Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملک کے ۱۶۸۸؍ امیر ترین افراد کے پاس قومی جی ڈی پی کے نصف کے برابر دولت؛ دولت ٹیکس لگانے کا مطالبہ

Updated: April 04, 2026, 10:08 PM IST | Mumbai

رپورٹ میں انتہائی امیر افراد پر ۲ سے ۶ فیصد کے درمیان، ترقی پسند دولت ٹیکس لگانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس سے فلاحی اخراجات کیلئے سالانہ ۱۰ لاکھ کروڑ روپے سے زائد رقم حاصل ہوسکتی ہے۔

Mukesh Ambani and Gautam Adani. Photo: X
گوتم اڈانی اور مکیش امبانی۔ تصویر: ایکس

ایک حالیہ رپورٹ میں سامنے آنے والے اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ ملک میں دولت کے ارتکاز میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ملک کے امیر ترین ۱۶۸۸؍ افراد مجموعی طور پر قومی جی ڈی پی کے تقریباً نصف کے برابر اثاثوں کے مالک ہیں۔ رپورٹ میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات کو ختم کرنے کیلئے ترقی پسند ’دولت ٹیکس‘ نافذ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

`سینٹر فار فنانشیل اکاؤنٹیبلٹی“ اور ”ٹیکس دی ٹاپ“ مہم کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ ”ویلتھ ٹریکر انڈیا ۲۰۲۶ء“ کے مطابق، ایک ہزار کروڑ روپے سے زائد مالیت کے اثاثے رکھنے والے افراد اب مجموعی طور پر ۱۶۶ لاکھ کروڑ روپے سے زائد دولت کے مالک ہیں۔ یہ دولت، ملک کی جی ڈی پی کے تقریباً ۵۰ فیصد کے برابر ہے۔

رپورٹ میں ملک میں عدم مساوات میں تیزی سے ہونے والے اضافہ کو بھی نوٹ کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، ملک کے ایک فیصد اعلیٰ طبقے کا قومی دولت میں حصہ ۲۰۱۹ء میں ۵ء۳۶ فیصد تھا جو بڑھ کر ۲۰۲۲ء میں ۱ء۴۰ فیصد ہوگیا ہے۔اس کے برعکس، نچلے ۵۰ فیصد طبقہ کا قومی دولت میں حصہ معمولی کمی کے ساتھ ۴ء۶ فیصد پر پہنچ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ کا اثر، پورے ملک کے اسکولوں میں مڈڈے میل مہم بحران کا شکار

ملک میں انتہائی امیر افراد کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایک ہزار کروڑ روپے سے زائد کی دولت رکھنے والے افراد کی تعداد میں ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان ۷۷ فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ان کی کل دولت میں ۲۲۷ فیصد کا اچھال دیکھا گیا۔

ارب پتیوں کی دولت میں شدید اضافہ

رپورٹ میں مکیش امبانی، گوتم اڈانی، ساوتری جندل، سنیل متل اور شیو ناڈر سمیت ملک کے امیر ترین خاندانوں کے اثاثوں میں خاطر خواہ اضافے کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اسی مدت کے دوران ان کی مشترکہ دولت میں تقریباً ۴۰۰ فیصد اضافہ ہوا۔ انفرادی طور پر، امبانی کی دولت میں ۱۵۳ فیصد جبکہ اڈانی کی دولت میں ۶۲۵ فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی نشان دہی کی گئی ہے کہ ہندوستان میں ارب پتیوں کی تعداد ۱۹۹۱ء میں صرف ایک تھی، جو بڑھ کر ۲۰۲۵ء تک ۳۵۸ سے تجاوز کرگئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اڈانی ڈیفنس نے ہندوستانی فوج کو مقامی طور پر تیار کردہ لائٹ مشین گنیں سونپیں

دولت ٹیکس کی تجویز اور ممکنہ آمدنی

رپورٹ میں انتہائی امیر افراد پر ۲ سے ۶ فیصد کے درمیان، ترقی پسند دولت ٹیکس لگانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس ٹیکس سے فلاحی اخراجات کیلئے سالانہ ۱۰ لاکھ کروڑ روپے سے زائد رقم حاصل ہوسکتی ہے۔ ایسی آمدنی کو صحت اور تعلیم پر عوامی اخراجات میں جی ڈی پی کے ایک فیصد کے برابر اضافہ کرنے اور معمر شہریوں کو ۱۲ ہزار روپے کی ماہانہ پنشن فراہم کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں کئی مثالیں بھی دی گئی ہیں: جیسے صرف امبانی پر ۲ فیصد دولت ٹیکس سے دسویں جماعت کے تقریباً ۸۵ء۱ کروڑ طلبہ کو کئی بار مفت لیپ ٹاپ فراہم کئے جا سکتے ہیں، جبکہ اڈانی پر اسی طرح کا ٹیکس لگایا جائے تو دو سال سے زائد عرصے کیلئے ملک بھر میں بنیادی حفظان صحت کی سہولیات کیلئے درکار رقم کا انتظام ہوسکتا ہے یا لاکھوں گھرانوں کو مفت ایل پی جی سلنڈر فراہم کئے جاسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جاپان نے ہندوستان میں ایف ڈی آئی بڑھانے کے لیے خصوصی سیل قائم کیا

موجودہ ٹیکس پالیسیوں پر تنقید

رپورٹ میں حکومت کے محدود مالیاتی وسائل کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے نوٹ کیا گیا کہ گزشتہ ۱۱ برسوں کے دوران ۶ء۱۹ لاکھ کروڑ روپے کے قرضے معاف کئے گئے ہیں۔ اس میں یہ دلیل بھی دی گئی کہ کارپوریٹ سیکٹر کو دی گئی ٹیکس کٹوتیوں کا بوجھ عام ٹیکس دہندگان پر منتقل ہوگیا ہے۔

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ دولت کی عدم مساوات، پالیسی کا مسئلہ ہے جسے ٹیکس عائد کرکے اور دولت کی دوبارہ تقسیم کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں امیر و غریب کے درمیان فرق کو کم کرنے کیلئے دولت ٹیکس کے دوبارہ نفاذ کا مطالبہ کیا گیا ہے جسے ہندوستانی حکومت نے ۲۰۱۶ء میں ختم کردیا تھا۔ رپورٹ کے پیچھے موجود وکالتی گروپوں نے فوری کارروائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ویلتھ ٹیکس سے حاصل ہونے والے فنڈز کے ذریعے عوامی اخراجات میں اضافہ شہریوں کے بنیادی سماجی اور معاشی حقوق کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK