ہے۔ کمپنی کے پاس ۵؍ لاکھ کلومیٹر سے زیادہ زیر سمندر آپٹیکل فائبر اور۲؍لاکھ کلومیٹر سے زیادہ زمینی فائبر نیٹ ورک موجود ہے۔نئے منصوبے کے ذریعہ کمپنی ہندوستان میں اپنی خدمات کو مزید وسعت دینا نیز اے آئی اور کلاؤڈ کے شعبوں میں بڑھتی ہوئی مانگ سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔اس نیٹ ورک کی گنجائش۷ء۲؍ پیٹا بائٹس ہوگی۔ اس کے ذریعے ملک بھر میں ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی کے اہم مراکز کو آپس میں جوڑا جائے گا۔
ملک میں ڈیٹاسینٹرس میں اضافہ
ٹاٹا کمیونی کیشنز کی یہ سرمایہ کاری ہندوستان میں ڈیٹا سینٹرس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کے درمیان سامنے آئی ہے۔ ملک میں ڈیٹا سینٹرس کی تعداد۱۱۸؍سے بڑھ کر۱۸۰؍ہونے اور ان کے ذریعے۱۹؍گیگاواٹ کے آئی ٹی ورک لوڈ کو سنبھالنے کی توقع ہے۔ اسی دوران جنریٹیو اے آئی اور ایجنٹک اے آئی کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔کمپنی کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ان کاموں کیلئے ایسے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے جو روایتی نیٹ ورکس کی صلاحیت سے کہیں زیادہ جدید ہو۔