Inquilab Logo Happiest Places to Work

روپے کو سنبھالنے میں آر بی آئی کے اقدامات کا اہم رول

Updated: April 05, 2026, 1:24 PM IST | Mumbai

مرکزی بینک نے صرف امریکی ڈالر کی فروخت کیلئے ماحول سازگار بنا کر روپے کی قدر کو سنبھالا نہیں دیا بلکہ کئی ایسے اقدامات کئے جن کی وجہ سے۹۵؍ کے پار پہنچ جانےوالا ہندوستانی روپیہ سنیچر کو ۹۲ء۷۴؍ پر بند ہوا، جمعرات کو اس کی قدر میں ۱ء۸؍فیصد کی بہتری آئی جو ۱۳؍ سال میں ایک دن میں سب سے زیادہ بہتری ہے.

The Reserve Bank of India`s measures to manage the value of the rupee have paid off. Photo: INN
روپے کی قدر کو سنبھالنے کیلئے ریزرو بینک آف انڈیا کے اقدامات کا فائدہ ہوا ہے۔ تصویر: آئی این این

ایران جنگ کے دوران ہندوستانی روپیہ جس تیزی سے گررہاتھا،اس سے یہ خطرہ لاحق ہوگیاتھا کہ کہیں کچھ ہی دنوں میں ایک ڈالر ۱۰۰؍ روپے کا ہندسہ پار نہ کر جائے تاہم ریزرو بینک آف انڈیا کی انتھک کوششوں نے نہ صرف روپے کو سنبھالا دیا بلکہ جمعرات کو اس کی قدر میں ایک دن میں ۱ء۸؍ فیصد کی بہتری آئی اور یہ ۹۳ء۱۰؍ پر بندہوا جبکہ یہ ۹۴؍ کا ہندسہ عبور کر کےکچھ دیر کیلئے ۹۵؍ کے بھی پار پہنچ چکا تھا۔ ۱۳؍ سال میں یہ پہلا موقع تھا جب روپے کی قدر میں ایک دن میں ۱ء۸؍ فیصد کی بہتری ریکارڈ کی گئی۔اس کا سہرا ریزرو بینک کے اُن اقدامات کے سر بندھتا ہے جنہوں نے پورے فوریکس مارکیٹ کو متاثر کیا ۔ جس طرح فلم’دھرندھر‘ نے باکس آفس پر دھوم مچائی تھی، اسی طرح آر بی آئی کے اقدامات بھی فوریکس مارکیٹ میں بجلی بن کر گرے۔

یہ بھی پڑھئے: ملک کے ۱۶۸۸؍ امیر ترین افراد کے پاس قومی جی ڈی پی کے نصف کے برابر دولت؛ دولت ٹیکس لگانے کا مطالبہ

ایک دہائی میں سب سے سخت اقدامات

آر بی آئی نےروپے کی قدرت میں تاریخی گراوٹ کو روکنے کیلئے ایک دہائی سے زائد عرصے میں سب سے سخت اقدامات متعارف کرائے۔ اس نے کرنسی کے تعلق سے بینکوں کی قیاسی شرطوں پر لگام لگائی، جو پہلے ہی کمزور روپے پر شدید دباؤ ڈال رہی تھیں۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا جب روپیہ اپنے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے اورکچھ عرصے سے کارکردگی کے محاذ پر ایشیا کی بدترین کرنسی بن چکا ہے۔ روپے کی اس پریشانیوں کی وجہ کئی عوامل تھے، جن میں ٹیرف جنگ، غیر ملکی سرمایہ کا مسلسل اخراج اور عالمی سطح پر خام تیل کی بڑھتی قیمتیں شامل ہیں۔ یعنی روپے کے مسائل راون کے سروں کی طرح تھے، ایک ختم کرو تو دوسرا سامنے آ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اِنڈکشن ہیٹرز کو فروغ، پیداوار بڑھانے پرغور، اہم میٹنگ

آر بی آئی نے ایک مہینے میں ۳۰؍ ارب ڈالر بیچے

افسوسناک طور پر مالی سال۲۶ء میں روپیہ ڈالر کے مقابلے میں۱۰؍فیصد گر گیا، جو ایک دہائی سے زائد عرصے میں سب سے بڑی سالانہ گراوٹ تھی۔ مزید یہ کہ صرف مارچ میں ہی یہ ۴؍ فیصد مزید کمزور ہوا۔ آر بی آئی ڈالر فروخت کر کے روپے کی گراوٹ کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اگر۲۰۲۵ء میں اس نے۵۱؍ ارب ڈالر فروخت کئے تھے تو پچھلے مہینے اس نے۳۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ بیچےمگر مرکزی بینک کے روایتی ہتھیار، یعنی ڈالر کی فروخت اور شرح سود میں تبدیلی، مؤثر ثابت نہیں ہو رہے تھے کیونکہ کرنسی مارکیٹ میں قیمتوں کا تعین صرف طلب و رسد سے نہیں ہو رہا تھا بلکہ آسان پیسہ اور لالچ بھی اثر انداز ہو رہے تھے۔

بینکوں کے’’آربیٹریج ٹریڈ‘‘ پر قدغن

اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے آر بی آئی نے بینکوں کے ’’آربیٹریج ٹریڈ‘‘ پر قدغن لگانے کا فیصلہ کیا۔ پہلے یہ سمجھ لیں کہ بینک ڈالر کی خرید و فروخت سے کیسے کمائی کر رہے تھے۔ بینک ممبئی (آن شور مارکیٹ) میں آر بی آئی سے ڈالر خریدتے اور شرط لگاتے کہ اس کی قیمت بڑھے گی۔ ساتھ ہی وہ دبئی، سنگاپور اور لندن جیسی آف شور مارکیٹوں میں شرط لگاتے کہ ڈالر گرے گا۔ اگر ڈالر بڑھتا تو وہ ہندوستان میں کماتے اور بیرون ملک نقصان اٹھاتے، اور اگر ڈالر گرتا تو اس کے برعکس ہوتا۔ اس لئے گزشتہ جمعہ کو آر بی آئی نے بینکوں کی مجموعی ’نیٹ اوپن پوزیشن‘ کو۱۰؍ اپریل تک۱۰۰؍ملین ڈالر تک محدود کر دیا۔ یہ پہلے ان کے سرمائے کے۲۵؍ فیصد تک ہو سکتی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی بینک کی آربیٹریج پوزیشن۵۰۰؍ ملین یاایک ارب ڈالر ہے تو اسے کم کر کے۱۰۰؍ ملین ڈالر تک لانا ہوگا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پیر کو جب مارکیٹ کھلا اور بینکوں نے ڈالر فروخت کرنا شروع کئے تو روپیہ ایک فیصد مضبوط ہو کر۹۳ء۵۸؍ پر کھلا۔

یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش میں آئی پی ایل کی نشریات پر بحران: جیو اسٹار نے میڈیا حقوق کا معاہدہ ختم کر دیا

 بینکوں کے ساتھ شہ اور مات کا کھیل

ایک گھنٹے کے اندر روپیہ پھر کمزور ہو گیا اور ۹۴ء۸۳؍ کی نئی نچلی سطح تک پہنچ گیا بلکہ۳۰؍ مارچ کو کچھ دیر کیلئے وہ ۹۵؍ کے ہدف کو بھی عبور کر گیا۔ وجہ یہ تھی کہ بینکوں نے نیا راستہ نکال لیا۔ انہوں نے ڈالر پوزیشن کم کرنے کے بجائے کارپوریٹس کا سہارا لیا، جنہوں نے قیمت کے عوض طویل ڈالر پوزیشن کو سنبھالا۔ آر بی آئی نے اس سے نمٹنے کیلئے بدھ کو نئے قواعد جاری کئے جن کے تحت بینکوں کو ڈالر فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ مختصر یہ کہ آر بی آئی نے قیاس آرائی کی بنیاد پر تجارت کے راستے بند کرکے روپے کو سنبھالنے میں اہم رول ادا کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK