Inquilab Logo Happiest Places to Work

چھ سالہ ہند رجب قتل کیس سے منسلک ۵۲؍ویں بٹالین کا کمانڈر لبنان میں مارا گیا

Updated: June 20, 2026, 8:14 PM IST | Tal Aviv

جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی۵۲؍ویں بٹالین کے کمانڈر کی ہلاکت کے بعد اس یونٹ پر ایک بار پھر عالمی توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔ یہی بٹالین غزہ میں فلسطینی بچی ہند رجب اور امدادی عملے کی ہلاکت کے واقعے کے باعث بھی شدید تنقید اور قانونی کارروائیوں کی زد میں رہی ہے۔

Lt. Col. Dor Gedalia Ben Simhon and Hind Rajab. Photo: INN
لیفٹیننٹ کرنل ڈور گدالیا بین سیمخون اور ہند رجب۔ تصویر: آئی این این

اسرائیلی فوج کے جمعہ کو اس اعلان کے بعد کہ۴۰۱؍ویں آرمڈ بریگیڈ کی۵۲؍ویں بٹالین کا کمانڈر جنوبی لبنان میں ہلاک ہو گیا ہے، اسی یونٹ پر ایک بار پھر توجہ مرکوز ہو گئی ہے، جس کا نام غزہ میں چھ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کے قتل سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ۳۲؍ سالہ لیفٹیننٹ کرنل ڈور گدالیا بین سیمخون، جو بیت ہاشیتا کے رہائشی اور۴۰۱؍ویں بریگیڈ کی۵۲؍ویں بٹالین کے کمانڈر تھا، جنوبی لبنان میں ایک کارروائی کے دوران ٹینک کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں تین دیگر فوجیوں سمیت مارا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو ایران امن کوششوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے: امریکی خفیہ اداروں کا انتباہ

اسرائیلی اخبار ’’دی ٹائمز آف اسرائیل‘‘ کے مطابق، غزہ اور لبنان میں جنگوں کے آغاز کے بعد سے۵۲؍ویں بٹالین کے یہ چوتھا کمانڈر ہے جو یا تو ہلاک ہوا یا زخمی ہوا۔ یہ بٹالین ہند رجب کے قتل میں مبینہ کردار کے باعث بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ہند رجب جنوری۲۰۲۴ءمیں غزہ شہر میں اس وقت جاں بحق ہو گئی تھیں جب اسرائیلی فورسیز نے اس گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں وہ اپنے کئی رشتہ داروں کے ساتھ موجود تھیں۔ دستاویزی شواہد کے مطابق، ابتدائی حملے میں ہند رجب زندہ بچ گئی تھیں اور گاڑی میں پھنسے رہتے ہوئے ہنگامی امدادی عملے سے فون پر رابطے میں تھیں۔ انہیں بچانے کیلئے بھیجی گئی ایمبولینس کو بھی بعد میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں طبی عملہ ہلاک ہو گیا۔ ہند رجب کی لاش۱۲؍ روز بعد برآمد ہوئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’تمہارے گھروں کی حفاظت امریکی ہتھیاروں سے ہوتی ہے‘‘

مئی ۲۰۲۵ءمیں بلجیم میں قائم ہند رجب فاؤنڈیشن نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) میں ۵۲؍ویں بٹالین کے سابق کمانڈر ڈینیئل ایلا اور۴۰۱؍ویں آرمڈ بریگیڈ کے کمانڈر کرنل بینی آہرون کے خلاف شکایت دائر کی، جس میں ان پر ہند رجب، ان کے اہلِ خانہ اور ایمبولینس کے عملے کی ہلاکتوں کے حوالے سے جنگی جرائم کے الزامات عائد کئے گئے۔ یہ تازہ ہلاکت بٹالین میں کمانڈ کی متعدد تبدیلیوں کے بعد پیش آئی ہے۔ اپریل۲۰۲۶ء میں اسرائیلی فوج نے ایک اور بٹالین کمانڈر کے زخمی ہونے کے بعد ڈینیئل ایلا کو عارضی طور پر جنوبی لبنان میں دوبارہ خدمات کیلئے طلب کیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’اسرائیل کو لبنان سے۶۰؍ دن میں واپس جانا ہوگا‘‘

’’دی ٹائمز آف اسرائیل‘‘ کے مطابق، ایلا خود جولائی۲۰۲۴ءمیں غزہ میں بٹالین کی قیادت کرتے ہوئے زخمی ہوا تھا، جس کے بعد لیفٹیننٹ کرنل یہودا شالیو نے اس کی جگہ سنبھالی لیکن وہ بھی اسی سال اکتوبر میں شدید زخمی ہو گیا۔ لبنان میں ان کے بعد آنے والا کمانڈر بھی زخمی ہوا، جس کے بعد بین سیمخون نے ذمہ داری سنبھالی۔ اسرائیلی چینل۱۴؍ نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ اکتوبر۲۰۲۳ء سے اب تک ڈینیئل ایلا تین مختلف مواقع پر اس بٹالین کی قیادت کر چکے ہیں۔ اکتوبر میں شائع ہونے والی الجزیرہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں ڈینیئل ایلا اور بینی آہرون کو ان اسرائیلی افسران میں شامل کیا گیا تھا جنہیں ہند رجب، ان کے رشتہ داروں اور امدادی طبی عملے کی ہلاکتوں میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: دورۂ فرانس میں وزیر اعظم مودی نے نور عنایت خان کی قربانی کو یاد کیا

ہند رجب کی موت غزہ جنگ کے دوران سب سے زیادہ دستاویزی اور عالمی سطح پر زیرِ بحث آنے والے واقعات میں شمار کی جاتی ہے۔ اسرائیل نے اکتوبر۲۰۲۳ءمیں غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں شروع کیں۔ فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق، ان کارروائیوں میں ۷۳؍ ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق اورایک لاکھ۷۳؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ غزہ کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے۔ اگرچہ۱۰؍ اکتوبر۲۰۲۵ءسے جنگ بندی نافذ ہے، تاہم، فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیلی حملے اور پابندیاں جاری رہیں، جس کے نتیجے میں جنگ بندی کے بعد بھی ایک ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق اور۳؍ ہزار ۱۰۰؍سے زیادہ زخمی ہوئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK