Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایندھن کی قلت سے سبسیڈی واپس لینے کافیصلہ

Updated: May 27, 2026, 2:01 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

ایندھن کی فراہمی پر بڑھتے دبائو سےمہانگرگیس لمیٹڈکا صارفین کو دی جانے والی سہولیات کو واپس لینے کا اعلان، کاروباریوں کی مشکلیں بڑھنے کا خدشہ۔

Mahanagar Gas.Photo:INN
مہانگرگیس۔ تصویر:آئی این این
ایندھن کی فراہمی پر بڑھتے دبائو سے مہانگر گیس لمیٹڈ (ایم جی ایل ) نے تجارتی پی این جی اور سی این جی صارفین کو دی جانے والی سبھی سہولیاتی اسکیموں اور سبسیڈیز کو واپس لینے کا اعلان کیا ہے جس سے کمرشیل گیس استعمال کرنے والے کاروباریوں کی مشکلوں کے بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ہوٹل والوں کاکہنا ہے کہ ایک تو گیس کی قیمت میں اضافہ ہونے سے پریشانی ہو رہی ہے ، دوسرے ڈسٹریبویٹر وں نے رعایت دینی بند کردی ہے ۔ مجبوراً کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں بڑھانے سے ۱۵؍ سے ۲۰؍فیصد کاروبار متاثر ہوا ہے ۔ اس کے باوجود بھی گیس مل رہاہے ،وہی ہمارے لئے غنیمت ہے ۔
واضح رہے کہ ایم جی ایل نے تجارتی پی این جی اور سی این جی کو دی جانے والی تمام سہولیاتی اسکیموں اور سبسیڈیز کو فوری طور پر واپس لینے کا اعلان کیا ہے ۔ یادرہےکہ کمپنی نے موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال اور توانائی کے شعبے پر اس کےپڑنے والے اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہےجس سے تجارتی گیس صارفین کو بڑا دھچکا پہنچا ہے ۔
  ایم جی ایل کے مطابق’’ یہ فیصلہ ایندھن کی فراہمی پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور قیمتوں میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے کیا گیا ہے ۔کمپنی نے تجارتی صارفین کو دی جانے والی تمام مالی امداد کی اسکیموں کو فوری طور پر بند کرنے پر مجبو ر ہونے کی وجہ سے یہ اقدام اُٹھایاہے ۔ توقع ہے کہ اس فیصلے سے ٹرانسپورٹ آپریٹرز، ہوٹلوں، ریستورانوں، صنعتوں اور روزانہ کے کاموں کیلئے پی این جی اور سی این جی کااستعمال کرنے والوںکے کاروبار متاثر ہوں گے ۔
ایم جی ایل نے یہ بھی کہا ہے کہ’’ وہ اس فیصلے سے تجارتی صارفین کو پیش آنے والی مشکلات کو سمجھ رہے ہیں اور انہیں ہونے والی دقتوں کا احساس بھی ہے لیکن موجودہ حالات کی وجہ سے کمپنی نے یہ فیصلہ کیا ہے،ساتھ ہی کمپنی نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ تمام آپریشنل علاقوں میںپی این جی اور سی این جی کی محفوظ اور قابل اعتماد فراہمی کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کرے گی ۔‘‘
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایندھن کی قیمتوں میں پہلی ہی مرتبہ میں بار بار اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس سے کاروبار اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں پر مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔جس کابراہ راست اثر صارفین پر پڑے گا۔
چرنی روڈ پر واقع وائس آف انڈیا ریسٹورنٹ کے مالک معظم دبیر نے انقلاب کو بتایا کہ ’’جو تجارتی گیس سلنڈر امریکہ اورایران جنگ سے پہلے تقریباً ۲؍ہزار روپے میں مل رہا تھا، اس پر حکومت نے ایک ہزار روپے بڑھا دیا ہے ،جس کی وجہ سے ہمیں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا ہے ۔ جس سے ہمارا کاروبار ۱۵؍ سے ۲۰؍ فیصدکم ہوگیا ہے ۔ ابھی ان مسائل پرقابو پانے کی جدوجہد جاری تھی کہ ایم جی ایل نے سبھی سہولیاتی اسکیموں اور سبسیڈیز کو واپس لینے کا اعلان کر دیا جس کی وجہ سے ڈسٹریبویٹروں کے ذریعے ہمیں گیس کی خریداری پر جو رعایت ملتی تھی وہ بھی بند ہوگئی ہے ۔ ‘‘
 
 
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے ریسٹورنٹ میں روزانہ ایک سے ڈیڑھ سلنڈر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ایک سلنڈر پر ڈسٹریبویٹر ۱۰۰؍روپے رعایت دیتا تھا لیکن اب وہ رعایت بھی بند ہوگئی ہے ۔ ایک طرف سہولیات اور رعایتیں محدود ہو رہی ہیں ، دوسری جانب مینو کے مہنگے ہونے ، شدید گرمی میں صارفین کے گھروںمیں رہنے اور گرمی کی چھٹیوں میں آبائی وطن جانے والوں کی وجہ سے ان دنوں کاروبار بری طرح متاثر ہے ،اس کے باوجود گیس مل رہا ہے ، وہی ہمارے لئے غنیمت ہے ۔‘‘   
 
 
پی ڈی میلوروڈ پر واقع کیفے فرہنگ کے مالک قمرالزماں خان کے مطابق ’’ ایم جی ایل تو پہلے بھی تجارتی گیس پر سبسیڈی نہیں دیتی تھی یہ ضرور ہے کہ ڈسٹریبویٹرز کچھ چُھوٹ دیتے تھے لیکن جب سے گیس کی قلت ہوئی ہے ، انہوں نے بھی رعایت دینا بندکر دیا ہے ۔رعایت سے قطع نظر تجارتی گیس سلنڈر کی قیمت میں گزشتہ چند مہینوں میں تقریباً ایک ہزار ۲۰۰؍ روپے کے اضافے نے ہمارے کاروبار کو متاثر کیا ہے۔ سلنڈر کی قیمت بڑھنے سے کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے متوسط طبقے کے صارفین کم ہوگئے ہیں۔ ‘‘ اس دوران انہوں نےیہ بھی بتایا کہ ’’ فی الحال کمرشیل سلنڈر مل رہا ہے ،جس کی وجہ سے کاروبار جاری ہے ،اس لئے ہم لوگ ڈسٹریبویٹروں کی جانب سے دی جانے والی رعایت کے بند کئے جانے سےزیادہ اس بات سے مطمئن ہیں کہ کم ازکم ہمیں سلنڈر تو مل رہا ہے، ورنہ کاروبار جاری رکھنامشکل تھا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK