Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی حکومت کا نئی پٹرول موٹرسائیکلوں کی رجسٹریشن پر پابندی کا فیصلہ

Updated: June 20, 2026, 7:02 PM IST | New Delhi

دہلی حکومت نے نئی پٹرول موٹرسائیکلوں کے رجسٹریشن پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے، الیکٹرک گاڑی (ای وی) پالیسی۲؍ اعشاریہ صفر کے تحت اپریل۲۰۲۸ء سے دو پہیوں کی نئی رجسٹریشن پر مجوزہ پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حالانکہ حکومت کو شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

دہلی حکومت نے اپنی نئی الیکٹرک گاڑی (ای وی) پالیسی۲؍ اعشاریہ صفر کے تحت اپریل۲۰۲۸ء سے اندرونی احتراق انجن (آئی سی ای) والی دو پہیوں کی نئی رجسٹریشن پر مجوزہ پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حالانکہ اسے شدید مخالفت کا سامنا ہے۔واضح رہے کہ۸؍ مئی کو الیکٹریفیکیشن کے اس لازمی حکم کو مینوفیکچررز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا ہے، جن کا کہنا تھا کہ آبادی کے ایک بڑے طبقے کے لیے جو موٹرسائیکل خریدتا ہے، ذاتی نقل و حرکت کے متبادل موجود نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ: مقتول کفایت علی کے اہل خانہ کی امداد

جبکہ کئی لوگوں نے یہ بھی دلیل دی کہ ہندوستان کی بیٹری اور نایاب ارضی اجزاء کی سپلائی چین، جو ابھی تک درآمدات پر منحصر ہے اور بڑی حد تک چین پر انحصار کرتی ہے، اس بڑے پیمانے پر منتقلی کے لیے ابھی تیار نہیں ہے۔ساتھ ہی صنعت کی اعلیٰ تنظیموں بشمول سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز (ایس آئی اے ایم) نے بھی حکومت کو خط لکھا تھا کہ ’’آئی سی ای گاڑیوں پر پابندی کا حکم نقصان دہ ہوگا، جو ممکنہ طور پر صارفین کی بہبود اور وسیع تر معاشی استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: جلگائوں کے مکتائی نگر علاقے میں بڑا کامبنگ آپریشن، ۵۶؍ افراد گرفتار

واضح رہے کہ دہلی جو گزشتہ دہائی سے فضائی آلودگی سے دوچار ہے، اور اس مسئلے کے تدارک کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ چونکہ فضائی آلودگی میں گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، لہٰذا حکومت کا الیکٹرک موٹر گاڑی کو فروغ دینے کا فیصلہ قابل تحسین ہو سکتا تھا، تاہم اس کے نفاذ سے قبل تمام متعلقین ، جن میں صارف، بائیک اور اسکوٹر بنانے والی کمپنیاں شامل ہیں، کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا۔ لیکن حکومت نے تمام مخالفت کی پرواہ کئے بغیر اپنے طور پر پیٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکل کے رجسٹریشن کے خاتمے کا اعلان کرکے، چوطرفہ تنقیدیں مول لے لی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK