مختلف تاریخی پہلوؤں کو دستاویزات اور حوالوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ نئی نسل کو تاریخ کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کرنے کی ضرورت پر زوردیا گیا۔
EPAPER
Updated: September 18, 2026, 12:35 PM IST | ZA Khan | Nanded
مختلف تاریخی پہلوؤں کو دستاویزات اور حوالوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ نئی نسل کو تاریخ کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کرنے کی ضرورت پر زوردیا گیا۔
۱۷؍ ستمبر کو ہر سال’ مراٹھواڑہ مکتی سنگرام دن‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اسی تاریخ کو۲۵۰؍ سال سے زائد عرصے تک قائم رہنے والی ریاست حیدرآباد کے انڈین یونین میں انضمام بھی عمل میں آیا تھا۔ تاریخ کے ان دونوں واقعات کے حوالے سے سماج میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ بعض عناصر اپنے سیاسی مفادات کے لیے تاریخی واقعات کو مخصوص انداز میں پیش کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں آج بھی سماج میں غلط فہمیاں اور دوریاں پیدا ہو رہی ہیں۔اسی پس منظر میں سقوطِ حیدرآباد کی تاریخ کے مختلف پہلوؤں اور تاریخی حقائق کو سامنے لانے کے مقصد سے مسلم نمائندہ کونسل ناندیڑ کی جانب سے۱۷؍ ستمبر کو ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت حیدرآباد کے معروف سینئر صحافی اور تاریخ کا گہرا مطالعہ رکھنے والے ڈاکٹر انعام الرحمن غیور نے کی، جبکہ تاریخ داں کیپٹن لنگالا پانڈورنگ ریڈی، کل ہند تعمیرِ ملت کے سابق صدر و اقبال اکیڈمی حیدرآباد کے صدر ضیاء الدین نیر اور سینئر صحافی و تجزیہ نگار ڈاکٹر خالد ملا نے خصوصی طور پر شرکت کی۔
یہ بھی پڑھئے:’’مراٹھوں کو انصاف دیجئے، لیکن او بی سی کے حقوق نہ چھینئے‘‘
اس کے بعد مسلم نمائندہ کونسل کے صدر ایڈوکیٹ نصیر الدین فاروقی نے افتتاحی کلمات میں کہا کہ سقوطِ حیدرآباد سے متعلق سماج میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا اور نئی نسل کو اپنے آباؤ اجداد کی اصل تاریخ سے واقف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔تاریخ داں کیپٹن لنگالا پانڈورنگ ریڈی نےکہا کہ ریاستِ حیدرآباد کا انڈین یونین میں انضمام نظام الملک میر عثمان علی خان کی رضامندی سے ہوا تھا۔ انکے مطابق جب حکومت ہند نے آپریشن پولو کیلئے حیدرآباد میں فوج بھیجی تو کسی بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں ہوا اور ان کے بقول ریاست کا انضمام باہمی رضامندی سے عمل میں آیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بعد میں حکومتِ ہند نے میر عثمان علی خان کو ریاست کا گورنر مقرر کیا تھا۔ اسی بنیاد پر ان کا کہنا تھا کہ۱۷؍ ستمبر کو ’مراٹھواڑہ مکتی سنگرام دن‘ یا ’لبریشن ڈے‘ کے طور پر منایا جانا مناسب نہیں ہے۔کیپٹن ریڈی نے نظام حکومت کے مختلف فلاحی اقدامات پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی اور اپنی تقریر کے دوران متعدد تاریخی دستاویزات پیش کرتے ہوئے سقوطِ حیدرآباد کے وقت کے سیاسی اور تاریخی حالات بیان کیے۔ سینئر صحافی و تجزیہ نگار ڈاکٹر خالد ملا نے کہا کہ تاریخ کو تاریخی حقائق کے پس منظر میں سمجھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: مہوا موئترا کا امیت شاہ کے اجلاس سے مسلم افسران کو دور رکھنے پراقوام متحدہ کو خط
اور اسے کسی ایک مخصوص زاویے سے دیکھنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے موجودہ تعلیمی نصاب میں تاریخ کی پیش کش پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق تاریخی واقعات کو مخصوص انداز میں پیش کرنے کی وجہ سے نئی نسل اپنے ماضی کے حقیقی پس منظر سے دور ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں معاشرے میں غلط فہمیاں اور دوریاں پیدا ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں سماج کے ذمہ دار شہریوں کی حیثیت سے تاریخی حقائق کو سامنے لانا اور نئی نسل کو مستند معلومات فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اجلاس کی صدارت کرنے والے ڈاکٹر انعام الرحمن غیور نے اپنے خطاب میں کہا کہ تاریخ میں پیش آنے والے واقعات کو سمجھنے اور ان سے سبق حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، تاہم ان کے بقول بعض عناصر اپنے سیاسی مفادات کے لیے تاریخی واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے میں تاریخی حقائق کو سامنے لانا ہماری ذمہ داری بن جاتی ہے۔انہوں نے نظام حکومت کے تقریباً ڈھائی سو سالہ دور کے مختلف فلاحی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میر عثمان علی خان اپنی رعایا کی فلاح و بہبود کے لیے فکر مند تھے۔ انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی کے قیام کا بھی ذکر کیا۔ڈاکٹر غیور کا دعویٰ ہے کہ’’ چین کے ساتھ جنگ کے دوران میر عثمان علی خان نے حکومتِ ہند کو۱۰؍ ٹن سونا دیا تھا تاکہ ملک چین کا مقابلہ پوری طاقت کے ساتھ کر سکے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ نظام حکومت کے دور میں مختلف طبقات کو سرکاری ملازمتوں میں مواقع فراہم کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق سرکاری ملازمتوں اور اعلیٰ تعلیم کیلئے ۵؍ زبانوں میں امتحانات دینے کی سہولت موجود تھی، جن میں اردو کے علاوہ تیلگو، کنڑ، مراٹھی اور انگریزی شامل تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کے مطالعے کے مطابق نظام حکومت کے ڈھائی سو سالہ دور میں ہندو مسلم فسادات کے واقعات سامنے نہیں آتے۔ ڈاکٹر انعام الرحمن غیور نے رضاکاروں کے کردار پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’رضاکاروں کی مختلف اقسام تھیں اور ان کے بقول بعض رضاکاروں نے اپنے مفادات کیلئے لوگوں پر ظلم کیا، جس سے میر عثمان علی خان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ رضاکاروں کی جانب سے کیے گئے مظالم کو پورے نظامِ حکومت سے جوڑ کر پیش کرنے سے تاریخی تصویر کا ایک مخصوص رخ سامنے آتا ہے اور نظام حکومت کو بدنام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کمیونسٹ رضاکاروں کے کردار کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے نظام حکومت کو بدنام کرنے کے لیے لوگوں کا استحصال کیا تھا۔ڈاکٹر غیور نے نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سقوطِ حیدرآباد کے تاریخی پس منظر اور اس دور کے واقعات کو سمجھنے کے لئےتاریخی دستاویزات کا گہرا مطالعہ ضروری ہے۔اجلاس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ ایڈوکیٹ ندیم نے اظہارِ تشکر پیش کیا، جبکہ نظامت کے فرائض محمد عمران نے انجام دئیے۔
سماج کے ذمہ دار شہریوں کی حیثیت سے تاریخی حقائق کو سامنے لانا اور نئی نسل کو مستند معلومات فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔