Inquilab Logo Happiest Places to Work

دریائے ڈینیوب کی سطح میں کمی، ۸۰؍ سال بعد بائیک اور دو فوجیوں کی باقیات برآمد

Updated: August 15, 2026, 10:18 PM IST | Budapest

یورپ میں شدید خشک سالی کے باعث دریائے ڈینیوب کی سطح غیر معمولی حد تک گرنے سے دوسری جنگِ عظیم کے کئی پوشیدہ آثار منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ بڈاپیسٹ میں دریا سے۸۰؍ سال سے زائد عرصے بعد نازی دور کی ایک فوجی موٹر سائیکل اور دو جرمن فوجیوں کی باقیات کی دریافت نے ماضی کے کئی راز پھر سے زندہ کر دیئے ہیں۔

A motorcycle found on the Danube. Photo: X
ڈینیوب سے ملنے والی موٹر سائیکل۔تصویر: ایکس

جیسے ہی دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح یورپ کی کم ترین سطح تک پہنچ رہی ہے، دوسری جنگِ عظیم کے دور کے نازی بحری جہازوں اور دیگر نوادرات کی دریا سے برآمدگی کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلے نازی دور کا ایک جنگی جہاز اور اونی جسامت والا میمتھ دریافت ہوا تھا، اور اب محققین کو وہرماخت کی ایک انتہائی نایاب فوجی موٹر سائیکل اور دو انسانوں کی باقیات ملی ہیں، جو غالباً اس موٹر سائیکل پر سوار تھے۔ ۸۰؍ سال سے زائد عرصے تک پانی میں رہنے کے باوجود موٹر سائیکل اور دونوں افراد کی باقیات انتہائی اچھی حالت میں محفوظ ہیں۔ حکام ممکنہ طور پر ان افراد کی شناخت بھی کر سکتے ہیں، کیونکہ ان کے فوجی شناختی ٹیگ اب بھی محفوظ ہیں۔ یہ دریافت بوڈاپیسٹ میں ہنگری کی پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے: برازیل نے امریکی ٹیرف کا جوابی ٹیرف قانون فعال کردیا، فوری اقدامات سے گریز

ڈینیوب سے ملنے والی موٹر سائیکل نازیوں نے تیار کی تھی
دریا کے اندر موجود حالات کی وجہ سے موٹر سائیکل اور انسانی باقیات خراب ہونے کے بجائے غیر معمولی طور پر محفوظ رہیں۔ کیچڑ اور تیل کے امتزاج نے انہیں تقریباً بہترین حالت میں محفوظ رکھا، حالاں کہ اتنے طویل عرصے تک دریا کے پانی میں رہنے سے عام طور پر شدید نقصان پہنچنا چاہئے تھا۔ موٹر سائیکل کی بہترین حالت کی وجہ سے محققین اس کے ماڈل کی شناخت کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ DKW NZ 350-1 موٹر سائیکل ہے، جسے عام طور پر ’’کریڈر‘‘ کہا جاتا ہے اور اس میں سنگل سلنڈر انجن تھا۔ اسے دوسری جنگِ عظیم کے اختتامی دور میں ۱۹۴۴ء میں نازیوں نے تیار کیا تھا۔ اس کی تقریباً۱۲؍ ہزار موٹر سائیکلیں بنائی گئیں۔ اس میں دو اسٹروک انجن تھا جو۱۱ء۵؍ہارس پاور پیدا کرتا تھا اور اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً۵۶؍ میل فی گھنٹہ تھی۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی میڈیا: ٹرمپ کا آبنائے ہرمز امریکی علاقہ قرار دینا مذاق تھا، ایران کا طنز

ہنگری میں جرمن فوجی
اتنی تاخیر سے متعارف کرائے جانے کے باوجود یہ موٹر سائیکلیں فوجیوں میں نگرانی، پیغام رسانی اور کورئیر مشنز کیلئے مقبول ہوگئیں۔ ان کے فریم کی ویلڈنگ کیلئے زیادہ مقدار میں بجلی درکار ہوتی تھی، اس لئے Auto Union AG انہیں صرف رات کے وقت تیار کرتی تھی۔ محققین کا کہنا ہے کہ غالباً ان میں سے بہت سی موٹر سائیکلیں بڈاپیسٹ کی سڑکوں پر تقریباً ایک سال تک چلتی رہی ہوں گی۔ ۱۳؍ فروری۱۹۴۵ء کو جنگِ بڈاپیسٹ کے بعد جرمن فوج نے ہتھیار ڈال دیئے۔ اس جنگ میں ۳۰؍ ہزار سے زائد نازی، ۸۰؍ ہزار سوویت اور رومانیائی فوجی اور۱۷؍ ہزار ہنگری کے فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ دریا سے ملنے والے فوجی غالباً انہی دو افراد میں شامل تھے جو جنگ کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔ کمیشن کے حکام کے مطابق ممکنہ طور پر برلن میں کسی کو ان کی ہلاکتوں کے بارے میں علم نہیں ہوسکا، کیونکہ ان کے فوجی شناختی ٹیگ اب بھی ان کی لاشوں کے ساتھ موجود تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK