Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار احتجاج: پولیس کریک ڈاؤن، ۴۰۰؍ سے زائد مظاہرین گرفتار

Updated: July 27, 2026, 4:31 PM IST | Patna

NEET پرچہ لیک کے خلاف منعقدہ بہار بند کے بعد ریاست بھر میں پولیس کارروائیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔ مختلف اضلاع سے ۴۰۰؍ سے زائد افراد کو گرفتار یا حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے احتجاج میں شریک مزید افراد کی شناخت کے لیے تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ ادھر اپوزیشن جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے کارروائی کو سخت قرار دیتے ہوئے گرفتار افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

Police trying to stop protesters during a protest in Bihar. Photo: INN
بہار میں احتجاج کے دوران پولیس ، مظاہرین کو روکنے کی کوشش کررہی ہے۔ تصویر: آئی این این

نیٹ پرچہ لیک کے خلاف بہار بند کے دوران ہونے والے احتجاج کے بعد ریاستی پولیس نے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ مختلف اضلاع میں کی گئی کارروائیوں کے دوران ۴۰۰؍ سے زائد مظاہرین کو گرفتار یا حراست میں لیا گیا، جبکہ کئی دیگر افراد کی شناخت کے لیے پولیس نے احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز کی بنیاد پر تلاش کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ احتجاج سے متعلق متعدد ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ قانون توڑنے والوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ رپورٹس کے مطابق پولیس نے پٹنہ، سیوان، چھپرا، اورنگ آباد سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کے دوران مبینہ طور پر تشدد، سڑکوں کی ناکہ بندی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس پر پتھراؤ کے الزامات میں کارروائیاں کیں۔ کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جہاں لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: تلنگانہ :الیکشن میں حصہ لینے کی عمر ۲۵؍سے ۲۱؍ کرنے پر غور

مکتوب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاست بھر میں پولیس نے احتجاج میں شریک افراد کی تصاویر جاری کرتے ہوئے عوام سے ان کی شناخت میں مدد کی اپیل کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرفتار افراد کی مجموعی تعداد ۴۰۰؍ سے تجاوز کر گئی ہے اور مزید افراد کے خلاف کارروائی کا امکان ہے۔ تاہم اس تعداد کی سرکاری سطح پر مکمل تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ دوسری جانب وکلا اور طلبہ تنظیموں نے الزام لگایا ہے کہ متعدد طلبہ کو ۲۴؍ گھنٹے سے زیادہ مختلف تھانوں میں رکھا گیا اور کئی خاندانوں کو فوری طور پر ان کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق صرف پٹنہ میں ہی تقریباً ۲۰۰؍ طلبہ کو حراست میں لیا گیا تھا، جس پر قانونی ماہرین نے تشویش ظاہر کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مودی سرکار کو اَب لاٹھی چارج پر جوابدہی کا سامنا

سیاسی ردعمل بھی تیزی سے سامنے آ رہا ہے۔ راشٹریہ جنتا دل (RJD) کے لیڈر تیجسوی یادو نے گرفتار طلبہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر انہیں رہا نہ کیا گیا تو ریاست گیر احتجاج مزید وسیع کیا جائے گا۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ طلبہ کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک مناسب نہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ قانون شکنی اور تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ناگزیر تھی۔ یہ کارروائیاں ایسے وقت میں جاری ہیں جب بہار کے سیوان میں احتجاج کے دوران ایک پولیس اہلکار کی AK-47 سے فائرنگ کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد اسے معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ اس واقعے پر سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کی جا چکی ہے۔ اسی طرح دہلی میں CJP کے ’’چلو پارلیمنٹ‘‘ مارچ کے دوران طاقت کے استعمال، پیلٹ گن کے مبینہ استعمال اور پولیس کارروائیوں پر بھی عدالتی اور محکمانہ تحقیقات جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد سوشل میڈیا پرمیمز کا طوفان، گڈکری اگلا نشانہ

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران تشدد یا املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں، تاہم پرامن مظاہرین اور تشدد میں ملوث افراد کے درمیان واضح فرق بھی برقرار رکھا جانا چاہیے تاکہ آئینی حقِ احتجاج اور قانون نافذ کرنے کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم رہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK