Inquilab Logo Happiest Places to Work

خام تیل کی قیمت ۱۲۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، دنیا بھر کی معیشت پر اثرات کا خدشہ

Updated: July 24, 2026, 10:09 PM IST | New Delhi

عالمی منڈی میں خام تیل (برینٹ کروڈ) کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) بند رہی اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو برینٹ کروڈ کی قیمت ۱۲۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جس کے اثرات حکومتوں سے لے کر عام صارفین تک محسوس کیے جائیں گے۔

Crude Oil.Photo:INN
خام تیل۔ تصویر:آئی این این

عالمی منڈی میں خام تیل (برینٹ کروڈ) کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر  آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz)  بند رہی اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو  برینٹ کروڈ کی قیمت ۱۲۰؍ ڈالر فی بیرل  تک پہنچ سکتی ہے، جس کے اثرات حکومتوں سے لے کر عام صارفین تک محسوس کیے جائیں گے۔ ۲۳؍جولائی کو برینٹ کروڈ پہلی بار ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل  کی سطح عبور کر گیا، جبکہ ۲۴؍ جولائی کو معمولی ۶۰ء۰؍ فیصد  کمی کے باوجود اس کی قیمت تقریباً  ۰۳ء۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل  رہی۔

یہ بھی پڑھئے:لیونل میسی جلد بین الاقوامی فٹبال کو خیرباد کہہ سکتے ہیں، الوداعی میچ کی تیاری


 سپلائی پر شدید دباؤ
ٹریڈبلز سیکیورٹیز  کے سینئر کموڈیٹی ریسرچ اینالسٹ  بھاوک پٹیل  کے مطابق خام تیل کا قلیل مدتی رجحان اب بھی تیزی کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ  حوثی باغیوں  کے حملوں کے باعث بحیرہ احمر (Red Sea)  کا بحری راستہ تقریباً بند ہو چکا ہے، جبکہ  آبنائے ہرمز  سے بھی آئل ٹینکروں کی آمد و رفت متاثر ہے۔ ایسے میں مشرق وسطیٰ سے تیل کی محفوظ ترسیل کے راستے نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سعودی عرب بحیرہ احمر کے راستے تیل بھیج رہا تھا، لیکن حالیہ حملوں کے بعد وہ راستہ بھی غیر محفوظ ہو گیا ہے۔
 ۱۲۰؍ ڈالر تک جا سکتا ہے برینٹ کروڈ
بھاوک پٹیل نے کہا کہ سپلائی کا بحران صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں ہے بلکہ  بحیرہ اسود (Black Sea ) میں روسی جہازوں پر حملوں نے بھی عالمی منڈی میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔ خریدار فوری ترسیل کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں  اور اگر حالات میں جلد بہتری نہ آئی تو برینٹ کروڈ ۱۲۰؍ڈالر فی بیرل تک جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مارچ اور اپریل کے دوران کئی ممالک کے  اسٹریٹجک آئل ذخائر  پہلے ہی کافی حد تک کم ہو چکے ہیں۔
 عالمی رپورٹوں میں بھی انتباہ
 چوائس انسٹی ٹیوشنل ایکویٹیز  کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے راستے متاثر ہونے سے روزانہ تقریباً ۸ء۱؍ کروڑ بیرل خام تیل  اور۵۰؍ لاکھ بیرل پیٹرولیم مصنوعات  کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ ادھر  گولڈمین ساخس نے بھی اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز بند رہی اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو سال کے اختتام تک برینٹ کروڈ کی قیمت ۱۲۰؍ڈالر فی بیرل  تک پہنچ سکتی ہے۔
 ہندوستان پر کیا اثر پڑے گا؟
ہندوستان  اپنی خام تیل کی ضروریات کا تقریباً ۹۰؍ فیصد درآمد کرتا ہے، جس میں سے قریب ۴۰؍ فیصد سپلائی مشرق وسطیٰ  سے آتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ملک کا درآمدی بل مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق  جون سہ ماہی  میں خام تیل کی درآمدات پر خرچ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ۶۰؍ فیصد زیادہ  رہا۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان کی خدماتی برآمدات ۲۶۔۲۰۲۵ء میں بڑھ کر۳ء۴۲۱؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئیں


مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن
 ہندوستان میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پہلے ہی  پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں چار مرتبہ اضافہ  کیا ہے، جس کے بعد دہلی میں پیٹرول کی قیمت ۱۰۰؍روپے فی لیٹر  سے تجاوز کر چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق خام تیل مہنگا ہونے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر افراطِ زر مسلسل بلند رہا تو  ریزرو بینک آف انڈیا   شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے، جس سے قرضے مہنگے ہوں گے اور معاشی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK