Updated: July 29, 2026, 9:34 PM IST
| New Delhi
’دہلی ٹورزم اینڈ ٹرانسپورٹیشن ڈیولپمنٹ کارپوریشن‘ نے ایک کروڑ ۸۳ لاکھ ۵ ہزار ۲۰۰ روپے میں تمام ۸ پروگراموں کے انعقاد کا کانٹریکٹ ’ٹوٹل ملٹی میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کو دیا۔ ریکھا گپتا حکومت نے ’بھجن کلبنگ‘ کو ”ثقافتی رینائسنس“ (ثقافتی بیداری) کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پروگرام عقیدت کو جدید موسیقی اور ”نوجوانوں کی توانائی“ کے ساتھ ملاتے ہیں۔
’نیوز لانڈری‘ نے ایک آر ٹی آئی جواب کے حوالے سے بتایا کہ دہلی حکومت کے محکمۂ سیاحت نے فروری میں دہلی یونیورسٹی کے کالجوں میں منعقدہ ’بھجن کلبنگ‘ (Bhajan Clubbing) کی ۸ تقاریب پر ۸۳ء۱ کروڑ روپے خرچ کئے۔ یہ اخراجات سیاحت کے فروغ کے اقدام ”دہلی ایک منزل کے طور پر“ (Delhi as a destination) کے تحت کئے گئے۔
رپورٹ کے مطابق، ’دہلی ٹورزم اینڈ ٹرانسپورٹیشن ڈیولپمنٹ کارپوریشن‘ (DTTDC) نے ایک کروڑ ۸۳ لاکھ ۵ ہزار ۲۰۰ روپے میں تمام ۸ پروگراموں کے انعقاد کا کانٹریکٹ ’ٹوٹل ملٹی میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کو دیا۔ یہ تقاریب ۱۰ فروری سے ۱۹ فروری کے درمیان رام جس کالج، دین دیال اپادھیائے کالج، اے آر ایس ڈی کالج، شہید سکھ دیو کالج، شیام لال کالج، پی جی ڈی اے وی کالج، یونیورسٹی اسٹیڈیم اور شیواجی کالج میں منعقد کی گئیں۔ ان تقاریب میں لیلا بینڈ، راگھو راجہ بینڈ، سادھو بینڈ، رہسیہ بینڈ، اور کیشوم بینڈ جیسے بینڈز نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: فوڈ کارپوریشن نے ایتھنال پلانٹس کو خریداری لاگت سے کم قیمت پر چاول بیچا : مرکز
ریکھا گپتا حکومت نے ’بھجن کلبنگ‘ کو ”ثقافتی رینائسنس“ (ثقافتی بیداری) کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پروگرام عقیدت کو جدید موسیقی اور ”نوجوانوں کی توانائی“ کے ساتھ ملاتے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ نے افتتاح کے موقع پر کہا کہ ”جب مودی جی نے اپنے ’من کی بات‘ پروگرام میں اس کے بارے میں بات کی تھی، تو ہم سوچ رہے تھے کہ ہم دہلی میں یہ کہاں کر سکتے ہیں۔ دہلی یونیورسٹی سے بہتر کوئی جگہ نہیں ہو سکتی تھی۔“
کلبنگ کی اجازت، مظاہروں پر پابندی
یہ تقاریب دہلی یونیورسٹی میں سیاسی طور پر کشیدہ دور میں منعقد کی گئی تھیں۔ ۸ میں سے ۵ پروگرام ۱۲ سے ۱۴ فروری تک ’دہلی یونیورسٹی لٹریچر فیسٹیول‘ کے دوران منعقد کئے گئے۔ اسی دوران، ’آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن‘ (AISA) نے ”پیپلز لٹریچر فیسٹیول“ کا انعقاد کیا جو پرتشدد واقعات جیسے مؤرخ عرفان حبیب پر حملہ اور آئیسا (AISA) کی ’ادھیکار ریلی‘ کے ارد گرد ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے سرخیوں میں آگیا تھا۔ ان واقعات کے چند دن بعد، ۱۷ فروری کو دہلی یونیورسٹی نے مظاہروں پر ایک ماہ کی پابندی عائد کر دی، لیکن ’بھجن کلبنگ‘ کی تقاریب کی ”نوجوانوں کی توانائی“ کو اجاگر کرنا جاری رکھا۔
یہ بھی پڑھئے: ’کچو پچو‘ سے ’واستے گنا ہوئیا‘ تک؛ جین زی زبان پارلیمانِ ہند تک پہنچ گئی
آر ٹی آئی کے مطابق، یہ تقاریب عام عوام کیلئے کھلی نہیں تھیں اور ان میں شرکت کیلئے پہلے سے رجسٹریشن کی ضرورت تھی، جو صرف طلبہ اور فیکلٹی ممبران تک محدود تھی۔ ڈی ٹی ٹی ڈی سی کے ترجمان سنجیو چھاگھ نے ’نیوز لانڈری‘ کو بتایا کہ ان تقاریب کا انعقاد ”ڈی یو کے طلبہ کو شامل کرنے اور انہیں ہماری ثقافت کے بارے میں بتانے کیلئے“ کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ کالج کے ان بند پروگراموں نے سیاحت کے فروغ کے اقدام کے مقاصد کو کیسے پورا کیا۔