Updated: January 05, 2026, 2:41 PM IST
| New Delhi
سپریم کورٹ نے دہلی ۲۰۲۰ء کے فسادات سے جڑے مبینہ بڑے سازشی معاملے میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ عدالت نے دیگر چند ملزمان کو ضمانت دی، تاہم خالد اور امام کے خلاف الزامات کو سنگین اور مقدمے کو مضبوط قرار دیتے ہوئے انہیں فی الحال راحت دینے سے انکار کیا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ مخصوص گواہوں کے بیانات مکمل ہونے یا مناسب مدت گزرنے کے بعد دوبارہ ضمانت کی درخواست دی جا سکتی ہے۔
عمر خالد۔ تصویر: آئی این این
سپریم کورٹ نے دہلی ۲۰۲۰ء کے فسادات سے متعلق مبینہ بڑے سازشی مقدمے میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دیں۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دونوں ملزمان کے خلاف الزامات کی نوعیت دیگر شریکِ ملزمان سے مختلف اور زیادہ سنگین ہے، اسی بنیاد پر انہیں اس مرحلے پر ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے اس معاملے میں چند دیگر ملزمان کو ضمانت دی، تاہم عمر خالد اور شرجیل امام کے تعلق سے کہا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کئے گئے مواد اور شواہد اس حد تک سنجیدہ ہیں کہ عدالت ضمانت کیلئے مطلوب اطمینان تک نہیں پہنچ سکی۔
یہ بھی پڑھئے:برطانیہ کے پبلک ٹرانسپورٹ میں نسلی اور مذہبی نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ: ڈیٹا
سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ انسدادِ دہشت گردی قانون (یو اے پی اے) کے تحت درج مقدمات میں ضمانت کے اصول عام فوجداری مقدمات سے مختلف ہوتے ہیں، اور صرف مقدمے میں تاخیر کو ضمانت کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ تاہم عدالت نے دونوں ملزمان کو یہ رعایت دی کہ وہ محفوظ گواہوں کے بیانات مکمل ہونے کے بعد یا مناسب مدت گزرنے پر دوبارہ ضمانت کیلئے رجوع کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ یہ مقدمہ شمال مشرقی دہلی میں فروری ۲۰۲۰ء کے دوران ہونے والے فسادات سے متعلق ہے، جن میں درجنوں افراد جان سے گئے اور بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان پہنچا۔ دہلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ فسادات اچانک نہیں بلکہ ایک منظم سازش کے تحت بھڑکائے گئے تھے، جس میں متعدد سماجی اور طلبہ کارکنان کے نام شامل کئے گئے۔