شہرومضافات میں آوارہ کتوں کی تعدادپر قابو پانے کیلئے ایک غیرسرکاری تنظیم کو ۳؍ برس کیلئے ٹھیکہ دینے کا معاملہ بدھ کو اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں زیر بحث آیا جس میں کارپوریٹروں نے اعتراض کیا کہ ۱۹۹۸ء سے شروع کی گئی اس مہم پر اب تک کروڑوں روپے خرچ ہوچکے ہیں لیکن آوارہ کتوں کی آبادی کم ہونے کے بجائے بڑھتی جارہی ہے۔
گلی کے کتے۔ تصویر:آئی این این
شہرومضافات میں آوارہ کتوں کی تعدادپر قابو پانے کیلئے ایک غیرسرکاری تنظیم کو ۳؍ برس کیلئے ٹھیکہ دینے کا معاملہ بدھ کو اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں زیر بحث آیا جس میں کارپوریٹروں نے اعتراض کیا کہ ۱۹۹۸ء سے شروع کی گئی اس مہم پر اب تک کروڑوں روپے خرچ ہوچکے ہیں لیکن آوارہ کتوں کی آبادی کم ہونے کے بجائے بڑھتی جارہی ہے۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ شہری انتظامیہ کو ان کتوں کی ٹیکہ کاری اور نس بندی کی غلط تفصیلات فراہم کی جاتی ہیں اور پیسے اینٹھے جارہے ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے اس ٹھیکہ کیلئے ٹینڈر جاری کرکے دیگر کسی تنظیم کو موقع دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن کمیٹی کے چیئر مین نے سرکاری افسر کے جواب پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ٹھیکے کو منظوری دے دی۔
بحث کے دوران ایم آئی ایم کے کارپوریٹرضمیر شیخ اور کانگریس کی کارپوریٹر تُلیپ مرانڈا نے کہا کہ کتوں کی نس بندی اور انہیں رکھنے کیلئے حکومت نے ٹھیکیدار غیرسرکاری تنظیم کو پال گھر میں شیلٹر کی جگہ فراہم کررکھی ہے، اس کے باوجودوہ ہر کتے کی ٹیکہ کاری اور نس بندی کیلئے بہت زیادہ رقم وصول کرتی ہے اور انہیں شیلٹر میں نہیں رکھتی۔ مزید یہ کہ اتنے برسوں سے جاری ان سب کارروائیوں اور کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود کتوں کی تعداد کیوں بڑھ رہی ہے۔
این سی پی (اجیت پوار) کی کارپوریٹرسعیدہ خان نے نشاندہی کی کہ کتوں کے کاٹنے سے ’ریبیز‘ سے متاثرہ شخص کو جان کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، اس کے باوجود رات کے وقت سرکاری اسپتالوں میں ریبیز کا انجکشن دستیاب نہیں ہوتا، انہیں صبح آنے کو کہا جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسپتالوں میں ہر وقت ریبیز کا انجکشن دستیاب ہونا چاہئے۔دیگر عوامی نمائندوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جن کتوں کی ٹیکہ کاری ہوچکی ہے، ان پر کوئی نشان لگایا جانا چاہئے تاکہ عام لوگ بھی انہیں دیکھ کر جان سکیں کہ کن کتوں کی ٹیکہ کاری ہوچکی ہے اور انہیں دوبارہ اسی جگہ لاکر چھوڑنے کے بجائے شیلٹر میں رکھا جانا چاہئے۔
ان باتوں پر سرکاری افسر نے جواب دیا کہ ۳؍ برس کیلئے ۲۰؍ کروڑ روپے کا ٹھیکہ دیا جاتا ہے اور ۷؍ مختلف غیرسرکاری تنظیمیں یہ کام انجام دیتی ہیں ۔ ٹیکہ کاری وغیرہ کیلئے ایک کتے پر ۱۲۰۰؍ روپے سے کچھ زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ اس جواب کے بعد اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئر مین پربھاکر شندے نے ٹھیکے کو منظوری دے دی۔