رضا اکیڈمی نے مذمت کی تو مرچنٹ گروپ کے سربراہ نے امریکی قونصل جنرل کو میل بھیج کر شکایت کی اور خاطی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: June 07, 2026, 10:56 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
رضا اکیڈمی نے مذمت کی تو مرچنٹ گروپ کے سربراہ نے امریکی قونصل جنرل کو میل بھیج کر شکایت کی اور خاطی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فریسکو میں ہندوستانی قومی پرچم پھاڑ کر اس کی بے حرمتی کرنےپر سخت ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ ساتھ ہی اس گھٹیا حرکت کے مرتکب کے خلاف سخت کارروائی کامطالبہ کیاجارہاہے۔
اس واقعے کو انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے رضااکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ’’ کسی بھی ملک کا قومی پرچم اس کی خودمختاری، وقار اور قومی یکجہتی کی علامت ہوتا ہے۔ اختلافِ رائے یا احتجاج کے نام پر قومی پرچم کی توہین ہرگز قابلِ قبول نہیں۔‘‘انہوں نےیہ بھی کہا کہ ’’ ہندوستان مختلف مذاہب، ثقافتوں اور زبانوں کا گہوارہ ہے اور قومی پرچم ملک کے ۱۴۰؍کروڑ ہندوستانیوں کے اتحاد اور قومی تشخص کی علامت ہے،اس لئے اس کی بے حرمتی نہ صرف ہندوستانی عوام کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے بلکہ عالمی سطح پر احترامِ باہمی اور تہذیبی رواداری کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ہمارا امریکی حکام سے مطالبہ ہے کہ وہ اس واقعہ کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں جو اپنی گھٹیاحرکت سے نفرت اور اشتعال انگیزی کوبڑھا رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ڈی آر پی کے سربراہ کی غلط بیانی کو ہر دھاراوی واسی تک پہنچانے کا عہد
مرچنٹ گروپ کے سربراہ محمد جمیل مرچنٹ نے امریکی قونصل جنر ل سے بذریعہ ای میل شکایت کی اور لکھا کہ ’’ ٹیکساس کے فریسکوسٹی ہال میں کلیٹن واکر،جس بددماغ نے ہندوستانی قومی پرچم پھاڑنے کی شرمناک حرکت کا ارتکاب کیا اور۱۴۰؍کروڑ ہندوستانیوں کی دل آزاری کی ہے اس کے خلاف سخت ایکشن لیاجائے اور اس بات کویقینی بنایاجائے کہ آئندہ ایسی حرکت نہیں کی جائے گی۔‘‘ انہو ں نےاپنی شکایت میں یہ بھی لکھا کہ ’’ترنگا محض ایک پرچم ہی نہیں، کروڑوں ہندوستانیوں کے جذبات، مجاہدین آزادی کی قربانیوں اور وطن عزیز کے وقار کی علامت ہے۔‘‘