Updated: October 26, 2026, 9:04 PM IST
| London
برطانیہ کے دارالحکومت میں تقریباً ایک کلومیٹر طویل حصے پر کاروں، بسوں، ٹیکسیوں اور سائیکلوں کا داخلہ بند کردیا گیا؛ میئر صادق خان کو امید ہے کہ اس تبدیلی سے دکانوں کی رونق بحال ہوگی اور سرمایہ کاری بڑھے گی، لیکن ویسٹ منسٹر کونسل نے آس پاس کی سڑکوں پر ٹریفک، شور اور فضائی آلودگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
برطانیہ کی مشہور آکسفورڈ اسٹریٹ نے پیر سے ایک نئے دور میں قدم رکھا ہے۔ لندن کے اس معروف تجارتی مرکز کے تقریباً ایک کلومیٹر طویل حصے کو عام ٹریفک کے لیے بند کرکے پیدل چلنے والوں کے لیے مختص کردیا گیا ہے۔ یہ حصہ سیلفرجز کے قریب آرچرڈ اسٹریٹ سے گریٹ پورٹلینڈ اسٹریٹ تک پھیلا ہوا ہے، جو آکسفورڈ سرکس کے مشرق میں واقع ہے۔ نئی پابندیوں کے تحت اس راستے سے کاریں، بسیں، ٹیکسیاں، نجی کرایے کی گاڑیاں، سائیکلیں، اسکوٹر اور پیڈی کیب نہیں گزر سکیں گے۔ لندن کے میئر صادق خان نے اسے شہر کے لیے ایک اہم موقع قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس اقدام سے آکسفورڈ اسٹریٹ کی تجارتی کشش بحال ہوگی، خریداروں اور سیاحوں کی تعداد بڑھے گی اور بڑے برانڈز کو دوبارہ یہاں سرمایہ کاری کی ترغیب ملے گی۔ آکسفورڈ اسٹریٹ دنیا کی معروف ترین خریداری کی شاہراہوں میں شمار ہوتی ہے۔ لندن حکام کے مطابق یہاں روزانہ تقریباً ۵؍ لاکھ افراد آتے ہیں اور اس علاقے میں سالانہ اخراجات کا تخمینہ ۱ء۳؍ ارب پاؤنڈ ہے۔ اس کے باوجود گزشتہ چند برسوں میں یہ علاقہ کئی مشکلات سے دوچار رہا ہے۔ آن لائن خریداری کے بڑھتے رجحان، کووڈ ۱۹؍ کی وبا، شہر سے باہر قائم بڑے تجارتی مراکز اور صارفین کی بدلتی عادتوں نے روایتی دکانوں پر دباؤ ڈالا۔ کئی معروف برانڈز نے اپنی دکانیں بند کیں، جبکہ بعض مقامات پر سووینئرز، سستی مٹھائیوں اور ویپنگ مصنوعات کی دکانوں میں اضافہ ہوا۔ میئر صادق خان کا کہنا ہے کہ آکسفورڈ اسٹریٹ کا زوال ناگزیر نہیں اور بہتر عوامی جگہیں بناکر اسے دوبارہ خریداروں اور بین الاقوامی برانڈز کی توجہ کا مرکز بنایا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: انتخابی نتائج کے بعد تشدد کا خدشہ، ۲۲؍ ہزار پولیس تعینات کرنے کی تیاری
صادق خان نے اس منصوبے کو اپنی طویل مدتی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ٹریفک سے آزاد جگہ میں لوگوں کو پیدل چلنے، خریداری کرنے اور مختلف ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے زیادہ مواقع ملیں گے۔ لندن انتظامیہ چاہتی ہے کہ آکسفورڈ اسٹریٹ کو نیویارک کے ٹائمز اسکوائر، پیرس کے شانزے لیزے اور بارسلونا کے لا رامبلا جیسے عالمی مقامات کی طرز پر ایک ایسی جگہ بنایا جائے جہاں خریداری کے ساتھ تفریح اور عوامی سرگرمیاں بھی ممکن ہوں۔ برطانوی حکومت کی وزیر انجیلا رینر نے بھی اس تبدیلی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے علاقے میں سرمایہ کاری، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے۔ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے لندن کی انتظامیہ نے کئی برس تک مختلف تجاویز پر غور کیا۔ آکسفورڈ اسٹریٹ کو پیدل چلنے والوں کے لیے مختص کرنے کی تجویز پہلے بھی سامنے آتی رہی، لیکن سیاسی اختلافات اور ویسٹ منسٹر سٹی کونسل کی مخالفت کے باعث منصوبہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ صادق خان نے ۲۰۱۶ء میں بھی اپنے انتخابی پروگرام میں اس شاہراہ کو ٹریفک سے آزاد بنانے کا خیال پیش کیا تھا۔ ۲۰۱۷ء میں تفصیلی منصوبے پر مشاورت ہوئی، لیکن اس وقت اسے عملی شکل نہیں دی جاسکی۔ ستمبر ۲۰۲۴ء میں اس خیال کو دوبارہ آگے بڑھایا گیا اور آکسفورڈ اسٹریٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن قائم کی گئی، جس کے ذریعے میئر کے دفتر کو علاقے کی تجدید اور ترقی میں زیادہ کردار ملا۔ ۲۰۲۵ء میں ہونے والی عوامی مشاورت میں بھی ٹریفک سے پاک آکسفورڈ اسٹریٹ کے تصور کو نمایاں حمایت حاصل ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک کے پارک میں ۸۹؍ ہزار ڈالر کا اے آئی روبوٹ، انسانوں سے میل جول کی تربیت
نئی پابندیوں کے باوجود آکسفورڈ اسٹریٹ کو ہر قسم کی گاڑیوں کے لیے مکمل طور پر ناقابلِ رسائی نہیں بنایا گیا۔ ہنگامی خدمات کی گاڑیاں کسی بھی وقت داخل ہوسکیں گی، جبکہ سامان پہنچانے اور دکانوں کی ضروریات کے لیے مخصوص گاڑیوں کو رات ۱۲؍ بجے سے صبح ۷؍ بجے تک اجازت ہوگی۔ نقل و حرکت میں دشواری کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے موبیلیٹی اسکوٹر بھی اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔ دوسری جانب، آکسفورڈ اسٹریٹ پر چلنے والی بسوں کے راستے تبدیل کیے گئے ہیں اور متبادل بس اسٹاپ عموماً بند کیے گئے حصے سے تقریباً ۲۰۰؍ میٹر کے فاصلے پر ہوں گے۔ ٹرانسپورٹ فار لندن نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سفر سے پہلے اپنے بس روٹ اور قریبی ٹیوب اسٹیشنوں کی معلومات ضرور دیکھ لیں۔ بانڈ اسٹریٹ، آکسفورڈ سرکس، ٹوٹنہم کورٹ روڈ اور ماربل آرچ اس علاقے تک پہنچنے کے اہم ذرائع رہیں گے۔ منصوبے کی حمایت کے باوجود اس پر تنقید بھی ہورہی ہے۔ ویسٹ منسٹر سٹی کونسل نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آکسفورڈ اسٹریٹ سے گاڑیوں کی آمدورفت ہٹانے کے بعد ٹریفک آس پاس کی نسبتاً تنگ سڑکوں پر منتقل ہوجائے گی، جس سے بھیڑ، شور اور فضائی آلودگی بڑھ سکتی ہے۔ کونسل کے ڈپٹی لیڈر ٹم بارنس نے رسائی، سڑکوں کی صفائی اور عوامی تحفظ کے انتظامات پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق اگر تیاری مناسب نہ ہوئی تو اس منصوبے کے فوائد کے مقابلے میں مشکلات زیادہ ہوسکتی ہیں۔ لندن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹریفک کے بہاؤ اور منصوبے کے اثرات پر مسلسل نظر رکھی جائے گی تاکہ ضرورت کے مطابق انتظامات میں تبدیلی کی جاسکے۔
یہ بھی پڑھئے: سپر یاٹ کیلئے امیروں میں مقابلہ، پارکنگ کے لیے مہنگی جگہ حاصل کرنا مشکل
فی الحال ٹریفک سے پاک بنانے کا یہ پہلا مرحلہ ہے اور اسے اس انداز میں نافذ کیا گیا ہے کہ لوگوں کے استعمال، کاروبار اور آس پاس کی سڑکوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جاسکے۔ حکام کے مطابق کرسمس کی خریداری کے مصروف موسم سے پہلے تعمیراتی کام محدود رکھا جائے گا۔ موسمِ بہار ۲۰۲۷ء کے اختتام تک اس علاقے میں ۵۰؍ سے زیادہ نئے درخت، ۱۰۰؍ سے زائد نشستیں، کھلے عوامی مقامات، کھانے پینے کے لیے جگہیں، بہتر روشنی اور واضح لیڈرئی کے نشانات نصب کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان تبدیلیوں کے نتائج سے یہ اندازہ لگانے میں مدد ملے گی کہ پیدل چلنے والوں کے لیے زیادہ جگہ فراہم کرنا آکسفورڈ اسٹریٹ کی تجارتی بحالی میں کتنا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔