Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا الیکشن کمیشن آرٹیکل ۳۲۴؍ کی آڑ میں جو چاہے کرسکتا ہے؟ دہلی ہائی کورٹ

Updated: July 25, 2026, 6:33 PM IST | New Delhi

دہلی ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ کیا آپ آرٹیکل ۳۲۴؍کے سایے میں جو چاہیں کر سکتے ہیں؟عدالت نے یہ سوال اساتذہ کو ایس آئی آر کیلئے تعینات کئے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے الیکشن کمیشن سے پوچھا۔

Delhi High Court. Photo: INN
دہلی ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

دہلی ہائی کورٹ نے چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا کی بنچ نے ایک درخواست کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن سے پوچھا، ”آرٹیکل ۳۲۴؍کی آڑ لے کر کیا آپ جو چاہیں کر سکتے ہیں؟“ یہ درخواست اس اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ آرٹیکل ۳۲۴؍ الیکشن کمیشن کو پارلیمان اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کی نگرانی، ہدایت اور کنٹرول کا اختیار دیتا ہے۔الیکشن کمیشن گھر گھر جا کر شماریات اور پرانے ووٹر ڈیٹا کی تصدیق کے ذریعے ووٹروں کی فہرستوں میں ترمیم کی اس خصوصی مہم کو انجام دے رہا ہے۔جمعہ کو عدالت نے وکیل راجیش کمار گوگنا اور اشوک اگروال کی اس درخواست پر سماعت کی، جس میں الزام لگایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے کچھ سرکاری اسکولوں کے تمام باقاعدہ اساتذہ کو ووٹر فہرست کی ترمیم کے لیے بوتھ لیول آفیسر مقرر کر دیا ہے۔درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ ایسے اسکولوں میں کلاس مہمان اساتذہ یا ان لوگوں کے سپرد کر دی گئی ہیں جو مضامین سے واقف نہیں ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ووٹر فہرست کی ترمیم کا کام چھٹیوں یا غیر تدریسی اوقات تک محدود نہیں ہے۔درخواست گزاروں نے یہ بھی کہا کہ یہ طریقہ کار امتیازی ہے، کیونکہ صرف سرکاری اسکولوں، بلدیہ اسکولوں اور سرکاری امداد یافتہ اسکولوں کے اساتذہ کو ہی اس کام کے لیے متعین کیاگیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر انٹرنیٹ بندش کے خلاف پی آئی ایل، دہلی ہائی کورٹ فوری سماعت پر آمادہ

بعد ازاں الیکشن کمیشن کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل سنجے وششٹھ نے عدالت کو بتایا کہ کمیشن نے اساتذہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ووٹر فہرست کی ترمیم کا کام اسکول کے اوقات کے بعد یا اپنی چھٹیوں پر کریں۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ مہم تقریباً ختم ہو چکی ہے، اور ہر ممکن کوشش کی گئی ہے کہ باقاعدہ تدریسی کام میں کوئی خلل نہ آئے۔“تاہم، عدالت نے الیکشن کمیشن سے پوچھا کہ اساتذہ اپنی چھٹیوں کے حقدار کیوں نہیں ہیں؟ بنچ نے پوچھا: ”کیا انہیں آرام کی ضرورت نہیں؟“
دریں اثناء عدالت نے الیکشن کمیشن کو۲۷؍ جولائی تک حلف نامہ جمع کرانے کی ہدایت کی اور اس معاملے کی مزید سماعت۲۸؍ جولائی کو رکھی۔واضح رہے کہ۱۵؍ جولائی کو الیکشن کمیشن نے دہلی میں گھر گھر ووٹروں کی تصدیق کی مہلت۱۰؍ دن بڑھا دی تھی۔جبکہ یہ عمل۳۰؍ جون کو شروع ہوا تھا اور  ۲۹جولائی کو ختم ہونا تھا، لیکن اب یہ۸؍ اگست تک جاری رہے گا۔یہ ووٹر فہرستوں کی ترمیم خصوصی ترمیمی مہم کے تیسرے مرحلے میں قومی دارالحکومت میں کی جا رہی ہے۔ اس مرحلے کے ساتھ، یہ مہم ہماچل پردیش، جموں و کشمیر اور لداخ کے علاوہ پورے ملک کا احاطہ کر لے گی۔

یہ بھی پڑھئے: نیٹ امتحان میں توقع کے برخلاف نتائج ،عدالت نے نوٹس جاری کیا

تاہم الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ان خطوں میں ترمیم کا شیڈیول مردم شماری اور ناموافق موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے بعد میں جاری کیا جائے گا۔۲۰۲۵ء میں، ووٹر فہرست ترمیم کی مہم کا پہلا مرحلہ بہار میں اور دوسرا مرحلہ۱۲؍ ریاستوں اور مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں کروایا گیا تھا۔اس مہم کے بارے میں خدشات ظاہر کیے گئے ہیں کہ اس سے مستحق ووٹروں کو فہرست سے خارج کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ اس ووٹر فہرست ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں بھی متعدد درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK