Updated: January 06, 2026, 12:06 PM IST
| Jerusalem
فلسطینی صحافیوں کی سنڈیکیٹ کی تازہ ماہانہ رپورٹ کے مطابق دسمبر ۲۰۲۵ء میں اسرائیلی فورسیز نے فلسطینی صحافیوں کے خلاف ۹۹؍ سنگین خلاف ورزیاں کیں۔ ان میں ایک صحافی کی ہلاکت، متعدد شدید زخمی، گرفتاریاں، فیلڈ رپورٹنگ پر پابندیاں، دھمکیاں اور صحافتی آلات و گھروں کی تباہی شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات میڈیا آزادی کو منظم طور پر دبانے اور زمینی حقائق کی ترسیل روکنے کی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں، خصوصاً غزہ اور مغربی کنارے کے شہروں میں۔
فلسطینی علاقوں میں میڈیا آزادی کی صورتحال پر جاری ماہانہ رپورٹ میں Palestinian Journalists Syndicate نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فورسیز نے دسمبر ۲۰۲۵ء کے دوران فلسطینی صحافیوں کے خلاف ۹۹؍ خلاف ورزیاں ریکارڈ کیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ خلاف ورزیاں قتل اور جسمانی حملوں سے لے کر گرفتاریوں، سمن، دھمکیوں اور میڈیا کوریج پر پابندیوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ سنڈیکیٹ کی فریڈمز کمیٹی کے مطابق دسمبر میں ہونے والی خلاف ورزیاں صحافتی کام پر ’’انتہائی درجے کے جبر اور پابندیوں‘‘ کو ظاہر کرتی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ غزہ میں فیلڈ ڈیوٹی کے دوران ایک صحافی مارا گیا، گولہ باری اور براہِ راست نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں دو صحافی شدید زخمی ہوئےجبکہ دو صحافیوں کے قریبی رشتہ دار بھی ہلاک ہوئے۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں رپورٹ نے ۴۸؍ واقعات درج کئے جن میں صحافیوں کو حراست میں لینا یا میڈیا کوریج سے روکنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ فیلڈ رپورٹنگ کے دوران آنسو گیس اور سٹن گرنیڈز کے ۱۵؍ حملے، صحافیوں کے خلاف جان بوجھ کر گاڑی ٹکرانے کی دو کوششیں، ہتھیار دکھا کر دھمکانے اور نشان لگانے کے ۹؍ واقعات، اور براہِ راست دھمکیوں کے ۶؍ واقعات رپورٹ ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران: صورتحال کشیدہ، انٹرنیٹ معطل، بین الاقوامی ردِ عمل
سنڈیکیٹ کے مطابق کوریج پر پابندیاں اور فیلڈ رپورٹنگ کو دبانا ایک منظم پالیسی کی نشاندہی کرتا ہے جس کا مقصد تصاویر اور حقائق کی ترسیل روکنا ہے—خاص طور پر غزہ اور مغربی کنارے کے شہروں یروشلم، الخلیل (حبرون)، جینین اور راملہ میں۔ رپورٹ میں صحافیوں کے ساتھ مارپیٹ اور جسمانی بدسلوکی کے دو واقعات، صحافتی آلات کے ایک ٹکڑے کی تباہی، اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں دو صحافیوں کے گھروں کی تباہی بھی درج کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ دو گرفتاریاں، سیکوریٹی پوچھ گچھ کیلئے دو سمن، اور اسرائیلی میڈیا آؤٹ لیٹس و انفارمیشن سینٹرز کے ذریعے منظم اشتعال انگیزی کے دو واقعات شامل ہیں، جن میں جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ بعض صحافی مسلح گروہوں سے وابستہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی فساد ۲۰۲۰ء: سپریم کورٹ کا عمر خالد، شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار
سنڈیکیٹ نے ایک واقعہ بھی دستاویزی شکل دی جس میں غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں نے اسرائیلی فوج کے تحفظ میں ایک فلسطینی صحافی پر حملہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ’’مکمل استثنیٰ‘‘ کے ماحول اور قابض فوج و آبادکاروں کے کردار کے باہمی انضمام کی تصدیق کرتا ہے۔ دسمبر ۲۰۲۵ء کے اوائل میں غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے بتایا تھا کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے شروع ہونے والی اور اکتوبر ۲۰۲۵ء میں جنگ بندی تک جاری رہنے والی کارروائیوں کے دوران ۲۵۷؍ فلسطینی صحافی ہلاک ہوئے۔ وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی سیکڑوں خلاف ورزیاں ہوئیں جن میں ۴۲۰؍ فلسطینی جاں بحق اور ۱۱۸۴؍ زخمی ہوئے۔ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک غزہ میں تقریباً ۷۱۴۰۰؍ فلسطینی شہید ہوئے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے جبکہ ایک لاکھ ۷۱؍ ہزار ۲۰۰؍ سے زائد زخمی ہوئے۔ مسلسل حملوں نے ناکہ بندی کے شکار علاقے کو بڑے پیمانے پر کھنڈرات میں تبدیل کر دیا اور تقریباً پوری آبادی کو بے گھر کر دیا۔