Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملک کی سمندری غذائی برآمدات ایک دہائی میں ۱۹۷؍ کروڑ ٹن تک پہنچ گئیں

Updated: April 05, 2026, 1:31 PM IST | Mumbai

مچھلی کی پیداوار میں ہندوستان پوری دنیا میں دوسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے، یہاں دنیا کی ۸؍ فیصد مچھلی کی پیداوار ہوتی ہے، جھینگوں کے پروڈکشن میں بھی اضافہ۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہندستان کا ماہی پروری کا شعبہ خوراکی تحفظ، روزگار، آمدنی اور پائیدار ذریعۂ معاش میں ایک اہم کردار ادا کرنے والا شعبہ بن کر ابھرا ہے جسے ۲۰۱۵ء سے اب تک حکومت ہند کی جانب سے ریکارڈ۳۹؍ ہزارکروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے تقویت ملی ہے۔ یہ شعبہ بنیادی سطح پر تقریباً ۳؍کروڑ ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کو روزگار فراہم کرتا ہےجبکہ قدر افزائی کی پوری زنجیر میں اس سے تقریباً دوگنی تعداد مستفید ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: روپے کو سنبھالنے میں آر بی آئی کے اقدامات کا اہم رول

عالمی سطح پر آبی زراعت کے دوسرے بڑے پیدا کنندہ کے طور پر بھارت دنیا کی مجموعی مچھلی پیداوار کا تقریباً ۸؍ فیصد حصہ رکھتا ہے۔ جو شعبہ کبھی زیادہ تر روایتی نوعیت کا تھا وہ گزشتہ دہائی میںتجارتی لحاظ سے اہم میدان میں تبدیل ہو چکا ہے اور ساتھ ہی چھوٹے پیمانے کے ماہی گیروں کے لیے جامع ترقی کو بھی یقینی بنا رہا ہے۔ اس تبدیلی کا اظہار پیداوار میں اضافے سے ہوتا ہے، جہاں مچھلی کی پیداوار ۲۰۲۰ء میں۱۴۱؍ لاکھ ٹن تھی وہیں اب وہ ۲۰۲۵ء میں بڑھ کر۱۹۷؍ لاکھ ٹن ہو گئی ہے جو سالانہ اوسطاً تقریباً ۷؍ فیصد اضافہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ملک کے ۱۶۸۸؍ امیر ترین افراد کے پاس قومی جی ڈی پی کے نصف کے برابر دولت؛ دولت ٹیکس لگانے کا مطالبہ

ہندوستان کی سمندری غذائی برآمدات میں مضبوط اور مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس عرصے کے دوران سمندری مصنوعات کی برآمدات دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہیں۔ ۲۰۱۴ء میں یہ برآمدات ۳۰؍ ہزار کروڑ روپے تھی جو ۲۰۲۵ء میں۶۲؍ ہزار ۴۰۲؍ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں جس میں جھینگا (شرمپ) کی برآمدات کا بڑا حصہ ہے۔ جھینگے کی برآمدات کی مالیت ۴۳؍ ہزار کروڑ روپے سے زائد ہے۔ملک کی سمندری غذائی برآمدات ایک وسیع اور متنوع فہرست پرمشتمل ہیں جن میں ۳۵۰؍ سے زائد مصنوعات شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK