• Thu, 22 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ جنگ بندی: اسرائیلی فضائی حملے جاری، ۳؍ صحافی جاں بحق

Updated: January 22, 2026, 6:05 PM IST | Gaza

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں جن کے نتیجے میں تین فلسطینی صحافی جاں بحق ہو گئے۔ ان میں ایک کیمرہ مین بھی شامل ہے جو بین الاقوامی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے ساتھ کام کرتا تھا۔ اس واقعے پر عالمی صحافتی تنظیموں نے شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

غزہ میں جاری جنگ کے دوران ایک اور المناک واقعے میں تین صحافی اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے۔ امریکی نشریاتی ادارے CBS News (سی بی ایس نیوز) نے تصدیق کی ہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں ایک کیمرہ مین بھی شامل ہے جو اس نیٹ ورک کے لیے فری لانس بنیادوں پر کام کر رہا تھا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب صحافی ایک رپورٹنگ مشن پر تھے۔ سی بی ایس نیوز نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنے ساتھی صحافی کی ہلاکت پر گہرے رنج اور صدمے میں ہے اور متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ نیٹ ورک نے واضح کیا کہ ہلاک ہونے والا کیمرہ مین پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے رہا تھا اور اس کی حفاظت کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین کا احترام کیا جانا چاہیے تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایران کو سخت انتباہ، جوہری پروگرام کی بحالی پر فوجی کارروائی کی دھمکی

عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق، فضائی حملہ غزہ کے ایک شہری علاقے میں ہوا جہاں صحافی زمینی صورتحال کی کوریج کر رہے تھے۔ حملے کے فوراً بعد علاقے میں شدید تباہی دیکھی گئی جبکہ امدادی ٹیموں نے ملبے سے لاشیں نکالیں۔ جاں بحق ہونے والے دیگر دو صحافی مقامی میڈیا اداروں سے وابستہ تھے اور حالیہ دنوں میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کی رپورٹنگ میں مصروف تھے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے فوری طور پر اس مخصوص حملے پر تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں اسرائیلی حکام یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ فضائی کارروائیاں عسکری اہداف کے خلاف کی جاتی ہیں۔ دوسری جانب، فلسطینی حکام اور صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران صحافیوں کو بارہا نشانہ بنایا گیا، جو بین الاقوامی انسانی قانون اور صحافتی تحفظ کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’دنیا اب طاقتور ممالک کے درمیان مقابلے کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے‘‘

عالمی سطح پر صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں، جن میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) اور رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز شامل ہیں، نے اس واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔ ان تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں صحافیوں کی ہلاکتوں کی آزاد اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ اعداد و شمار کے مطابق، موجودہ تنازع کے آغاز کے بعد سے غزہ میں متعدد صحافی جاں بحق ہو چکے ہیں، جس کے باعث اسے جدید تاریخ کے مہلک ترین تنازعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ میڈیا حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ صحافیوں پر حملے نہ صرف انسانی المیے میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ زمینی حقائق تک عوامی رسائی کو بھی محدود کرتے ہیں۔
سی بی ایس نیوز نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ صحافیوں کا کام دنیا کو حقیقت سے آگاہ کرنا ہے اور انہیں کسی بھی صورت میں جنگی فریق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ادارے نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب غزہ میں انسانی صورتحال بدستور سنگین ہے اور بین الاقوامی میڈیا وہاں رسائی اور سلامتی کے شدید مسائل سے دوچار ہے۔ ماہرین کے مطابق، صحافیوں کی ہلاکتیں نہ صرف میڈیا برادری کے لیے بلکہ اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے بھی ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK