اتراکھنڈ میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے منظوری نظام میں تبدیلی کے دوران سابقہ ریکارڈ میں درج ۴۵۲؍ مدارس میں سے ۱۷۹؍ کے بند ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ محکمۂ تعلیم نے اب تک صرف ۳۰؍ مدارس کو منظوری دی ہے، جبکہ ۱۳۴؍ نے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔
EPAPER
Updated: September 18, 2026, 10:06 PM IST | Dehradun
اتراکھنڈ میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے منظوری نظام میں تبدیلی کے دوران سابقہ ریکارڈ میں درج ۴۵۲؍ مدارس میں سے ۱۷۹؍ کے بند ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ محکمۂ تعلیم نے اب تک صرف ۳۰؍ مدارس کو منظوری دی ہے، جبکہ ۱۳۴؍ نے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔
اتراکھنڈ کے سابقہ ریکارڈ میں درج تقریباً ہر ۱۰؍ میں سے ۴؍ مدرسے بند ہوچکے ہیں، جبکہ اب تک صرف ۳۰؍ مدرسوں کو ریاستی محکمۂ تعلیم سے منظوری حاصل ہوئی ہے۔ یہ اعداد و شمار اقلیتی تعلیمی اداروں کے لیے ضابطۂ کار میں جاری تبدیلیوں کے دوران سامنے آئے ہیں۔ محکمۂ تعلیم کے ریکارڈ کے مطابق، سابقہ نظام کے تحت رجسٹرڈ ۴۵۲؍ مدرسوں میں سے ۱۷۹؍ اب کام نہیں کر رہے ہیں۔ اس طرح بند ہونے والے مدرسوں کی شرح ۶۰ء۳۹؍ فیصد ہے۔ اس کے علاوہ ۱۹؍ اداروں کو مقررہ ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی پر سیل کردیا گیا ہے۔ اقلیتی اداروں کو منظوری دینے کے لیے اتراکھنڈ اسٹیٹ مائنارٹی ایجوکیشن اتھارٹی کا قیام ۳؍ فروری ۲۰۲۶ء کو عمل میں آیا تھا۔ اس نے اتراکھنڈ مدرسہ بورڈ کی جگہ لی ہے۔ محکمۂ تعلیم بھی منظوری کی درخواستوں پر کارروائی کر رہا ہے، جس کے باعث عبوری مدت میں منظوری کے الگ الگ نظام قائم ہوگئے ہیں۔
محکمۂ تعلیم سے اب تک صرف ۳۰؍ مدرسوں کو منظوری ملی ہے، جو سابقہ مجموعی تعداد ۴۵۲؍ کا تقریباً ۶ء۶؍ فیصد ہے۔ مزید ۱۳۴؍ مدرسوں نے منظوری کے لیے درخواستیں دی ہیں، جبکہ ۵۴؍ اداروں نے ابھی تک درخواستیں جمع نہیں کرائی ہیں۔ دوسری جانب، نئی قائم شدہ اتھارٹی نے ۳۵؍ اقلیتی تعلیمی اداروں کو منظوری دی ہے، جن میں ۳۳؍ مدارس اور اقلیتوں کے زیرانتظام دو دیگر ادارے شامل ہیں۔ حکام نے واضح کیا کہ یہ منظوریاں محکمۂ تعلیم کے ذریعے دی گئی ۳۰؍ مدرسہ منظوریوں سے الگ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ: سقوطِ حیدرآباد کے عنوان سے اجلاس، حیدرآباد کےمورخین اور ماہرین کا خطاب
محکمۂ اقلیتی بہبود کے خصوصی سکریٹری پرَگ مدھوکر ڈھاکٹے نے کہا کہ منظوری کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں کا جائزہ مسلسل لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’منظوری کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں پر کارروائی مسلسل جاری ہے۔‘‘ حکام کے مطابق حکومت مقررہ ضوابط سے باہر کام کرنے والے اداروں کی بھی نگرانی کر رہی ہے۔ تاہم اب تک جاری کیے گئے اعداد و شمار سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ آیا بعض زمروں میں باہمی تداخل ہے یا بند اور سیل کیے گئے تمام ادارے اصل ۴۵۲؍ مدارس کی فہرست میں شامل تھے۔