Inquilab Logo Happiest Places to Work

بدعنوانی کے معاملے میں عدالت کی نیتن یاہو کو بچانے کی کوشش

Updated: July 01, 2026, 11:28 AM IST | Tel Aviv

سماعت کے دوران ۳؍ ججوں کی بینچ نے استغاثہ سے سفارش کی کہ وہ یاہو پر عائد رشوت کا الزام واپس لے لیں۔

File photo of Netanyahu. Photo: INN
نیتن یاہو کی فائل فوٹو۔ تصویر: آئی این این

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالت کے ۳؍ ججوں نے ایک بار پھر استغاثہ کو رشوت کا الزام واپس لینے کی سفارش کردی۔عالمی میڈیا کے مطابق عدالت نے یہی سفارش ۳؍ سال قبل بھی کی تھی اور اس وقت بھی کہا تھا کہ رشوت کے الزام کو ثابت کرنا آسان نہیں ہوگا۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے وکیل امیت حداد نے عدالت کو بتایا کہ اگر رشوت کا الزام مقدمے کا حصہ رہا تو مزید سیکڑوں گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے ہوں گے۔ جس سے۲۰۲۰ء میں شروع ہونے والا مقدمہ مارچ۲۰۲۸ء تک بھی مکمل نہیں ہو سکے گا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے پیدائشی شہریت ختم کرنے کے حکم نامے کو مسترد کردیا

اسی سماعت کے دوران عدالت نے مقدمے کی کارروائی تیز کرنے کے لئے  ہفتے میں پانچ روز سماعت کی تجویز بھی پیش کی تاہم استغاثہ اور دفاع دونوں نے اس پر اعتراض کیا۔نیتن یاہو کے وکیل نے اس تجویز کا موازنہ نازی لیڈر ایڈولف آئخمن کے مقدمے سے کرتے ہوئے کہا کہ اتنی مسلسل سماعتیں مناسب نہیں ہوں گی۔ استغاثہ کے مطابق نیتن یاہو نے بطور وزیراعظم اور وزیر مواصلات ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی بیزک کے بڑے شیئر ہولڈر شاؤل ایلووچ کو ایسے سرکاری ریگولیٹری فیصلوں سے فائدہ پہنچایا جن کی مالیت کروڑوں شیکل تھی۔استغاثہ کا کہنا تھا کہ اس کے بدلے میں مبینہ طور پر ایلووچ کی ملکیت رکھنے والی نیوز ویب سائٹ ’والا ‘نے نتن یاہو اور ان کے خاندان کو مثبت میڈیا کوریج فراہم کی۔واضح ہوکہ اسرائیلی وزیراعظم پر عائد تین بڑے کیسز میں سے رشوت کا الزام صرف ایک کیس ۴؍ہزار میں شامل ہے جسے بیزک-والا کیس بھی کہا جاتا ہے جبکہ دیگر دو مقدمات میں دھوکہ دھڑی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات عائد ہیں۔نتن یاہو کو کیس ۱۰۰۰؍ میںدولت مند کاروباری شخصیات سے قیمتی تحائف لینے اور کیس ۲۰۰۰؍ میں ایک اخبار سے مثبت کوریج کے بدلے اس کے حریف اخبار کی اشاعت محدود کرنے کے لئے مبینہ سودے بازی کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جو سماعت کے دوران عدالت میں موجود تھےنے اپنے خلاف عائد تمام الزامات کو مسترد کیا  اور یہ موقف پیش کیا کہ یہ مقدمات سیاسی محرکات کے تحت قائم کیے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK