وزارت تعلیم کے ایک سینیئر اہلکار نے خدشہ ظاہر کیا کہ کارروائی کے معاملے میں اس طرح کا امتیازی سلوک نجی یونیورسٹیوں کے درمیان من مانے کام کرنے کی حوصلہ افزائی کا باعث بن سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: March 03, 2026, 7:04 PM IST | New Delhi
وزارت تعلیم کے ایک سینیئر اہلکار نے خدشہ ظاہر کیا کہ کارروائی کے معاملے میں اس طرح کا امتیازی سلوک نجی یونیورسٹیوں کے درمیان من مانے کام کرنے کی حوصلہ افزائی کا باعث بن سکتا ہے۔
مرکزی وزارتِ تعلیم اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کو حالیہ ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ میں پیدا ہونے والے تنازع کے بعد گلگوٹیا یونیورسٹی کے خلاف کوئی باضابطہ کارروائی نہ کرنے پر ماہرینِ تعلیم کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نجی یونیورسٹی نے ۱۸ فروری کو نئی دہلی میں منعقدہ سمٹ کے دوران، ایک چینی ساختہ روبوڈاگ کی نمائش اور مبینہ طور پر اسے اپنی ایجاد کے طور پر پیش کرکے تنازع کھڑا کردیا تھا۔ اس کے بعد یونیورسٹی کو ایونٹ میں اپنا پویلین خالی کرنا پڑا تھا۔ تاہم اس کے خلاف اب تک کسی قسم کی ریگولیٹری کارروائی سامنے نہیں آئی ہے۔
ماہرینِ تعلیم نے سوال اٹھایا کہ حکومت اور یو جی سی نے ادارے سے وضاحت طلب کیوں نہیں کی۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ یو جی سی دیگر دیگر یونیورسٹیوں کے خلاف انتہائی تیزی سے کارروائی کرتا رہا ہے۔ انہوں نے ۲۰۱۴ء میں دہلی یونیورسٹی کے چار سالہ انڈرگریجویٹ پروگرام اور منی پور کی سنگئی انٹرنیشنل یونیورسٹی کے خلاف مبینہ ریگولیٹری کوتاہیوں پر کی جانے والی سابقہ کارروائیوں کی طرف اشارہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: انڈیا اے آئی سمٹ احتجاج: دہلی عدالت نے کانگریس کے ۹؍ کارکنوں کو ضمانت دی
یو جی سی کے ایک سابق چیئرمین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کمیشن کی جانب سے کم از کم متوقع ردِعمل یہ تھا کہ گلگوٹیا یونیورسٹی سے باضابطہ طور پر وضاحت طلب کی جاتی۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ یو جی سی ایکٹ کے سیکشن ۲(ایف) کے تحت، کمیشن کو ضرورت پڑنے پر کسی یونیورسٹی کی شناخت واپس لینے کا اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی انتہائی قدم سے پہلے کم از کم وضاحت تو طلب کی جانی چاہئے تھی۔ ان کے بقول اس واقعے نے بین الاقوامی فورم پر ہندوستان کے تشخص کو نقصان پہنچایا ہے۔
وزارتِ تعلیم کے ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ اب تک یونیورسٹی سے ایسی کوئی وضاحت طلب نہیں کی گئی ہے۔ ایک ذریعے نے یہ بھی کہا کہ ہو سکتا ہے حکام اس تنازع کو مداخلت کے بغیر ہی ٹھنڈا ہونے دے رہے ہوں۔ کچھ ماہرینِ تعلیم نے حکومت کی اس خاموشی کو ’انتخابی‘ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’این سی ای آر ٹی نصاب پر وزیر اعظم کی ناراضگی محض دکھاوا‘‘
ایک ریاستی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر نے سوال اٹھایا کہ کیا سیاسی ہم آہنگی ریگولیٹری فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ انہوں نے گلگوٹیا یونیورسٹی کے فیکلٹی کے ۲۰۲۰ء کے ایک تحقیقی مقالے کا حوالہ دیا جس میں کووڈ-۱۹ کی وباء کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی تھالی بجانے کی عوامی اپیل کی حمایت کی گئی تھی، اس کے علاوہ یونیورسٹی میں ماضی میں کانگریس پارٹی کو نشانہ بنانے والے طلبہ کے احتجاج کا بھی تذکرہ کیا۔
وزارت کے ایک سینیئر اہلکار نے، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، خدشہ ظاہر کیا کہ کارروائی کے معاملے میں اس طرح کا امتیازی سلوک نجی یونیورسٹیوں کے درمیان من مانے کام کرنے کی حوصلہ افزائی کا باعث بن سکتا ہے۔