• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مشرقی یروشلم کے ۴۵؍ ہزار سے زائد فلسطینی طلبہ پر اسرائیلی نصاب مسلط کرنیکا فیصلہ

Updated: September 02, 2026, 3:04 PM IST | Jerusalem

مقبوضہ مشرقی یروشلم میں فلسطینی طلبہ کی تعلیمی اور ثقافتی شناخت ایک نئے خطرے سے دوچار ہے، جہاں اسرائیل آئندہ تعلیمی سال سے ہزاروں فلسطینی طلبہ پر اپنا نصاب مسلط کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ فلسطینی عہدیداروں نے اسے قومی تاریخ و شناخت مٹانے کی منظم کوشش قرار دیتے ہوئے عالمی اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ایک فلسطینی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل تعلیمی سال ۲۰۲۶-۲۷ءکے دوران مقبوضہ مشرقی یروشلم کے ۴۵؍ ہزار سے زائد فلسطینی طلباء پر اپنا اسرائیلی نصابِ تعلیم (Curriculum) مسلط کرنے جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس قدم کا براہِ راست مقصد فلسطینیوں کی نئی نسل کی قومی اور ثقافتی شناخت کو مٹانا ہے۔ یروشلم گورنریٹ کے ترجمان معروف الرفاعی نے بتایا کہ اسرائیلی میونسپل انتظامیہ کے زیرِ انتظام چلنے والے اسکولوں میں شروع کی جانے والی تمام نئی کلاسوں (بشمول پہلی اور ساتویں جماعت) پر اسرائیلی تعلیمی نصاب نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے اس فیصلےکو ۱۹۶۷؍ کے بعد سے اب تک کا سب سے خطرناک اقدام قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی مسجد نذرِ آتش کرنے کی کوشش

الرفاعی نے کہا کہ یہ اقدام ایک منظم پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت یروشلم میں فلسطینی نظامِ تعلیم کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ فلسطینی نصاب اور تاریخ کی جگہ اسرائیلی بیانیے کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جا سکے۔ اسرائیلی اخبارہاریٹز (Haaretz) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ نئے تعلیمی سال میں ۱۰۵؍ میونسپل اسکولوں کے ۳۹ ہزار ۳۶۳؍ طلبہ اور دیگر اداروں کے ۵؍ ہزار ۸۵ ؍ طلبہ اسرائیلی نصاب پڑھیں گے۔ یہ مجموعی تعداد ۴۵ ؍ہزار سے تجاوز کر جاتی ہے، جو مشرقی یروشلم کے کل ایک لاکھ ۲۰؍ ہزار فلسطینی طلبہ کا تقریباً ۳۸؍ فیصد ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کینیڈا: ایم پی سلمیٰ زاہد کی رہائش گاہ کے باہر لوٹ مار کی کوشش، گاڑی نذرآتش

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں اسرائیلی نصاب پڑھنے پر مجبور طلبہ کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ تعلیمی سال ۲۰۲۰-۲۱ءمیں یہ تعداد ۱۰ ؍ ہزار ۳۴۷؍تھی، جو ۲۰۲۴-۲۵ءمیں بڑھ کر ۱۹؍ہزار ۴۰۲؍اور ۲۰۲۵-۲۶؍میں ۲۷ ؍ ہزار ۴۱ ؍تک پہنچ گئی تھی۔ یہ تبدیلی فلسطینی تعلیمی اداروں پر برسوں سے جاری اسرائیلی دباؤ اور فنڈنگ کو نصاب سے مشروط کرنے کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ الرفاعی نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیل نے شفعاط (Shuafat) اور کفر عقب (Kafr Aqab) کے مہاجر کیمپوں میں اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی (UNRWA) کے دو تعلیمی کمپاؤنڈس پر بھی قبضہ کر لیا ہے، جہاں اب وہ اپنے زیرِ انتظام اسکول اور کلاسیں شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مکہ معاہدہ: سعودی وزیر دفاع، پاکستانی آرمی چیف کا دفاعی تعاون پر تبادلۂ خیال

انہوں نے زوردیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی غاصب (قبضہ کرنے والی) طاقت کا مقبوضہ علاقے کے شہریوں پر اپنا نصاب مسلط کرنا `چوتھے جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے خلاف کھلم کھلاورزی ہے۔ فلسطینی ترجمان کے مطابق یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں ہے، بلکہ نصاب سے فلسطینی تاریخ، نکبہ (۱۹۴۸ءکے مظالم)، اسیران اور یروشلم کے باب حذف کرکے فلسطینیوں کے شعور اور قومی یادداشت پر حملہ ہے۔ انہوں نے یونیسکو اور اقوامِ متحدہ سے اس پر فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کا اپنے نصاب سے جڑے رہنا محض ایک نصابی کتاب کی حفاظت نہیں بلکہ اپنی تاریخ اور قومی شناخت کا دفاع بھی ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK