• Fri, 23 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

داؤس: عالمی لیڈروں نے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ منشور پر دستخط کئے

Updated: January 22, 2026, 9:05 PM IST | Davos

سوئزرلینڈ کے داؤس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے دوران عالمی لیڈروں نے غزہ جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کیلئے ’’بورڈ آف پیس‘‘ منشور پر دستخط کیے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسے ایک ’’تاریخی اقدام‘‘ قرار دیا اور کہا کہ امن صرف عالمی تعاون سے ممکن ہے۔

Donald Trump after signing the "Gaza Board of Peace" manifesto. Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ ’’غزہ بورڈ آف پیس‘‘ منشور پر دستخط کرنے کے بعد۔ تصویر: آئی این این

سوئزرلینڈ کے شہر داؤس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کے موقع پر عالمی لیڈروں، سربراہانِ مملکت اور سفارتی نمائندوں نے غزہ امن چارٹر یعنی ’’بورڈ آف پیس‘ ‘ پر دستخط کیے، جس کا مقصد غزہ تصادم کا خاتمہ، جنگ بندی کو مضبوط کرنا، انسانی امداد کی فراہمی، اور سیاسی حل کی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے چارٹر کی رونمائی کرتے ہوئے کہا کہ ’بورڈ آف پیس‘ نہ صرف غزہ کے امن عمل بلکہ عالمِ امن کی ایک اہم کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ دنیا کے لیے ہے، صرف امریکہ کے لیے نہیں۔ ہم اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر امن کو فروغ دیں گے، تاکہ عالمی تنازعات کو حل کیا جا سکے۔‘‘ ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ وہ اس بورڈ کو ’اب تک کی سب سے عظیم اور ممتاز بین الاقوامی باڈی‘ بنانا چاہتے ہیں، جسے وقت کے ساتھ عالمی تنازعات کے حل میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی جنگ تقریباً ختم ہو رہی ہے اور ’’اگر حماس اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتا تو اس کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ بندی: اسرائیلی فضائی حملے جاری، ۳؍ صحافی جاں بحق

منشور پر دستخط تقریباً ۳۵؍ ملکوں کے لیڈروں نے کی جن میں مصر، سعودی عرب، قطر، اردن، بحرین، متحدہ عرب امارات، ترکی، ارجنٹائنا، انڈونیشیا، مراکش سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔ امریکہ نے عراق اور وسط ایشیائی ریاستیں بھی شامل کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم دیگر بڑے یورپی ممالک جیسے برطانیہ، فرانس، جرمنی ابھی تک باضابطہ طور پر شامل نہیں ہوئے ہیں۔ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کی سیکوریٹی کونسل کی قرارداد نمبر ۲۸۰۳؍ کے تحت بنایا گیا بورڈ ہے، جس میں ٹرمپ کو مستقل چیئرمین مقرر کیا گیا ہے اور اسے غزہ میں انتظامیہ، تعمیر نو اور اقتصادی بحالی کی نگرانی کا اختیار دیا گیا ہے۔
ٹریڈ آف پیس کی تشکیل پر مختلف عالمی ردِعمل سامنے آئے ہیں: مشرقِ وسطیٰ کے متعدد لیڈروں نے اسے خوش آئند امن قدم قرار دیا ہے۔ کچھ مغربی طاقتوں نے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے کردار کو کمزور کر سکتا ہے۔ ویٹیکن نے اعلان کیا ہے کہ پوپ لیو کو بھی اس امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے حالانکہ باضابطہ جواب ابھی تک نہیں دیا گیا ہے۔ اسلامی ممالک کے لیڈران نے سلامتی، مستقل جنگ بندی اور انسانی امداد کے تسلسل کو اولین ترجیح قرار دیا۔ مراکش کے بادشاہ نے اس بورڈ میں شامل ہونے کی معاونت کی، جس سے شمالی افریقہ اور عرب دنیا میں امن کی حمایت مضبوط ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’دنیا اب طاقتور ممالک کے درمیان مقابلے کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے‘‘

تاہم ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ بورڈ کا مقصد امن ہے، لیکن اس کے طویل مدتی سیاسی اثرات، ممبرشپ فیس اور عملدرآمد کی صلاحیت پر سوالات موجود ہیں، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ عملی سفارتی پیشرفت میں تبدیل ہو پائے گا۔ اس چارٹر پر دستخط ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب غزہ میں انسانی بحران بدستور سنگین ہے، اور بین الاقوامی برادری کی توجہ فوری جنگ بندی، انسانی امدادی رسائی اور سیاسی حل پر مرکوز ہے۔ داؤس فورم میں اس امن اقدام کو عالمی تعاون اور سفارتی کوششوں کے نئے باب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK