Updated: September 14, 2026, 5:28 PM IST
| New Delhi
ملائیشیا کے وزیرِاعظم انور ابراہیم نے برکس سربراہی اجلاس میں اسرائیل کی کارروائیوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قبضے، آبادکار نوآبادیاتی نظام اور آبادکار دہشت گردی کو مسترد کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت تک پہنچ رہے ہیں، اس لئے برکس کو مشترکہ اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
ملائیشیا کے وزیرِاعظم انور ابراہیم نے اتوار کو نئی دہلی میں منعقدہ برکس (BRICS) کے سالانہ سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برکس کو اسرائیل کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں کی جانے والی ’’جارحیت‘‘ کے تناظر میں ’’قبضے، آبادکار نوآبادیاتی نظام اور آبادکار دہشت گردی‘‘ کو واضح طور پر مسترد کرنا چاہئے کیونکہ اس کے اثرات براہِ راست تنازع میں شامل فریقوں سے کہیں آگے تک پہنچ رہے ہیں۔ انور ابراہیم نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر جاری بیان کے مطابق کہا، ’’برکس کو واضح اور دوٹوک انداز میں کہنا چاہیے کہ قبضہ، آبادکار نوآبادیاتی نظام اور بالخصوص ’آبادکار دہشت گردی‘ کسی قوم کا مقدر نہیں بن سکتی، اور کسی انسان کی زندگی اس جگہ کی وجہ سے کم اہم نہیں ہو سکتی جہاں وہ رہتا ہے۔ ‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’ہم جامع ترقی اور خوشحالی کی بات نہیں کر سکتے، جبکہ جنگ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہو اور ان بحری راستوں کو خطرے میں ڈال رہی ہو جن پر ہماری معیشتوں کا انحصار ہے۔ ‘‘انور ابراہیم نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی ’’جارحیت‘‘ کے اثرات براہِ راست تنازع میں شامل فریقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اس سے افراطِ زر اور غیر یقینی صورتِ حال میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی، جس کے بعد تہران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی تنصیبات کی میزبانی کرنے والے ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کئے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے بند کرنے کا بھی اعلان کیا، جس سے عالمی توانائی اور تجارتی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر خلل پیدا ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: وزیر اعظم کے پاس بہار کیلئے وقت نہیں: تیجسوی
انور ابراہیم نے ملائیشیا کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملک خودمختاری کے احترام، شہریوں کے تحفظ اور عالمی اقتصادی شہ رگوں کو جنگ کے میدان سے دور رکھنے کا حامی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، لیکن ترقی پذیر دنیا کے بڑے حصے کے لیے معاشی فوائد اب بھی ناقابلِ رسائی ہیں۔ بہت سے ممالک قرضوں کے بحران کا شکار ہیں یا اس کے سنگین خطرے سے دوچار ہیں۔ انہوں نے ’’جامع عالمی ترقی کے لیے لچک، جدت، تعاون اور پائیداری: مستقبل کی تشکیل‘‘ کے عنوان سے منعقدہ کھلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برکس کی مشترکہ مارکیٹ کی طاقت تجارت کو متنوع بنانے اور روایتی مغربی منڈیوں پر انحصار کم کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ برکس کو ’’غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کے ذریعے مشترکہ طور پر کام کرنا، ترقی کے تجربات کا تبادلہ کرنا اور سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمیت ابھرتے ہوئے شعبوں میں تکنیکی تعاون اور تربیت کو مضبوط بنانا چاہئے۔ ‘‘انور ابراہیم نے کہا کہ مالی معاونت بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہونی چاہیے، لیکن اس کے نتیجے میں ممالک ناقابلِ برداشت قرضوں کے بوجھ تلے نہیں دبنے چاہئیں۔ انہوں نے نیو ڈیولپمنٹ بینک، مقامی کرنسیوں میں لین دین اور اسلامی کیپٹل مارکیٹس کے ذریعے اقدامات کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماحول دوست معیشت کی جانب منتقلی میں مختلف ممالک کے حالات، ترقی کے مراحل اور رفتار کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
برکس کے توسیع شدہ ۱۱؍رکنی گروپ میں برازیل، روس، ہندوستان، چین، جنوبی افریقہ، مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ ویتنام کے علاوہ بیلاروس، بولیویا، قازقستان، کیوبا، ملائیشیا، نائیجیریا، تھائی لینڈ، یوگنڈا اور ازبکستان نے۲۰۲۵ء میں برکس کے شراکت دار ممالک کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی۔ سنیچر کو برکس نے ’’نئی دہلی اعلامیہ‘‘ منظور کیا، جس میں ابھرتی ہوئی منڈیوں، ترقی پذیر ممالک اور برکس کے شراکت دار ممالک کے ساتھ تعاون مزید مضبوط بنانے کا عہد کیا گیا۔