چیک جمہوریہ کے وزیراعظم اینڈری بابش نے منگل کو اعلان کیا کہ حکومت پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر ملک گیر پابندی نافذ کرے گی، اور یہ نیا قانون ستمبر۲۰۲۷ء سے نافذ العمل ہوگا۔
EPAPER
Updated: June 23, 2026, 10:02 PM IST | Prague
چیک جمہوریہ کے وزیراعظم اینڈری بابش نے منگل کو اعلان کیا کہ حکومت پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر ملک گیر پابندی نافذ کرے گی، اور یہ نیا قانون ستمبر۲۰۲۷ء سے نافذ العمل ہوگا۔
چیک جمہوریہ کے وزیراعظم اینڈری بابش نے منگل کو اعلان کیا کہ حکومت پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر ملک گیر پابندی نافذ کرے گی، اور یہ نیا قانون ستمبر۲۰۲۷ء سے نافذ العمل ہوگا۔ یہ فیصلہ، جس کا مقصد ڈیجیٹل خلفشار کو کم کرنا اور طلبا کی ذہنی صحت کی حفاظت کرنا ہے، تعلیمی ماحول میں اسکرین ٹائم کو منظم کرنے کے بڑھتے ہوئے عالمی رجحان کے مطابق ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو پیغام میں، بابش نے تصدیق کی کہ انہوں نے وزیر تعلیم رابرٹ پلاگا کے ساتھ جامع بل پر حتمی معاہدہ کر لیا ہے۔ مجوزہ قانون کلاس روم میں پڑھائی کے دوران ہی نہیں بلکہ چھٹی کے اوقات میں بھی موبائل فون، سمارٹ واچ اور اسی طرح کے الیکٹرانک آلات کے استعمال پر سختی سے پابندی لگائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ پابندیاں ملک بھر میں لازمی تعلیم کی عمر کے تمام طلبا پر یکساں طور پر لاگو ہوں گی، جس سے موجودہ متفرق پالیسیوں کا خاتمہ ہو جائے گا جہاں انفرادی اسکولوں کے پرنسپل کو قوانین بنانے کا اختیار حاصل تھا۔
یہ بھی پڑھئے: جنگ بندی معاہدہ :ایران کے کچھ منجمد اثاثےفعال
بعد ازاں بابش نے زور دیا کہ حکومت کئی ہفتوں سے اس قانون پر غور کر رہی تھی، جس کی وجہ تعلیمی کارکردگی میں گراوٹ اور سائبر دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے مقدمات پر تشویش تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل اطلاعات اور سوشل میڈیا کی مداخلت علمی توجہ کو درہم برہم کر دیتی ہے، جس سے طلبا کے لیے معلومات جذب کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ وزارت تعلیم، جو اس اقدام کی مکمل حمایت کرتی ہے، کا ماننا ہے کہ فون سے پاک ماحول بہتر روبرو مواصلاتی مہارتوں کو فروغ دے گا اور مجموعی طور پر کلاس روم کے نظم و ضبط کو بہتر بنائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹیلی گرام بحال، مگر ویب سروس مکمل طور پر فعال نہیں، طلبہ کو پریشانیوں کا سامنا
اگرچہ قانون سخت پابندی عائد کرتا ہے، لیکن حکام نے کچھ مستثنیات کی وضاحت کی ہے۔ ذیابیطس کے لیے گلوکوز مانیٹر یا دیگر ہنگامی صحت کی نگرانی کے آلات جیسی مخصوص طبی ضروریات والے طلبا کو اپنے فونز رکھنے کی اجازت ہوگی۔ تاہم، غیر تعلیمی مقاصد کے لیے موبائل آلات کا معمول کے مطابق استعمال ضبطی کا باعث بنے گا، اور بار بار خلاف ورزیوں کے نتیجے میں تادیبی کارروائی ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ چیک جمہوریہ بھر کے سکولوں کو اپنے اندرونی قوانین اور ضوابط کو اس قومی حکم کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہوگی۔جبکہ اس اعلان پر عوام میں مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے۔ بہت سی پیرنٹ ٹیچر ایسوسی ایشنز نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے، اور لت لگانے والی ایپس سے طلبا کی توجہ ہٹانے کی فوری ضرورت کا حوالہ دیا ہے۔ تاہم، طلبا یونینوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون حفاظت اور ہنگامی مواصلت کے لیے ضروری ہیں، خاص طور پر ان طلبا کے لیے جو لمبا فاصلہ طے کرتے ہیں۔ مزید برآں، کچھ حزب اختلاف کے قانون سازوں نے دو سال کی طویل مہلت پر تنقید کی ہے، تاہم بابش نے اس ٹائم لائن کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسکولوں، والدین اور بچوں کو آہستہ آہستہ ڈھالنے کا کافی موقع فراہم کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیٹ امتحان میں بے ضابطگیوں پر کانگریس کی مرکز پر شدید تنقید
واضح رہے کہ چیک جمہوریہ، فرانس، اٹلی اور نیدرلینڈز سمیت یورپی ممالک کی بڑھتی ہوئی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے نوجوانوں میں ڈیجیٹل لت کا مقابلہ کرنے کے لیے اسی طرح کی پابندیاں نافذ کی ہیں یا ان کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ نئے ضوابط باضابطہ طور پر تعلیمی سال۲۰۲۷ء-۲۸ء کے آغاز سے نافذ العمل ہوں گے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تعلیمی اداروں کو موجودہ نصاب میں خلل ڈالے بغیر ضروری تبدیلیاں نافذ کرنے کے لیے کافی وقت ملے۔ بابش نے اپنے پیغام کا اختتام اس بات پر زور دے کر کیا کہ’’ ا سکولوں کو سیکھنے کی پناہ گاہیں رہنا چاہیے، جو ڈیجیٹل دنیا کی مسلسل کشش سے پاک ہوں۔‘‘