Updated: March 20, 2026, 6:05 PM IST
| New Delhi
مغربی ایشیا میں جاری تنازع اور عالمی تیل و گیس کی بڑھتی قیمتوں کے باعث ہندوستانی روپیہ تاریخی گراوٹ کا شکار ہو کر۹۳؍ فی ڈالر کی سطح عبور کر گیا۔ اس معاشی دباؤ کے باوجود سوشل میڈیا پر صارفین نے طنز و مزاح کے ذریعے صورتحال کو بیان کرتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ آرہی ہے۔ تصویر: آئی این این
جمعہ کو ہندوستانی روپیہ ایک نئی ریکارڈ کم ترین سطح تک گر گیا، مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے باعث امریکی ڈالر کے مقابلے میں ۹۳؍ کی حد عبور کر گیا۔ ابتدائی کاروبار میں ہندوستانی کرنسی۱۹؍ پیسے گر کر۹۳ء۰۸؍کی انٹرا ڈے کم ترین سطح تک پہنچ گئی۔ انٹر بینک فارن ایکسچینج مارکیٹ میں روپیہ۹۲ء۹۲؍ پر کھلا تھا۔ بدھ کو عالمی ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے خدشات کے باعث یہ۴۹؍ پیسے گر کر۸۹ء۹۲؍ کی ریکارڈ کم ترین سطح پر بند ہوا تھا۔ جمعرات کو گڑی پاڑوا کے تہوار کی وجہ سے ملکی فارن ایکسچینج مارکیٹ بند رہی۔ غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے بھی اس تنازع کے دوران ہندوستانی ایکویٹیز میں فروخت تیز کر دی ہے جس سے کرنسی پر مزید دباؤ پڑا ہے۔ جب عالمی فنڈز ہندوستانی مارکیٹ سے سرمایہ نکالتے ہیں تو روپیہ کمزور ہو جاتا ہے۔ مغربی ایشیا میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی فوج کا پٹن، بارہمولہ میں یتیم بچوں کے لیے پرتکلف افطار کا اہتمام
روپے کی قدر گرنے پر سوشل میڈیا صارفین کا رد عمل
جہاں ماہرین نے روپے گرنےکی وجہ عالمی سطح پر خام تیل کی بڑھتی قیمتوں اور مغربی ایشیا میں جاری جغرافیائی کشیدگی کو قرار دیا، وہیں سوشل میڈیا صارفین نے اس اداسی کو مزاح کے ذریعے توڑ دیا اور مودی حکومت کو نشانہ بنایا۔ ایک صارف نے ایکس پر لکھا:’’جس شخص نے ۲۰۱۳ءمیں روپے کی گراوٹ کا مذاق اڑایا تھا، اس نے خود اسے۵۹؍ فیصد تک گرا دیا۔ تسلسل دیکھیں !‘‘اور ساتھ تالیاں بجانے والا ایموجی بھی شامل کیا۔
ایک خاص حوالہ اُس وقت کا دیا گیا جب گجرات کے وزیرِ اعلیٰ کے طور پر مودی نے اُس وقت کے وزیرِ اعظم منموہن سنگھ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ روپے اور حکومت کے درمیان مقابلہ چل رہا ہے کہ کون پہلے گرے گا۔ اس موقع پر بی جے پی کےلیڈروں کو بھی سوشل میڈیا پر خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔
ایک صارف نے بنگلورو سے بی جے پی کے رکنِ پارلیمنٹ تیجسوی سوریا کی۲۰۱۳ءکی پوسٹ کا حوالہ دیا: ’’جب میں صبح واک پر نکلا تو روپیہ ۶۳؍ تھا، ناشتہ کرتے کرتے۶۴؍ ہو گیا۔ دوپہر تک نہ جانے کہاں پہنچے گا!‘‘
کسی نے اسی پوسٹ کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے لکھا:’’ابھی اٹھا ہوں اور دیکھا کہ یہ ۹۳؍ہو چکا ہے۔ ‘‘اور ساتھ سوریا کو ٹیگ بھی کیا۔
ایک اور صارف نے طنز کیا:’’جب روپیہ۶۳؍ تھا تو تیجسوی سوریا فکر مند تھے، اور جب۹۳؍ ہے تو وہ اسے قوم کیلئے فخر کا لمحہ قرار دینے کے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔ ‘‘
ایک اور نے مزاحیہ انداز میں روپے کی قدر کو ایف ایم ریڈیو اسٹیشن سے تشبیہ دی:۳۰ء۹۳؍ ایسا لگ رہا ہے جیسے روپیہ نہیں بلکہ کوئی ایف ایم اسٹیشن ہو۔ ‘‘ایک صارف نے تو اس مزاحیہ جنگ میں ’’دھرندھر ۲‘‘کو بھی شامل کر لیا۔ اس نے لکھا:’’روپیہ اپنی کم ترین سطح پر ہے، اسٹاک مارکیٹ گر رہی ہے، ایل پی جی کی قلت ہے، مگر آئیں ’دھرندھر۲‘ کیلئے قطار میں لگتے ہیں۔ آخر توجہ ہٹانا جوابدہی سے بہتر کام کرتا ہے، اور پروپیگنڈا باقی کام کر لے گا۔ ‘‘
جس پر ایک اور صارف نے جواب دیا:’’مطلب لوگ جینا چھوڑ دیں ؟ سارا دن بیٹھ کر روتے رہیں ؟‘‘
ایک صارف نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں بیرونِ ملک مقیم ہندوستانی (این آر آئیز) ’’مودی، مودی‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ انصاف کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے کیونکہ ان کی بھیجی ہوئی رقوم (remittances) ہندوستان میں ان کے عزیزوں کیلئے مزید قیمتی ہو جاتی ہیں۔