Updated: July 03, 2026, 9:40 PM IST
| Ghaziabad
انیل یادو نے خود کو نرسنگھانند کا ”سایہ“ قرار دیا اور کہا کہ ہندوؤں پر حملے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے سنگھار (خاتمے) کے اپنے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ ”جو بھی اسے پہلے کرے گا وہ یہ جنگ جیت جائے گا۔“ اس کے بعد انہوں نے ایک نظم پڑھی جس میں ”غداروں“ کی موت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
یتی نرسنگھانند اور انیل یادو۔ تصویر: ایکس
آلٹ نیوز (Alt News) کی ایک رپورٹ کے مطابق، اتر پردیش کے شہر غازی آباد میں داسنا دیوی مندر کے سربراہ پجاری یتی نرسنگھانند سرسوتی کی جانب سے منعقدہ ہندو مہاپنچایت میں ان کے قریبی ساتھی انیل یادو، جنہیں ”چھوٹے نرسنگھانند“ بھی کہا جاتا ہے، نے مسلمانوں کی ”نسل کشی“ یا ’’نرسنگھار‘‘ (خاتمے) کا مطالبہ کیا۔
۲۱ جون کا یہ اجتماع، نرسنگھانند کی طرف سے جاری کردہ ایک ویڈیو کے چند دن بعد منعقد ہوا جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ دیوبند سے وابستہ دو مسلم علماء اور سماجوادی پارٹی کے ایک رکنِ پارلیمنٹ جہاد اور ’غزوہ ہند‘ کو فروغ دے رہے ہیں۔ مہاپنچایت میں نرسنگھانند نے ہندوؤں پر زور دیا کہ وہ اس خطرے کے خلاف ”اپنے لئے کھڑے ہوں۔“ انہوں نے اسے ناگزیر قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: مدھیہ پردیش: لنچنگ فیصلے کے بعد جج کو دھمکی، ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لیا
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، یادو نے خود کو نرسنگھانند کا ”سایہ“ قرار دیا اور الزام لگایا کہ ہندوؤں پر حملے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ کمیونٹی کو مضبوط کرنے کیلئے ہندوؤں کی آبادی میں اضافہ ضروری ہے۔ انہوں نے مئی میں غازی آباد میں ۱۷ سالہ سوریا پرتاپ چوہان کے قتل اور اس کے بعد ہونے والے پولیس مقابلے کا حوالہ دیا جس میں اہم ملزم اسد مارا گیا تھا۔ کوئی ثبوت فراہم کئے بغیر یادو نے دعویٰ کیا کہ ملزم کے حامی انتقام کے خواہاں ہیں اور ان کی تعداد ہندوؤں سے زیادہ ہے۔ انہوں نے بین المذاہب شادیاں کرنے کے خلاف بھی ریمارکس دیئے۔ یادو نے مسلمانوں کے سنگھار (خاتمے) کے اپنے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ ”جو بھی اسے پہلے کرے گا وہ یہ جنگ جیت جائے گا۔“ اس کے بعد انہوں نے ایک نظم پڑھی جس میں ”غداروں“ کی موت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ان تقاریر پر بڑے پیمانے پر تنقید کے بعد، نرسنگھانند نے ۲۵ جون کو ایک اور ویڈیو جاری کیا جس میں انہوں نے یادو کے بیان کی حمایت کا اظہار کیا۔ اس ویڈیو میں انہوں نے غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی تعریف کی اور دعویٰ کیا کہ ہندوستان میں ان کے بقول ”جہادیوں“ کے خلاف اسی طرح کی کارروائی کرنے کی ہمت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: املنیر: قدیم مندر میں آتشزدگی ،مسلم نوجوان آگ بجھانے میں پیش پیش رہے
واضح رہے کہ یتی نرسنگھانند سرسوتی اور انیل یادو دونوں نفرت انگیز تقاریر کی طویل مجرمانہ تاریخ رکھتے ہیں۔ نرسنگھانند کو جنوری ۲۰۲۲ء میں ہریدوار دھرم سنسد میں کی گئی تقاریر کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جہاں انہوں نے مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف تشدد کی ترغیب دی تھی۔ ۲۰۲۴ء میں، ان دونوں کو اتر پردیش پولیس نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں اشتعال انگیز تبصرہ کرنے پر گرفتار کیا تھا۔