Updated: September 22, 2026, 5:33 PM IST
| New Delhi
دہلی کی کرکڑدومہ عدالت نے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے مقدمے میں زیرِ حراست شرجیل امام کو کزن بھائیوں کی شادی میں شرکت کیلئے سات روز کی عبوری ضمانت دے دی۔ عدالت نے ضمانت کے ساتھ متعدد شرائط عائد کرتے ہوئے انہیں ۱۰؍ اکتوبر کو دوبارہ جیل حکام کے سامنے خودسپردگی کی ہدایت دی۔
شرجیل امام۔ تصویر: آئی این این۔
دہلی کی کرکڑدومہ عدالت نے منگل کو شرجیل امام کو اپنے دو کزن بھائیوں کی شادی میں شرکت کیلئے۴؍ سے۱۰؍ اکتوبر تک سات روز کی عبوری ضمانت دے دی۔ شرجیل امام نے نئی دہلی اور بہار میں ہونے والی شادی کی تقریبات میں شرکت کیلئے عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپائی نے۵۰؍ ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کی ایک ضمانت پیش کرنے سمیت مختلف شرائط پر سات روز کی عبوری ضمانت منظور کی۔
عدالت نے شرجیل امام کو ہدایت دی کہ وہ۱۰؍ اکتوبر کی شام جیل حکام کے سامنے دوبارہ خودسپردگی کریں۔ عدالت نے کہا کہ یہ شرجیل امام کی عبوری ضمانت کی دوسری درخواست ہے اور وہ اپنے حقیقی کزن بھائیوں کی شادی میں شرکت کرنا چاہتے ہیں، اس صورت حال میں انہیں عبوری ضمانت دی جا رہی ہے۔ عدالت نے ضمانت کے ساتھ کئی شرائط بھی عائد کی ہیں۔ شرجیل امام کو مقدمے سے متعلق کسی شخص یا گواہ سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ وہ سوشل میڈیا کا استعمال بھی نہیں کر سکیں گے اور اپنے اہل خانہ کے علاوہ کسی دوسرے شخص سے ملاقات نہیں کر سکیں گے۔ شرجیل امام نے اپنے وکلا احمد ابراہیم اور عائشہ زیدی کے ذریعے درخواست دائر کرکے۳۰؍ ستمبر سے۱۳؍ اکتوبر تک دو ہفتے کی عبوری ضمانت مانگی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ دانش امام اور فہد امام کی شادی کی تقریبات۴؍ اکتوبر کو دہلی اور۷؍ اکتوبر کو بہار کے ساسارام میں ہوں گی۔
یہ بھی پڑھئے: صابن، شیمپو اور ٹوتھ پیسٹ پر ویجیٹیرین اور نان ویجیٹیرین لیبل لگانا لازمی
دہلی پولیس نے عدالت میں جواب داخل کرکے شادیوں کی تصدیق کی تھی۔ تاہم خصوصی سرکاری وکیل انیرودھ مشرا نے عبوری ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ شرجیل امام کے خلاف الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور عدالت ان کی مستقل ضمانت کی درخواست متعدد مرتبہ مسترد کر چکی ہے۔ سرکاری وکیل نے یہ دلیل بھی دی کہ شادی کی تقریبات میں شرجیل امام کی موجودگی یا ان کی جانب سے کسی مالی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرجیل امام کے کئی کزن ہیں اور اگر شادی کی بنیاد پر ضمانت دی گئی تو وہ مستقبل میں بھی اسی بنیاد پر بار بار عبوری ضمانت کی درخواست کر سکتے ہیں۔ شرجیل امام۲۰۲۰ء کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے مقدمے میں ملزم ہیں۔ استغاثہ کے مطابق فروری۲۰۲۰ء میں ہونے والے ان فسادات میں ۵۳؍ افراد ہلاک اور۷۰۰؍ سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ شرجیل امام کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، یعنی یو اے پی اے کے تحت فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔ ان کی مستقل ضمانت کی درخواست دہلی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ عمر خالد اور شرجیل امام دونوں پر یو اے پی اے کے تحت فروری۲۰۲۰ء کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ یہ تشدد شہریت ترمیمی قانون۲۰۱۹ءاور مجوزہ قومی شہری رجسٹر کے خلاف جاری احتجاج کے دوران شروع ہوا تھا۔