بھارت رتن اُستاد بسم اللہ خان کا آبائی مکان ایک بار پھر تنازع کا شکار ہو گیا ہے۔۵؍ ماہ قبل میونسپل کارپوریشن کےذریعہ گھر کے ایک کمرے میں میوزیم قائم کرنےکے فیصلہ کے تحت اتوار کوجب بلڈربنیا باغ کی بھیکھا شاہ گلی میں واقع استاد کےمکان کو گرانے کیلئے پہنچےتو اہل خانہ نے احتجاج کیا۔
بسم اللہ خاں۔ تصویر: آئی این این
بھارت رتن اُستاد بسم اللہ خان کا آبائی مکان ایک بار پھر تنازع کا شکار ہو گیا ہے۔۵؍ ماہ قبل میونسپل کارپوریشن کےذریعہ گھر کے ایک کمرے میں میوزیم قائم کرنےکے فیصلہ کے تحت اتوار کوجب بلڈربنیا باغ کی بھیکھا شاہ گلی میں واقع استاد کےمکان کو گرانے کیلئے پہنچےتو اہل خانہ نے احتجاج کیا۔ گھروالوں نےبلڈر سے مکان توڑنے سے متعلق دستاویزات اورانتظامیہ کااجازت نامہ دکھانے کا مطالبہ کیا۔تنازع بڑھنے پرموقع پر پہنچی پولیس نےمعاملہ ختم کرانے کی کوشش کی لیکن بات نہ بننے پر دونوں فریقوں کو پولیس چوکی پر بلا سمجھوتہ کرایا گیا۔فی الحال بلڈرکو واپس جاناپڑا۔استادکےاس تاریخی مکان کے متعلق خاندان میں تقریباً ۱۰؍ سال سے تنازع چل رہا ہے۔ اس پورے واقعے نے اُستاد کی وراثت کو محفوظ رکھنے کے دعوئوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔واضح ہو کہ تقریباً پانچ ماہ قبل میونسپل کارپوریشن کی جانب سے اسی مکان کے اس کمرے کومیوزیم بنانے کی منصوبہ بنایاگیا تھا، جہاں اُستاد بسم اللہ خان ریاض کیا کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: دُھبری میں انہدامی کارروائی،۵۵۰؍خاندان بے گھر
جون ۲۰۲۶ ءکو میونسپل کمشنر ہیمنت ناگپال نے بتایا تھا کہ اُستاد کے ریاض والے کمرے کو میوزیم کے طور پر تیار کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ مکان اور آس پاس کے علاقے میں سڑک، فٹ پاتھ اور روشنی کے نظام کو بہتر بنانے کی بھی منصوبہ بندی تھی۔ اگست ۲۰۲۰ء میں بھی یہاں توڑ پھوڑ کی کوشش ہوئی تھی۔ اُس وقت خاندان کے کچھ افراد نے الزام لگایا تھا کہ مکان کو تجارتی کمپلیکس میں تبدیل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف کے احتجاج کے بعد وارانسی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر کام روک دیا تھا۔ وی ڈی اے نے واضح کیا تھا کہ پرانی اور خستہ حال عمارت گرانے کیلئے میونسپل کارپوریشن سے اجازت اور نئی تعمیر کے لیے منظور شدہ نقشہ ضروری ہوگا۔اُستاد بسم اللہ خان نے اسی مکان میں اپنی زندگی کے کئی اہم سال گزارے تھے۔ یہیں ان کی شہنائی کی سادھنا اور ریاض کی گونج سنی جاتی تھی۔ استاد کے پوتے شہنائی نواز آفاق حیدر نے انقلاب کو بتایا کہ دادا کے ایک بیٹے کے کنبہ کو چھوڑ کر استاد کے کنبہ کے سبھی لوگ عمارت کی تعمیر کیلئے تیار ہیں۔